مہمان بہرصورت یہ نوٹ دے کر ہی جاتا۔
٭شادی بیاہوں میں سارا محلہ شریک ہوتا تھا۔ شادی غمی میں آنے جانے کے لیے ایک جوڑا کپڑوں کا علیحدہ سے رکھا جاتا تھا جو اِسی موقع پر استعمال میں لایا جاتا تھا۔ جس گھر میں شادی ہوتی تھی اْن کے مہمان اکثر محلے کے دیگر گھروں میں ٹھہرائے جاتے تھے۔ محلے کی جس لڑکی کی شادی ہوتی تھی بعد میں پورا محلہ باری باری میاں بیوی کی دعوت کرتا تھا۔
٭کبھی کسی نے اپنا عقیدہ کسی پر تھوپنے کی کوشش نہیں کی، کبھی کافر کافر کے نعرے نہیں لگے، سب کا رونا ہنسنا سانجھا تھا، سب کے دْکھ ایک جیسے تھے ۔
٭نہ کوئی غریب تھا نہ کوئی امیر ، سب خوشحال تھے۔ کسی کسی گھر میں بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی ہوتا تھا اور سارے محلے کے بچے وہیں جاکر ڈرامے دیکھتے تھے۔
٭دوکاندار کے پاس کھوٹا سکا چلا دینا ہی سب سے بڑا فراڈ سمجھا جاتا۔
…کاش پھر وہ دن لوٹ آئیں"
شاعر کہتا ہے۔میرے میسج سنبھال کے رکھنا ۔میرے بعد ان میں بوسیدہ پیار تمہیں سکون دے گا۔مگر وہ محب کیا کرے۔جس کے محبوب کی آئی ڈی ہی اڑ گئی ہو۔۔میسج بھی غائب۔۔
" تم جیسی لڑکی پھولوں کی تاریخ میں
دوبارہ نہیں دُہرائی جائے گی ۔
ﮔﻨﮕﻨﺎﺗﮯ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﮎ ﻓﻘﯿﺮ
دُھوپ رہتی ﮨﮯ، ﻧﮧ ﺳﺎﯾﮧ ﺩﯾﺮ ﺗﮏ
مستنصرحسین تارڑ صاحب کہتے ہیں " جیسے وسیع آنگن میں دُھوپ زیادہ اُترتی ہے، ایسے فراخ دلوں میں مسرّت زیادہ اترتی ہے۔ "
ﺯَﻣﯿﻨﯽ ﺑﺮﻕ ، ﺑﺮﻕِ ﺣُﺴﻦ ، ﺣُﺴﻦِ ﺷﻮﻕ ، ﺷﻮﻕِ ﻏﻢ
ﻏﻢِ ﺧﻮﺵ ﺭَﻧﮓ ، ﺭَﻧﮓِ ﮔُﻞ ، ﮔُﻞِ ﮔُﻠﻨﺎﺭ ﮨﮯ ﻟﯿﻠﯽٰ
یوسفی صاحب کہتے ہیں ایک دفعہ مجھے سخت بخار ہو گیا اور میں بے ہوش ہو گیا۔ جب میری آنکھ کھلی تو بیوی سے پوچھا۔ کیا میں جنت میں ہوں؟
بیوی نے کہا، اللّہ نہ کرے، کیا ہو گیا ہے آپ کو۔ دیکھ نہیں رہے کہ میں سامنے کھڑی ہوں۔
میں چاہتا ہوں آپ سے چپکے سے
بہت خاموشی سے محبت کروں
بس یوں ہی محبت کرتا جاؤں
یار اظہار سے بہت ڈر لگتا ہے
ٹکرائے جانے کی اذیت موت ہے
کسی کو پانا پاکر مطمئن رہنا
یہ انسان بہت کم برداشت کرتا ہے
تمہیں پتا ہے کتنے ایسے لوگ ہیں
جو ہم سے بہت محبت کرتے ہیں
ہماری تلخ رویوں
بے جاہ دکھاوے سے
ہم سے دور رہتے
ہیں
انہیں ڈر لگا ہوتا ہے کہ وہ
جب اظہارِ محبت کریں گے
تب کیا ہوگا
ٹکرائے جائیں گے
پھر انکے پاس کیا بچیگا
وہ جو محبت کی ایک کیف ہے
جس میں وہ برسوں سے جیتے آرہے ہیں
وہ کیف بھی رخصت ہوگی
بالکل تہیہ دامن ہوکر رہیں گے
نا امید مفلس مسترد
دھتکارے ہوئے
انکا یہ ڈر بھی بجا ہے
مجھے بھی بہت ڈر لگتا ہے
البتہ میں اب بھی محبت کرتا ہوں
لیکن اظہار کی سکت نہیں رکھتا
خوب صورت لوگ طرح طرح کے ہوتے ہیں!
کچھ لوگ بس دلدار ہوتے ہیں!
کچھ ہوتے ہیں، بالکل نویں نکور، چھوئی موئی، دیکھنے سے میلے ہونے والے، نوک پلک سنوری ہوئی، ادائیں، غمزے، ایک رقص سا ساتھ ساتھ چلتا ہے.
مگر کچھ لوگ اور طرح کے ہوتے ہیں!
بھدے، ٹوٹے پھوٹے، چھلنی، بے ڈھب، سکریچ لگے ہوئے، خراشوں سے سجے، جنہیں زندگی نے کچھ اس طور سے پہنا کہ جب اتارا تو لیرو لیر کردیا!
خوب صورت شاید پہلے والے بھی ہوتے ہیں، مگر مجھے دلدار دوسرے والے لگتے ہیں.
ہاں اس ٹوٹی، گھسی، پٹی، تھکی تھکائی پنسل جیسے! کہ زندگی پورے وجود سے جینے کا حق اسی طرح ادا ہوتا ہے.
تو اس پنسل جیسے لوگو، تم جہاں بھی موجود ہو، تم خوب صورت ہو
مشہور سائنسداں آئن اسٹائن ایک مرتبہ بس میں سفر کر رہے تھے. انہوں نے اپنے ہینڈ بیگ سے کچھ ضروری کاغذات نکال کر پڑھنا چاہے تو خیال آیا کہ اپنا چشمہ تو گھر بھول آئے ہیں. مجبورا ساتھ بیٹھے ہوئے شخص سے کہا، "ازراہ کرم! ذرا یہ کاغذات پڑھ دیجیے."
اس شخص نے مسکراتے ہوئے کہا، "جناب! میں بھی آپ کی طرح جاہل ہوں."
فزکس والے تو یہ بات جانتے ہی نہیں
گریوٹی سے زیادہ کشش ہوتی ہے آنکھوں میں
"محبت"
مجھے نہیں پتہ محبت کیا ہے
مگر
تمہارا ہونا مجھے سکون دیتا ہے
تمہارے نہ ہونے سے میں"گھٹنے"لگتا ہوں
کیا شخص تھا کہ جِس کو نہیں جیت پائے ہم
کیا شخص تھا کہ ہم سے جو ہارا نہیں گیا
ﺧﺎﻭﻧﺪ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﻓﻮﻥ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﮔﮭﮕﮭﯿﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ: "ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺑﻐﯿﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮦ ﺳﮑﺘﺎ، ﻣﻌﺎﻓﯽ ﺩﻭ ﺍﻭﺭ ﺁ ﺟﺎﺅ ﺭﺟﻮﻉ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ...."
ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺳﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ: "ﺫﺭﺍ ﺟﺎ ﮐﺮ ﮐﭽﻦ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﮔﻼﺱ ﺗﻮ ﺍﭨﮭﺎ ﻻﺅ....."
ﻣﺮﺩ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ: "ﮨﺮ ﭼﻨﺪ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻟﺘﺠﺎ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﻌﻠﻖ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺧﻮﺷﯽ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﮔﻼﺱ ﻟﯿﮑﺮ ﺁﺗﺎ ﮨﻮﮞ....."
ﮔﻼﺱ ﻻ ﮐﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ: "ﺍﺏ ﺍﺱ ﮔﻼﺱ ﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭﮞ......؟؟"
ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ
ﮐﮩﺎ: "ﺍﺳﮯ ﮐﮭﮍﮐﯽ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﻭ....." ﻣﺮﺩ ﻧﮯ ﺗﻌﻤﯿﻞ ﮐﯽ.....
ﭘﮭﺮ ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ: "ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﺍﺱ ﮔﻼﺱ ﮐﻮ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺳﮯ ﻭﯾﺴﮯ ﺑﻨﺎ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﻮ ﺟﯿﺴﮯ ﺍﺳﮯ ﮐﭽﻦ ﺳﮯ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﻻﺋﮯ ﺗﮭﮯ.....؟؟"
ﻣﺮﺩ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ: ﻣﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﻼﺳﭩﮏ ﮐﺎ ﮈﺳﭙﻮﺯﯾﺒﻞ ﮔﻼﺱ ﻻﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ....!!
ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ: ﺍﭼﮭﺎ ﭘﮭﺮ ﺟﻠﺪﯼ کرو، لینے آ جاؤ تب تک ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮ جاؤں......
نوٹ: کانچ کا گلاس گھر میں نہ رکھیں خاص طور پر جب فلاسفر قسم کی بیوی روٹھ کر گئی ہو
گم گشــــــــتہ
وہ ایک لمحہ جس میں تمہیں کسی نے اپنا محبوب ٹھہرایا وہ ایک لمحہ اب تلک دل میں رکا ہوا کیوں ہے
تمہیں ہمیں بلکہ ہم سب کو
اسی ایک ہی لمحے کی تلاش ہے
یہی ہم سب کا متاع گم گشتہ ہے______
ہم سب ملکے اسی ایک لمحے کو زمانے سے
کشید کرسکتے ہیں
ہم سب ایک دوسرے سے گھبرائے ہوئے ہیں
کوئی کسی پہ بھروسہ نہیں کرسکتا
ہم سب متشکک سر پھرے ہیں________
کوئی کھوکر پریشاں ہے
کوئی کھونے سے خائف ہے
کوئی پانے کو مضطرب ہے
ہم سب انتظار کی سولی پہ اٹکے لٹکے
کسی معجزے کا منتظر ہیں
اسی معجزے کا
جسے ہم سب مل کر تشکیل دے سکتے ہیں
وہ ہے بانٹنے کا معجزہ
دکھ غم حسرتیں خوشیاں_______
ہر کسی کو کوئی کندھا چائیے
رونے کو سہارنے کو
نکھارنے کو________
لیکن وہ ایک خدائی صفت سے موصوف کندھا
ابھی تک شرمندہ تخلیق ہوا ہی نہیں ہے
کیونکہ ہم میں سے ہر ایک دوسرے سے
پہل کرنے کا امید لیئے منتظر ہے
ہم سب معجزوں پہ یقین رکھتے ہیں
پر کوئی معجزہ تخلیق کرنا نہیں چاہتا_______
وہ ایک معجزہ جسکی ہم سب کو یکساں ضرورت ہے
بانٹنے کا معجزہ
خوشی غم دکھ
حسرتیں
یہی ہم سب کا متاع گم گشتہ ہے_
وہ سب سے خُوبصورت ہوگیا ھے
مجھے اُس سے محبت ہوگئی ھے !
خوبصورت رشتہ
خواتین و حضرات ! دعا انسان اور اس کے پروردگار میں ایک خوبصورت رشتہ ہے ، جو ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا ۔ دعا انرجی کی ایک بہت ہی طاقتور قسم ہے جو ایک عام شخص آسانی سے خود میں پیدا کر سکتا ہے ۔ دعا کا انسانی ذہن اور انسانی جسم پر ایسا ہی اثر ہوتا ہے جیسے غدودوں کے عمل کا ہوتا ہے ۔
اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مسلسل دعا کے بعد بدن میں ایک طرح کی لہر پیدا ہو جاتی ہے ۔
ذہنی قوت عود کر آتی ہے ۔ سکون پیدا ہو جاتا ہے ۔ اور انسانی رشتوں کے گہرے اور دور رس عوامل سمجھ میں آنے لگتے ہیں ۔
سچی عبادت ، دلی دعا ، اصل میں زندگی کا چلنا ہے ۔
سچی اور صراط مستقیم والی زندگی دعا سے معرض وجود میں آتی ہے ۔
اشفاق احمد زاویہ
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain