Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

مہمان بہرصورت یہ نوٹ دے کر ہی جاتا۔
٭شادی بیاہوں میں سارا محلہ شریک ہوتا تھا۔ شادی غمی میں آنے جانے کے لیے ایک جوڑا کپڑوں کا علیحدہ سے رکھا جاتا تھا جو اِسی موقع پر استعمال میں لایا جاتا تھا۔ جس گھر میں شادی ہوتی تھی اْن کے مہمان اکثر محلے کے دیگر گھروں میں ٹھہرائے جاتے تھے۔ محلے کی جس لڑکی کی شادی ہوتی تھی بعد میں پورا محلہ باری باری میاں بیوی کی دعوت کرتا تھا۔
٭کبھی کسی نے اپنا عقیدہ کسی پر تھوپنے کی کوشش نہیں کی، کبھی کافر کافر کے نعرے نہیں لگے، سب کا رونا ہنسنا سانجھا تھا، سب کے دْکھ ایک جیسے تھے ۔
٭نہ کوئی غریب تھا نہ کوئی امیر ، سب خوشحال تھے۔ کسی کسی گھر میں بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی ہوتا تھا اور سارے محلے کے بچے وہیں جاکر ڈرامے دیکھتے تھے۔
٭دوکاندار کے پاس کھوٹا سکا چلا دینا ہی سب سے بڑا فراڈ سمجھا جاتا۔
…کاش پھر وہ دن لوٹ آئیں"

Offline
 

شاعر کہتا ہے۔میرے میسج سنبھال کے رکھنا ۔میرے بعد ان میں بوسیدہ پیار تمہیں سکون دے گا۔مگر وہ محب کیا کرے۔جس کے محبوب کی آئی ڈی ہی اڑ گئی ہو۔۔میسج بھی غائب۔۔

Offline
 

" تم جیسی لڑکی پھولوں کی تاریخ میں
دوبارہ نہیں دُہرائی جائے گی ۔

Offline
 

ﮔﻨﮕﻨﺎﺗﮯ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﮎ ﻓﻘﯿﺮ
دُھوپ رہتی ﮨﮯ، ﻧﮧ ﺳﺎﯾﮧ ﺩﯾﺮ ﺗﮏ

Offline
 

مستنصرحسین تارڑ صاحب کہتے ہیں " جیسے وسیع آنگن میں دُھوپ زیادہ اُترتی ہے، ایسے فراخ دلوں میں مسرّت زیادہ اترتی ہے۔ "

Offline
 

ﺯَﻣﯿﻨﯽ ﺑﺮﻕ ، ﺑﺮﻕِ ﺣُﺴﻦ ، ﺣُﺴﻦِ ﺷﻮﻕ ، ﺷﻮﻕِ ﻏﻢ
ﻏﻢِ ﺧﻮﺵ ﺭَﻧﮓ ، ﺭَﻧﮓِ ﮔُﻞ ، ﮔُﻞِ ﮔُﻠﻨﺎﺭ ﮨﮯ ﻟﯿﻠﯽٰ

Offline
 

یوسفی صاحب کہتے ہیں ایک دفعہ مجھے سخت بخار ہو گیا اور میں بے ہوش ہو گیا۔ جب میری آنکھ کھلی تو بیوی سے پوچھا۔ کیا میں جنت میں ہوں؟
بیوی نے کہا، اللّہ نہ کرے، کیا ہو گیا ہے آپ کو۔ دیکھ نہیں رہے کہ میں سامنے کھڑی ہوں۔

Offline
 

میں چاہتا ہوں آپ سے چپکے سے
بہت خاموشی سے محبت کروں
بس یوں ہی محبت کرتا جاؤں
یار اظہار سے بہت ڈر لگتا ہے
ٹکرائے جانے کی اذیت موت ہے
کسی کو پانا پاکر مطمئن رہنا
یہ انسان بہت کم برداشت کرتا ہے
تمہیں پتا ہے کتنے ایسے لوگ ہیں
جو ہم سے بہت محبت کرتے ہیں
ہماری تلخ رویوں
بے جاہ دکھاوے سے
ہم سے دور رہتے

Offline
 

ہیں
انہیں ڈر لگا ہوتا ہے کہ وہ
جب اظہارِ محبت کریں گے
تب کیا ہوگا
ٹکرائے جائیں گے
پھر انکے پاس کیا بچیگا
وہ جو محبت کی ایک کیف ہے
جس میں وہ برسوں سے جیتے آرہے ہیں
وہ کیف بھی رخصت ہوگی
بالکل تہیہ دامن ہوکر رہیں گے
نا امید مفلس مسترد
دھتکارے ہوئے
انکا یہ ڈر بھی بجا ہے
مجھے بھی بہت ڈر لگتا ہے
البتہ میں اب بھی محبت کرتا ہوں
لیکن اظہار کی سکت نہیں رکھتا

Offline
 

خوب صورت لوگ طرح طرح کے ہوتے ہیں!
کچھ لوگ بس دلدار ہوتے ہیں!
کچھ ہوتے ہیں، بالکل نویں نکور، چھوئی موئی، دیکھنے سے میلے ہونے والے، نوک پلک سنوری ہوئی، ادائیں، غمزے، ایک رقص سا ساتھ ساتھ چلتا ہے.
مگر کچھ لوگ اور طرح کے ہوتے ہیں!
بھدے، ٹوٹے پھوٹے، چھلنی، بے ڈھب، سکریچ لگے ہوئے، خراشوں سے سجے، جنہیں زندگی نے کچھ اس طور سے پہنا کہ جب اتارا تو لیرو لیر کردیا!
خوب صورت شاید پہلے والے بھی ہوتے ہیں، مگر مجھے دلدار دوسرے والے لگتے ہیں.
ہاں اس ٹوٹی، گھسی، پٹی، تھکی تھکائی پنسل جیسے! کہ زندگی پورے وجود سے جینے کا حق اسی طرح ادا ہوتا ہے.
تو اس پنسل جیسے لوگو، تم جہاں بھی موجود ہو، تم خوب صورت ہو

Offline
 

مشہور سائنسداں آئن اسٹائن ایک مرتبہ بس میں سفر کر رہے تھے. انہوں نے اپنے ہینڈ بیگ سے کچھ ضروری کاغذات نکال کر پڑھنا چاہے تو خیال آیا کہ اپنا چشمہ تو گھر بھول آئے ہیں. مجبورا ساتھ بیٹھے ہوئے شخص سے کہا، "ازراہ کرم! ذرا یہ کاغذات پڑھ دیجیے."
اس شخص نے مسکراتے ہوئے کہا، "جناب! میں بھی آپ کی طرح جاہل ہوں."

Offline
 

فزکس والے تو یہ بات جانتے ہی نہیں
گریوٹی سے زیادہ کشش ہوتی ہے آنکھوں میں

Offline
 

"محبت"
مجھے نہیں پتہ محبت کیا ہے
مگر
تمہارا ہونا مجھے سکون دیتا ہے
تمہارے نہ ہونے سے میں"گھٹنے"لگتا ہوں

Offline
 

کیا شخص تھا کہ جِس کو نہیں جیت پائے ہم
کیا شخص تھا کہ ہم سے جو ہارا نہیں گیا

Offline
 

ﺧﺎﻭﻧﺪ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﻓﻮﻥ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﮔﮭﮕﮭﯿﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ: "ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺑﻐﯿﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮦ ﺳﮑﺘﺎ، ﻣﻌﺎﻓﯽ ﺩﻭ ﺍﻭﺭ ﺁ ﺟﺎﺅ ﺭﺟﻮﻉ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ...."
ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺳﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ: "ﺫﺭﺍ ﺟﺎ ﮐﺮ ﮐﭽﻦ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﮔﻼﺱ ﺗﻮ ﺍﭨﮭﺎ ﻻﺅ....."
ﻣﺮﺩ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ: "ﮨﺮ ﭼﻨﺪ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻟﺘﺠﺎ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﻌﻠﻖ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺧﻮﺷﯽ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﮔﻼﺱ ﻟﯿﮑﺮ ﺁﺗﺎ ﮨﻮﮞ....."
ﮔﻼﺱ ﻻ ﮐﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ: "ﺍﺏ ﺍﺱ ﮔﻼﺱ ﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭﮞ......؟؟"
ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ

Offline
 

ﮐﮩﺎ: "ﺍﺳﮯ ﮐﮭﮍﮐﯽ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﻭ....." ﻣﺮﺩ ﻧﮯ ﺗﻌﻤﯿﻞ ﮐﯽ.....
ﭘﮭﺮ ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ: "ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﺍﺱ ﮔﻼﺱ ﮐﻮ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺳﮯ ﻭﯾﺴﮯ ﺑﻨﺎ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﻮ ﺟﯿﺴﮯ ﺍﺳﮯ ﮐﭽﻦ ﺳﮯ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﻻﺋﮯ ﺗﮭﮯ.....؟؟"
ﻣﺮﺩ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ: ﻣﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﻼﺳﭩﮏ ﮐﺎ ﮈﺳﭙﻮﺯﯾﺒﻞ ﮔﻼﺱ ﻻﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ....!!
ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ: ﺍﭼﮭﺎ ﭘﮭﺮ ﺟﻠﺪﯼ کرو، لینے آ جاؤ تب تک ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮ جاؤں......
نوٹ: کانچ کا گلاس گھر میں نہ رکھیں خاص طور پر جب فلاسفر قسم کی بیوی روٹھ کر گئی ہو

Offline
 

گم گشــــــــتہ
وہ ایک لمحہ جس میں تمہیں کسی نے اپنا محبوب ٹھہرایا وہ ایک لمحہ اب تلک دل میں رکا ہوا کیوں ہے
تمہیں ہمیں بلکہ ہم سب کو
اسی ایک ہی لمحے کی تلاش ہے
یہی ہم سب کا متاع گم گشتہ ہے______
ہم سب ملکے اسی ایک لمحے کو زمانے سے
کشید کرسکتے ہیں
ہم سب ایک دوسرے سے گھبرائے ہوئے ہیں
کوئی کسی پہ بھروسہ نہیں کرسکتا
ہم سب متشکک سر پھرے ہیں________
کوئی کھوکر پریشاں ہے
کوئی کھونے سے خائف ہے
کوئی پانے کو مضطرب ہے
ہم سب انتظار کی سولی پہ اٹکے لٹکے
کسی معجزے کا منتظر ہیں

Offline
 

اسی معجزے کا
جسے ہم سب مل کر تشکیل دے سکتے ہیں
وہ ہے بانٹنے کا معجزہ
دکھ غم حسرتیں خوشیاں_______
ہر کسی کو کوئی کندھا چائیے
رونے کو سہارنے کو
نکھارنے کو________
لیکن وہ ایک خدائی صفت سے موصوف کندھا
ابھی تک شرمندہ تخلیق ہوا ہی نہیں ہے
کیونکہ ہم میں سے ہر ایک دوسرے سے
پہل کرنے کا امید لیئے منتظر ہے
ہم سب معجزوں پہ یقین رکھتے ہیں
پر کوئی معجزہ تخلیق کرنا نہیں چاہتا_______
وہ ایک معجزہ جسکی ہم سب کو یکساں ضرورت ہے
بانٹنے کا معجزہ
خوشی غم دکھ
حسرتیں
یہی ہم سب کا متاع گم گشتہ ہے_

Offline
 

وہ سب سے خُوبصورت ہوگیا ھے
مجھے اُس سے محبت ہوگئی ھے !

Offline
 

خوبصورت رشتہ
خواتین و حضرات ! دعا انسان اور اس کے پروردگار میں ایک خوبصورت رشتہ ہے ، جو ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا ۔ دعا انرجی کی ایک بہت ہی طاقتور قسم ہے جو ایک عام شخص آسانی سے خود میں پیدا کر سکتا ہے ۔ دعا کا انسانی ذہن اور انسانی جسم پر ایسا ہی اثر ہوتا ہے جیسے غدودوں کے عمل کا ہوتا ہے ۔
اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مسلسل دعا کے بعد بدن میں ایک طرح کی لہر پیدا ہو جاتی ہے ۔
ذہنی قوت عود کر آتی ہے ۔ سکون پیدا ہو جاتا ہے ۔ اور انسانی رشتوں کے گہرے اور دور رس عوامل سمجھ میں آنے لگتے ہیں ۔
سچی عبادت ، دلی دعا ، اصل میں زندگی کا چلنا ہے ۔
سچی اور صراط مستقیم والی زندگی دعا سے معرض وجود میں آتی ہے ۔
اشفاق احمد زاویہ