کیا تماشا ہے, کب سے جاری ہے زندگی ہے کہ پھر بھی پیاری ہے اس کہانی کو کون روکے گا عمر یہ ساری ساتھ کٹی ہے یا گزاری ہے زندگی ہے کہ پھر بھی پیاری ہے بیقراری سی بیقراری ہے زندگی ہے کہ پھر بھی پیاری ہے
استاد : کسی عظیم انسان نے کہا تھا.... کہ ایک ہی دشمن سے بار بار جنگ نہیں لڑنی چاہیے ورنہ آپ اسے اپنے تمام جنگی داؤ پیچ سکھا دینگے (میاں بیوی کے رشتے میں بھی یہی ہوتا ہے دونوں جنگجو زندگی بھر لڑتے لڑتے ایک دوسرے کے واروں سے اتنے متعارف ہو جاتے ہیں کہ جنگ زندگی بھر جاری رہتی ہے پر حل کچھ نہیں نکلتا) شاگرد : تو پھر کیا کرنا چاہیے؟؟؟ ۔ ۔ ۔ استاد : دشمن بدلتے رہنا چاہیے...
چھوٹی سی زندگی ہے ہر حال میں خوش رہو جو چہرہ پاس نہ ہو اس کی آواز میں خوش رہو کوئی روٹھا ہو تم سے اس کے انداز میں خوش رہو جولوٹ کرنہیں آنےوالے ان لمحوں کی یادمیں خوش رہو کل کس نے دیکھا ہے اپنے آج میں خوش رہو خوشیوں کا انتظار کس لیے دوسروں کی مسکان میں خوش رہو کیوں تڑپتے ہو ہر پل کسی کے ساتھ کے لیے کبھی تو اپنے آپ میں خوش رہو
الحمدللہ آج ایک جگہ رشتہ طے ہوگیا۔ وہ زیادہ پڑھی لکھی تو نہیں لیکن بہت خوبصورت اور خوب سیرت ہے اچھا مزاج رکھتی ہیں ، اور بہت معصوم ہے سادگی پسند ہیں۔ ابھی کچھ دیر پہلے انکے گھر سے واپسی ہوئی ، میں نے تو پہلی نظر میں ہی دل میں ہاں کہہ دی باقی وقت بیٹھنا تو رسم دنیا تھی۔ اب ایک ماہ کے دوران ان شاءاللہ نکاح بھی ہو جائے گا۔ ایک دوست کی وال سے پڑھا تو حسرت سے کاپی کر لیا... شاید کبھی کام ہی آجائے !!
غم کے احساس کو پلکوں پہ سجا رھنے دو کوئی گُل تو میرے گُلستاں میں کِھلا رھنے دو ٹھوکریں ھی تو ھیں مقدر میں اِک پتّھر کے راستے میں جو پڑا ھُوں تو پڑا رھنے دو سایہِ زُلف کی ٹھنڈک تو نہیں میرا نصیب تم مُجھے درد کے شعلوں میں گِرا رھنے دو نا جانے کس گھڑی کُوئی چھوڑ کے دنیا چل دے جینے والوں کے لیئے لب پہ دُعا رھنے دو میں قدامت کے دریچّے میں سجّا ھوا ایک پتّھر ھوں مُجھ کو اِس دور کے انساں سے جُدا رھنے دو ...!