"سلامتی" ان کے نام جو خود سے بیگانہ ہوئے جو آج تک آزادی کی تلاش میں ہیں جنکی روح اور دل کی زمین استعمار ہو چکی جو لوگوں میں گھرے رہے اور اجنبیت محسوس کرتے رہے سلامتی ان دلوں پر کہ جن پہ بیتی اداس شب اس قدر پیچیدہ الجھنوں میں دل پہلے پڑا تھا کب جو ہیں پر امید ایک روشن صبح کے منتظر تمہارے سرخ دل کا اطمینان تمہاری روح کے سکون سے ہے منسلک تو پھر تمہیں اپنی تھک چکی روح آخر کیوں پسند ہے اٹھو بہت سے خواب تم نے تصور میں ہیں کھینچ رکھے جنکے حصول کی کوشش تم پر واجب ہے
ہم انسانوں کو بلیک اینڈ وائٹ دیکھنا چاہتے ہیں’اور کہانی کے کرداروں کے ساتھ بھی ہمارا یہی رویہ ہوتا ہے.مرکزی کردار’ جنھیں ہیرو یا ہیروئن کہا جاتا ہے ’کی کسی خامی یا کمزوری کو ہمارے یہاں پسند نہیں کیا جاتا.جبکہ حقیقی زندگی میں ایسا نہیں ہوتا.ہر انسان میں جہاں کوئی اچھی بات ہوتی ہے تو ساتھ کچھ بری باتیں بھی اسکی شخصیت کا حصّہ ہوتی ہیں’مگر ہمیں لوگ تب اچھے لگتے ہیں جب تک انکی اچھی سائیڈ ہمارےسامنے رہتی ہے ’اور جیسے ہی انکی کوئی بری بات کھلے’ہم فوراً ان کو جج کرنے لگتے ہیں’ اور پھر اپنی زندگیوں میں کتنے ہی ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کو ہم اپنی اسی فیصلہ کن سوچ کی بنا پہ چھوڑ دیتے ہیں." ہم خود نہیں بدلتے’دوسروں کو بدلنا چاہتے ہیں.
ایک بار شوہر نے اپنی بیوی سے 250 روپے قرض لیا۔ چند روز بعد شوہر نے دوبارہ 250 لیا۔۔۔ کچھ دن بعد، بیوی نے پیسے واپسی کا مطالبہ کیا شوہرنے کہا کہ مجھے کتنے واپس کرنے ہیں ؟ بیوی نے حساب لگا کر کہا کہ 4100 شوہر: وہ کیسے۔۔۔۔۔؟ بیوی کا اکاؤنٹ 2 5 0 + 2 5 0 ----------------- * 4 10 0 * شوہر اس کے بعد سے سوچ میں۔۔۔۔۔کہ یہ کس اسکول سے پڑھ کر آئی ہے؟ لیکن شوہر بھی ایسا ویسا نہیں تھا اس نے 400 واپس کر دیئے، اور بولا کہ اب کتنے بچ
گئے ؟ پھر بیوی نے اپنی ریاضی دوبارہ استعمال کی۔ 4 1 0 0 - 4 0 0 ---------------- * 0100 * شوہر نے 100۔ دے دیئے اور بولا اپنا حساب مکمل دونوں خوش سے زندگی گزار رہے ہیں... لیکن ریاضی کا قتل ہوا۔ شوہر ریاضی سے لڑا۔ بیوی سے نہیں۔۔۔ بیماری سے لڑیں، بیمار سے نہیں۔
نہ جانے کیا تھا ، جو کہنا تھا آج مِل کے تُجھے تُجھے ملا بھی تھا مگر ، جانے کیا کہا میں نے وہ ایک بات ، جو سوچی تھی تجھ سے کہہ دُوں گا تُجھے ملا تو لگا ، وہ بھی کہہ چکا ھُوں میں ھزار باتیں ، جو تُجھ سے کہی نہیں ھیں مگر ایسا لگتا ھے ، تُجھ سے کبھی کہی ھوں گی عجب ھے ، یہ خیال و جنُون کی کیفیت تیرے خیال سے غافل نہیں ھُوں ، تیری قسم۔ تیرے خیال میں ، کچھ بُھول بُھول جاتا ھُوں
میرے پاس ایک یونیورسٹی کی ڈگری ھے میں نے چار کتابیں اور سینکڑوں مضامین لِکھے لیکن اب بھی پڑھتے ھُوئے میں ھمیشہ غلطی کرتا ھُوں۔ تم مجھے "صُبح بخیر" لکھتی ھو میں اُسے "آئی لو یُو" پڑھتا ھُوں. "صُبح بخیر"
سب سے خُوبصورت اور شاندار انجنیئرنگ یہ ہے کہ آپ مایوسی کے دریا پر اُمید اور ہمت کے مِکسچر کا پُل تعمیر کریں اور زندگی کے میدان میں مسلسل آگے بڑھتے جائیں۔
"اردو ٹیچر کی ڈائری" میرے شاگردوں کا شکوہ تھا کہ ہم نے اردو کے اتنے اچھے جملے بنائے لیکن آپ نے فیل کر دیا چند نمونے پیش خدمت ہیں. کار گزاری: کار کے مالک نے پل پر سے کارگزاری. اگربتی: ابو کہتے ہیں کہ اگر بتی چلی جائے تو موبائل کی لائٹ جلا لیا کرو. لگاتار: میں نے ٹی وی کا تار اٹھاتے ہوئے اپنے دوست سے کہا کہ میچ آرہا ہوگا جلدی سے لگاتار میچ دیکھتے ہیں. بھائی چارہ: میں نے دودھ والے سے پوچھا کہ دودھ کیوں مہنگا ہوگیا تو کہنے لگا کہ او بھائی چارہ جو مہنگا ہوگیا ہے. آسیب: امی نے کہا کہ بیٹا آ سیب کھا لے. دستک: مجھے دس تک گنتی یاد ہوگئی ہے. اتفاق: میں اتفاق سے اپنی سالگرہ والے دن پیدا ہوا. کلنک کا ٹیکہ: ہمارے محلے میں سب نے کلنک کے ٹیکے لگوائے. میں گھر پر موجود نہ ہونے کی وجہ سے نہیں لگوا سکا
چائے کے ساتھ جب بسکٹ کھا رہا ہوتا ہوں تو میری کوشش ہوتی ہے ڈبوتے ہوئے ایک دو بسکٹ ٹوٹ جائیں چائے میں ڈوب جائیں۔ جب وہ چائے میں گھل مل جاتے ہیں تو چائے کا سواد زرا اور بڑھ جاتا ہے اور جب چائے ختم ہوتی ہے تو کپ میں انگلیاں ڈال کر باقی کا بسکٹ کھانے کا بھی اپنا مزہ ہوتا ہے۔ دوستو اگر آپ ایک نارمل انسان ہیں تو آپ زندگی کے اس لُطف سے محروم ہیں۔
چہرے پڑھتا آنکھیں لکھتا رہتا ہوں میں بھی کیسی باتیں لکھتا رہتا ہوں مجھ کو خط لکھنے کے تیور بھول گئے آڑھی ترچھی سطریں لکھتا رہتا ہوں تیرے ہجر میں اور مجھے کیا کرنا ہے؟ تیرے نام کتابیں لکھتا رہتا ہوں۔۔ تیری زلف کے سائے دھیان میں رہتے ہیں، میں صُبحوں کی شامیں لکھتا رہتا ہوں۔۔ اپنے پیار کی پھول مہکتی راہوں میں، لوگوں کی دیواریں لکھتا رہتا ہوں۔۔ تجھ سے مل کر سارے دکھ دہراؤں گا، ہجر کی ساری باتیں لکھتا رہتا ہوں۔۔ سوکھے پھول، کتابیں، زخم جدائی کے، تیری سب سوغاتیں لکھتا رہتا ہوں۔۔ اس کی بھیگی پلکیں ہنستی رہتی ہیں، محسن جب تک غزلیں لکھتا رہتا ہوں۔۔