میں امیر ہونے کے بعد
money is not everything
والی چول ضرور ماروں گا
مجھ کو بھی ترکیب سکھا دے یار جولاہے
اکثر تجھ کو دیکھا تانا بنتے
جب کوئی دھاگہ ٹوٹ گیا یا ختم ھوا
باندھ کے اسکو پھر سے
نئے سرے سے بننے لگتے ھو
لیکن تیرے اس تانے میں کوئی بھی
ایک بھی گانٹھ گرہ بنتر کی
دیکھ نہیں سکتا ھے کوئی
میں نے تو ساری عمر بنا تھا
بس ایک ھی رشتہ
جس کی ایک ایک گرہ
صاف نظر آتی تھی یار جولاہے
مجھ کو بھی ترکیب سکھا دے یار جولاھے
تم محبت بھی سیکھ جاؤ گی ،
کل سے بہتر ہے آج کی چائے
محبت کو
کسی ماضی کے لمحے سے
کوئی مطلب نہیں ہوتا
محبت "ہے" کا صیغہ ہے
یہ "تھا" اور "تھی" نہیں ہوتی
یہ ہوتی ہے
صدا ہونے کو ہوتی ہے_
وقت کی قید میں زندگی ہے مگر
چند گھڑیاں یہی ہیں جو آزاد ہیں
کیا آپ کو مچھلی کا مذکر معلوم ھے؟
جب ہم چھوٹے تھے تو ہمیں یہ اصول معلوم نہیں تھا کہ الف پر ختم ہونیوالے مذکر کو مؤنث بنانا ہوتو اسکی آخری "الف" کو چھوٹی "ی" میں بدل دیتے ہیں
لیکن اسکے باوجود ہم مرغا مرغی، بکرا بکری، گدھا گدھی یا گھوڑا گھوڑی کے معاملے میں کوئی غلطی نہیں کرتے تھے۔البتہ جب چڑا چڑی اور کُتا کُتی تک بات پہنچتی تو استاد کا غضبناک چہرہ دیکھنا پڑتا اور تذکیروثانیت کے وہ معصوم سے اصول جو ہم نے لاشعوری طور پر اپنا رکھے تھے، دُھوان بن کر اُڑ جاتے۔ اِس بات کا منطقی جواب کوئی نہیں دیتا تھا کہ چڑی کو چڑیا اور کُتّی کو کُتّیا کہنا کیوں ضروری ہے۔ذرا اور بڑے ہوئے تو معلوم ہوا کہ تذکیروثانیت کی دنیا تو پوری اندھیرنگری ہے۔ وہاں نر اور مادہ کے اصولوں کی کھُلی خلاف ورزیاں ہوتی ہیں۔
مثلاً کوّا، اُلو، ہُد ہُد، خرگوش، لنگور، گِدھ، کچھوا اور
مچھّر کے بارے میں پتہ چلا کہ اِن بے چاروں کی مؤنث شکل تو موجود ہی نہیں ہے۔
دِل میں بار بار خیال آتا کہ مسٹر خرگوش کے گھر میں کوئی مسِز خرگوش بھی تو ہو گی۔ لنگور کی بیوی، گِدھ کی ماں، کچھوے کہ بہن۔ کیا یہ سب ہستیاں وجود ہی نہیں رکھتیں؟ اور اگر ہیں تو اُن کیلئے الگ سے الفاظ کیوں موجود نہیں۔
اِس بےانصافی اور زیادتی پر ایک بار بہت گِڑگڑا کر اپنے اُستاد سے سوال کیا تو وہ غصے سے لال ہوکر بولے، "بے انصافی تو دونوں طرف سے ہے۔ مچھلی کے شوہر کا نام سنا ہے
کبھی؟
وہ بھی تو وجود رکھتا ہے۔"
ہم لاجواب ہوگئے اوراُستاد جی نے پوری فہرست گِنوا دی
"فاختہ، مینا، چیل، مُرغابی، ابابیل، مکھی، چھپکلی۔۔۔" استاد جی نے الٹا ہمیں سوال داغ دیا بتاؤ: کیا اِن سب کے باپ بھائی وجود نہیں رکھتے؟
اور آج تک اس سوال کا جواب ڈھونڈ رہے ہیں...
کوئی اہل علم مدد فرمائیں...
اس جہانِ فانی میں
ہر طرف لُٹیرے ہیں
دلِ کی آگ سلگا کر
سانس لُوٹ لیتے ہیں
آنکھ میں بسا کر پھر
خواب لُوٹ لیتے ہیں
مسکراہٹیں دے کر
آس لُوٹ لیتے ہیں
ہم کہاں کے سچے تھے
ہم نے بھی تو دیکھا تھا
کوئی جب بھی لُٹتا تھا
خوب خوب ہنستے تھے
اب جو ہم پہ گزری ہے
اشک کیوں برستے ہیں
کمپیوٹر کی پروگرامنگ ٹھیک ہے، مگر
کیاتُم میسج پڑھ کے نکلنے والے آنسوؤں کو ڈی کوڈ کر سکتے ہو؟
یا پھرکنٹرول شفٹ دبا کے
ساری یادیں ڈلیٹ ہو جاتی ہیں؟
اشفاق احمد لکھتے ہیں کہ ایک دن میں نیکر پہن کر سپارہ پڑھنے مسجد چلا گیا مولوی صاحب غصے میں آ گئے، بولے. ارے نالائق تم مسجد میں نیکر پہن کر کیوں آ گئے..؟
بے وقوف ایسے مسجد میں آؤ گے تو جہنم میں جاؤ گے..!
میں نے گھر آ کر ماں جی کو بتایا تو ماں بولی پتر مولوی صاحب غصے میں ہوں گے جو انہوں نے ایسا کہہ دیا ورنہ بیٹا جہنم میں جانے کے لئے تو بڑی سخت محنت کی ضرورت ھوتی ھے..!
جہنم حاصل کرنے کے لئے پتھر دل ہونا پڑتا ھے۔ جہنم لینے کے لئے دوسروں کا حق مارنا پڑتا ھے. قاتل اور ڈاکو بننا پڑتا
ھے، فساد پھیلانا پڑتا ھے، مخلوقِ خدا کو اذیت دینی پڑتی ھے، نہتے انسانوں پر آگ اور بارود کی بارش کرنا پڑتی ھے. محبت سے نفرت کرنا پڑتی ھے۔ اس کے لئے ماؤں کی گودیں اجاڑنی پڑتی ہیں. رب العالمین اور رحمت العالمین سے تعلقات توڑنے پڑتے ہیں، تب کہیں جا کر جہنم ملتی ہے..!
تُو تو اتنا کاہل ھے کہ پانی بھی خود نہیں پیتا۔ تجھ سے یہ محنت کیونکر ہو سکے گی..؟
تو تو چڑیا کی موت پر ہفتوں روتا رہتا ھے پھر تُو اتنا پتھر دل کیسے بن سکتا ھے؟ بیٹا مولوی صاحب کی باتوں پر دھیان مت دینا ورنہ تمھارے اندر“ خدا کا صرف ڈر بیٹھے گا محبت نہیں..!
جن کے ملنے کا آسرا ہی نہیں
عید ان کا خیال لاتی ہے۔
تو نہیں تو ترا خیال سہی
کوئی تو ہم خیال ہے میرا
ڈائٹنگ، ملازمت اور محبت کسی اور کو کرتا دیکھیں تو بہت آسان لگتی ہے۔
محبت کی اسیری سے رہائی مانگتے رہنا
بہت آساں نہیں ہوتا جدائی مانگتے رہنا
ذرا سا عشق کر لینا،ذرا سی آنکھ بھر لینا
عوض اِس کے مگر ساری خدائی مانگتے رہنا
کبھی محروم ہونٹوں پر دعا کا حرف رکھ دینا
کبھی وحشت میں اس کی نا رسائی مانگتے رہنا
وفاؤں کے تسلسل سے محبت روٹھ جاتی ہے
کہانی میں ذرا سی بے وفائی مانگتے رہنا
عجب ہے وحشت ِ جاں بھی کہ عادت ہو گئی دل کی
سکوتِ شام ِ غم سے ہم نوائی مانگتے رہنا
کبھی بچے کا ننھے ہاتھ پر تتلی کے پر رکھنا
کبھی پھر اُس کے رنگوں سے رہائی مانگتے رہنا
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain