دو ھزار پندرہ میں نوبل انعام سے نوازے جانے والے ترک کیمیا دان عزیز سنجر کہتے ہیں نوبل انعام جیتنے کے بعد ایک دن میری بیگم نے مجھے آواز دی ۔ عزیز ! گھر میں جمع کچرا باہر گلی کے کوڑا دان میں ڈال آ۔ میں نے جواب دیا میں نوبل انعام یافتہ ہوں ۔۔ اس نے پھر آواز دی ۔ نوبل انعام یافتہ کیمادان عزیز صاحب! گھر میں جمع کچرا گلی کے کوڑا دان میں پھینک آ ۔
دوست تم اپنے سے ہو ٗکسی خوبصورت سپنے سے ہو قلمی دوستی ہے اک رسمی سا رشتہ ہے پھر بھی اک انجان کشش کوئی پر اسرار تعلق۔ عجب کھنچاؤ تیری ذات سے ہے لگاؤ دلچسپی اور جو عقیدت ہے تیرے ہر ایک جملے تیری ہر ایک بات سے ہے تم نفرتوں وحشتوں حقارتوں رنجشوں سے دُور ہو ہر خُوشی تمہارے لیے ہے اور تم ہر خوشی کو منظور ہو تم تلخیوں میں تشنگی میں راحتوں کا جام ہو سچے دل پہ جسکا نزول ہو وہ پیار کا الہام ہو جسے سن کے چین پڑ جاے
جسے سن کے چین پڑ جاے مَسِیحائی کا کوئی نام ہو تم بھٹکے ہوئے کی منزل ہو تم چین ہو آرام ہو اس پر ہجوم دور میں۔ میں میں کے شور میں راحت بھری خاموشی ہو تم خوشبختی کی شکل ہو تم خوشیوں کے سرگوشی ہو بے رنگ بصارتوں کے لیے قوس قزح کے رنگ ہو جو زندگی کے انگاروں پہ محو رقص ہے کوئی مست ملنگ ہو تم کو دیکھا ہے فقط تصویروں میں تحریروں میں اک دن مل کے پیئں گے چائے کاش لکھا ہو یوں تقدیروں میں سنو! دوست تم اپنے سے ہو کسی خوبصورت سپنے سے ہو.....!
بہادر وہی ہوتا ہے جو اپنے خوف کو دبوچ لے اور پھر پھونک مار کر اس کو راکھ کی طرح اڑا دے۔ خوف سے بھاگنا مسئلے کا حل نہیں ہوتا۔ خوف کے اندر غوطہ کھانا اور پھر اس سے نکل آنا انسان کو اصل آزادی دیتا ہے ۔
نہ کوئی سوچ لفظ بنتی ہے نہ کوئی خواب یاد رہتا ہے نہ کوئی بات گذرے وقتوں کی دل کو دھیرے سے گدگداتی ہے نہ محبت سجھائی دیتی ہے نہ محبت دکھائی دیتی ہے نہ محبت سنائی دیتی ہے نہ کوئی اشک دل میں گرتا ہے نہ کوئی درد مسکراتا ہے اور جدائی کی ہر اذیت بھی اک کتابی سی بات لگتی ہے
اک عجب بے کلی سی رہتی ہے دل کی باتوں میں دل نہیں لگتا شام کا لمس کچھ نہیں کہتا چاند راتوں میںدل نہیں لگتا قصہء وصل لکھ نہیں سکتے ہجر کی بات کہہ نہیں سکتے عشق سے دور ہو نہیں سکتے عشق کے ساتھ رہ نہیں سکتے اس طرح بے بسی کے عالم میں سچ کہوں میں تو ایسے موسم میں خاص چہرہ بھی عام لگتا ہے شعر کہنا بھی کام لگتا ہے
میرے دیس کے لوگ بہت سادہ ہیں اور جو ہماری مجموعی روش ہے، ہم بس اس انتظار میں رہتے ہیں کہ کب کونسی چھٹی آ رہی ہے۔ ہمارے کارخانے میں ایک لڑکا چوکیدار تھا۔ مارچ کے دوسرے عشرے میں پوچھنے لگا کہ کیا تئیس مارچ کی چھٹی ملے گی؟ اس سے پوچھا کہ کیا آپ کو پتہ ہے کہ آخر تئیس مارچ کو ہوا کیا تھا۔ کہنے لگا۔ پاکستان چالو ہوا تھا۔
میں نے کہا وہ پیار کے رشتے نہیں رہے کہنے لگی کہ تم بھی تو ویسے نہی رہے پوچھا گھروں میں کھڑکیاں کیوں ختم ہو گئیں بولی کہ اب وہ جھانکنے والے نہیں رہے اگلا سوال تھا کہ میری نیند کیا ہوئی بولی کہ تمہاری آنکھ میں سپنے نہیں رہے پوچھا کرو گی کیا جب کبھی میں نہیں رہا بولی یہاں تو تم تم سے بھی اچھے نہیں رہے آخر وہ پھٹ پڑی کہ سنو اب میرے سوال کیا سچ نہیں کہ تم بھی کسی کے نہیں رہے گو آج تک دیا نہیں تم نے مجھے فریب پر یہ بھی سچ ہے تم کبھی میرے نہیں رہے
اب مدتوں کے بعد یہ آے ہو دیکھنے کتنے چراغ ہیں ابھی کتنے نہیں رہے میں نےکہا مجھے تری یادیں تھی عزیز تھیں ان کے سوا کبھی کہیں الجھے نہیں رہے کیا یہ بہت نہیں کہ تیری یاد کے چراغ اتنے جلے کہ مجھ میں اندھیرے نہیں رہے کہنے لگی تسلیاں کیوں دے رہے ہو تم کیا اب تمہاری جیب میں وعدے نہیں رہے بہلا نہ پائیں گے یہ کھلونے حروف کے تم جانتے ہو ہم کوئی بچے نہیں رہے بولی کریدتے ہو تم اس ڈھیر کو جہاں بس راکھ رہ گئ ہے شرارے نہیں رہے میں نے کہا جو ہو سکے تو کرنا ہمیں معاف تم جیسا چاہتی تھی ہم ویسے نہیں رہے اب یہ تیری رضا ہے کہ جو چاہے سو کرے ورنہ کسی کہ کیا کہ ہم اپنے نہیں رہے
"محبت اور نفرت" ھم نے تو یہی سیکھا ھے کہ محبت کرنے کا ایک سلیقہ ھوتا ھے اور اُس سے بھی بڑھ کے نفرت کرنے کا سلیقہ ھوتا ھے۔ ھم محبت اِس لیے نہیں کر پاتے کیونکہ ھمیں نفرت کرنا نہیں آتی۔ ھم محبت کرتے ھیں فائدہ حاصل کرنے کے لیے اور نفرت کرتے ھیں دشمنی پالنے کے لیے۔