Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

دو ھزار پندرہ میں نوبل انعام سے نوازے جانے والے ترک کیمیا دان عزیز سنجر کہتے ہیں نوبل انعام جیتنے کے بعد ایک دن
میری بیگم نے مجھے آواز دی ۔
عزیز ! گھر میں جمع کچرا باہر گلی کے کوڑا دان میں ڈال آ۔
میں نے جواب دیا میں نوبل انعام یافتہ ہوں ۔۔
اس نے پھر آواز دی ۔
نوبل انعام یافتہ کیمادان عزیز صاحب!
گھر میں جمع کچرا گلی کے کوڑا دان میں پھینک آ ۔

Offline
 

دوست تم اپنے سے ہو ٗکسی خوبصورت سپنے سے ہو
قلمی دوستی ہے اک رسمی سا رشتہ ہے
پھر بھی اک انجان کشش
کوئی پر اسرار تعلق۔
عجب کھنچاؤ تیری ذات سے ہے
لگاؤ دلچسپی اور جو عقیدت ہے
تیرے ہر ایک جملے
تیری ہر ایک بات سے ہے
تم نفرتوں وحشتوں حقارتوں رنجشوں سے دُور ہو
ہر خُوشی تمہارے لیے ہے
اور تم ہر خوشی کو منظور ہو
تم تلخیوں میں تشنگی میں راحتوں کا جام ہو
سچے دل پہ جسکا نزول ہو وہ پیار کا الہام ہو
جسے سن کے چین پڑ جاے

Offline
 

جسے سن کے چین پڑ جاے
مَسِیحائی کا کوئی نام ہو
تم بھٹکے ہوئے کی منزل ہو
تم چین ہو آرام ہو
اس پر ہجوم دور میں۔ میں میں کے شور میں
راحت بھری خاموشی ہو
تم خوشبختی کی شکل ہو تم خوشیوں کے سرگوشی ہو
بے رنگ بصارتوں کے لیے قوس قزح کے رنگ ہو
جو زندگی کے انگاروں پہ محو رقص ہے
کوئی مست ملنگ ہو
تم کو دیکھا ہے فقط
تصویروں میں تحریروں میں
اک دن مل کے پیئں گے چائے
کاش لکھا ہو یوں تقدیروں میں
سنو!
دوست تم اپنے سے ہو
کسی خوبصورت سپنے سے ہو.....!

Offline
 

ممتاز سائینسدان،طبیب اور فلسفی ابن سینا لکھتے ہیں کہ محبت کے لحاظ سے ہر باپ یعقوب اور
حُسن کے لحاظ سے ہر بیٹا یوسف ہے،،
فارسی سے ترجمہ

Offline
 

یہ ھمارا قومی اَلمیہ ھے کہ سب سے کم وقت اور سب سے کم دولت جس چیز پر خرچ کرتے ھیں وہ کتاب ھے۔
"حکیم محمّد سعید"

Offline
 

بہادر وہی ہوتا ہے جو اپنے خوف کو دبوچ لے اور پھر پھونک مار کر اس کو راکھ کی طرح اڑا دے۔ خوف سے بھاگنا مسئلے کا حل نہیں ہوتا۔ خوف کے اندر غوطہ کھانا اور پھر اس سے نکل آنا انسان کو اصل آزادی دیتا ہے ۔

Offline
 

ﺍﮔﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﺗﻔﺎﻕ ﺗﻮ ﯾﻮﮞ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ
ﻭﮦ ﭼﻠﮯ ﺍﺱ ﺭﺍﮦ ﭘﺮ...... ﺟﻮ ﻣﺠﮫ ﭘﮧ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ

Offline
 

کوچے میں اس کے بیٹھنا حسن کو اس کے دیکھنا
ہم تو اسی کو سمجھے ہیں باغ بھی اور بہار بھی

Offline
 

تُم روزہ رکھ کر ...
سارا دِن سوتی رہنا ،
مُجھے دُعاؤں میں ..
کوئی اور مانگ لے گی!

Offline
 

نہ کوئی سوچ لفظ بنتی ہے
نہ کوئی خواب یاد رہتا ہے
نہ کوئی بات گذرے وقتوں کی
دل کو دھیرے سے گدگداتی ہے
نہ محبت سجھائی دیتی ہے
نہ محبت دکھائی دیتی ہے
نہ محبت سنائی دیتی ہے
نہ کوئی اشک دل میں گرتا ہے
نہ کوئی درد مسکراتا ہے
اور جدائی کی ہر اذیت بھی
اک کتابی سی بات لگتی ہے

Offline
 

اک عجب بے کلی سی رہتی ہے
دل کی باتوں میں دل نہیں لگتا
شام کا لمس کچھ نہیں کہتا
چاند راتوں میںدل نہیں لگتا
قصہء وصل لکھ نہیں سکتے
ہجر کی بات کہہ نہیں سکتے
عشق سے دور ہو نہیں سکتے
عشق کے ساتھ رہ نہیں سکتے
اس طرح بے بسی کے عالم میں
سچ کہوں میں تو ایسے موسم میں
خاص چہرہ بھی عام لگتا ہے
شعر کہنا بھی کام لگتا ہے

Offline
 

میرے دیس کے لوگ بہت سادہ ہیں اور جو ہماری مجموعی روش ہے، ہم بس اس انتظار میں رہتے ہیں کہ کب کونسی چھٹی آ رہی ہے۔
ہمارے کارخانے میں ایک لڑکا چوکیدار تھا۔ مارچ کے دوسرے عشرے میں پوچھنے لگا کہ کیا تئیس مارچ کی چھٹی ملے گی؟
اس سے پوچھا کہ کیا آپ کو پتہ ہے کہ آخر تئیس مارچ کو ہوا کیا تھا۔
کہنے لگا۔ پاکستان چالو ہوا تھا۔

Offline
 

جو آواز آپ کو دروازہ بند ہونے کی لگ رہی ہے،
ممکن ہے وہ دروازہ کھلنے کی ہو".
جلال الدین رومی

Offline
 

میں نے کہا وہ پیار کے رشتے نہیں رہے
کہنے لگی کہ تم بھی تو ویسے نہی رہے
پوچھا گھروں میں کھڑکیاں کیوں ختم ہو گئیں
بولی کہ اب وہ جھانکنے والے نہیں رہے
اگلا سوال تھا کہ میری نیند کیا ہوئی
بولی کہ تمہاری آنکھ میں سپنے نہیں رہے
پوچھا کرو گی کیا جب کبھی میں نہیں رہا
بولی یہاں تو تم تم سے بھی اچھے نہیں رہے
آخر وہ پھٹ پڑی کہ سنو اب میرے سوال
کیا سچ نہیں کہ تم بھی کسی کے نہیں رہے
گو آج تک دیا نہیں تم نے مجھے فریب
پر یہ بھی سچ ہے تم کبھی میرے نہیں رہے

Offline
 

اب مدتوں کے بعد یہ آے ہو دیکھنے
کتنے چراغ ہیں ابھی کتنے نہیں رہے
میں نےکہا مجھے تری یادیں تھی عزیز تھیں
ان کے سوا کبھی کہیں الجھے نہیں رہے
کیا یہ بہت نہیں کہ تیری یاد کے چراغ
اتنے جلے کہ مجھ میں اندھیرے نہیں رہے
کہنے لگی تسلیاں کیوں دے رہے ہو تم
کیا اب تمہاری جیب میں وعدے نہیں رہے
بہلا نہ پائیں گے یہ کھلونے حروف کے
تم جانتے ہو ہم کوئی بچے نہیں رہے
بولی کریدتے ہو تم اس ڈھیر کو جہاں
بس راکھ رہ گئ ہے شرارے نہیں رہے
میں نے کہا جو ہو سکے تو کرنا ہمیں معاف
تم جیسا چاہتی تھی ہم ویسے نہیں رہے
اب یہ تیری رضا ہے کہ جو چاہے سو کرے
ورنہ کسی کہ کیا کہ ہم اپنے نہیں رہے

Offline
 

"محبت اور نفرت"
ھم نے تو یہی سیکھا ھے کہ محبت کرنے کا ایک سلیقہ ھوتا ھے اور اُس سے بھی بڑھ کے نفرت کرنے کا سلیقہ ھوتا ھے۔ ھم محبت اِس لیے نہیں کر پاتے کیونکہ ھمیں نفرت کرنا نہیں آتی۔ ھم محبت کرتے ھیں فائدہ حاصل کرنے کے لیے اور نفرت کرتے ھیں دشمنی پالنے کے لیے۔

Offline
 

اسے باغبانی کا شوق ہے یہی سوچ کر
کچھ پھول اس کے در پر چھوڑ آیا ہوں
شب بخیر

Offline
 

" Why not become fresh from the gentleness of the heart-spring ? Why not laugh? Like a rose why not spread perfume? " ~ Rumi
السلام علیکم

Offline
 

ھاں۔۔۔
یہی ہے زندگی
کچھ خواب______چند امیدیں

Offline
 

ھم محبت مزاج ھیں سو ہمیں
ساری دنیا حَسین لگتی ھے