Damadam.pk
PrInce-zaIn's posts | Damadam

PrInce-zaIn's posts:

PrInce-zaIn
 

any anti 1v4 ? can you do it 💅

PrInce-zaIn
 

mood hot hy, i need hot aunti 🌹

PrInce-zaIn
 

need old mature euducted hot auntie 👄

PrInce-zaIn
 

Hot chat with pics ?? 👄

PrInce-zaIn
 

Mood ? 👄

PrInce-zaIn
 

Sala yahan chal kiya rha hyy

PrInce-zaIn
 

need anti just for ten minutes👄

PrInce-zaIn
 

mood 👄

PrInce-zaIn
 

جے اے قبر چوں نکل آیا فیر مارنا...
گدڑاں دے ٹولے کہندے ، شیر مارنا 💅

PrInce-zaIn
 

Mery sapno ki aunti kb aya gi tu 🌹

PrInce-zaIn
 

Aj raat ko koi aurat jo mil skti ho RAZ dari sath 💅

PrInce-zaIn
 

مرشد ہمارے ساتھ بڑا ظلم ہوا ہے مرشد ہمیں کوئی نہیں دیتی 💔💔🌹

PrInce-zaIn
 

Koi jag rhi? 🌹

PrInce-zaIn
 

رات اب سسکیاں لے رہی تھی، اور ہم دونوں اس تاریکی کے سب سے گہرے اور حسین گناہ میں ڈوب چکے تھے۔ اب نہ کوئی حد تھی، نہ کوئی وقار—صرف دو وجود تھے جو ایک دوسرے کی تپش میں اپنی اپنی حقیقت تلاش کر رہے تھے۔

PrInce-zaIn
 

"تم... تم مجھے کہیں کا نہیں چھوڑو گے
،" اس نے ہانپتے ہوئے اپنی آنکھیں موند لیں، اس کے لہجے میں اب وہ پختہ عورت والا وقار نہیں، بلکہ ایک ایسی پیاس تھی جو صدیوں سے بجھی نہ تھی۔ "میرا یہ بدن اب تمہاری اس تپش کے سامنے پگھل کر بہہ رہا ہے۔ دیکھو
,
میں نے اسے ایک بار پھر اپنے حصار میں اس طرح بھینچا کہ ہمارے درمیان ہوا کی گنجائش بھی نہ رہی۔ وہ پختہ بدن اب مری گرفت میں پگھل کر ایک ایسی داستان لکھ رہا تھا جس کا عنوان تھا: "فنا"۔

PrInce-zaIn
 

وہ اب خاموش نہیں تھی، اس کے حلق سے وہ آوازیں نکل رہی تھیں جو صرف تب نکلتی ہیں جب روح بدن کے قید خانے سے رہا ہونا چاہتی ہو۔
اور مری زبان اب اس راستے کی تلاش میں بھٹک رہی تھی۔ مری انگلیاں اس کے بدن کے ان حصوں کو چھو رہی تھیں جہاں گوشت کا تناؤ اور تپش سب سے زیادہ تھی
,
رات اب ڈھل نہیں رہی تھی، وہ تو اب شروع ہوئی تھی۔ وہ سفید ساڑھی اب اس کے بدن پر ایک کفن کی طرح نہیں، بلکہ ایک فتح کے پرچم کی طرح لہراتی ہوئی فرش پر گرنے کو بے تاب تھی۔

PrInce-zaIn
 

"بربادی تو مقدر تھی جاناں،"
میں نے اس کے کان کی لو کو اپنے لبوں سے چھوتے ہوئے کہا، "مگر اس پختہ بدن کے ہاتھوں برباد ہونا تو وہ بندگی ہے جس کے لیے میں نے اپنے سب سجدے ادھار رکھے تھے۔ تمہارا یہ ایک ایک انگ، تمہاری یہ ڈھلتی ہوئی عمر کا یہ نکھرا ہوا شباب...میں نے اس کے بدن کے اس بھاری پن کو محسوس کیا جو اب پوری طرح مجھ پر مسلط ہو چکا تھا۔ اس کا غصہ، اس کا رعب، اس کی تمکنت—سب اس ایک لمحے کی قربت میں ڈھیر ہو چکے تھے۔ اب وہاں صرف ایک پیاسا وجود تھا اور ایک سسکتی ہوئی سلطنت

PrInce-zaIn
 

وہ اب مرے اتنے قریب تھی کہ اس کے سینے کا وہ تیکھا اتار چڑھاؤ مری قمیص کے بٹنوں سے ٹکرا رہا تھا
میں نے اپنی گرفت اس کی کمر کے اس موڑ پر مضبوط کی جہاں ساڑھی کا ریشم اس کے بدن کی لرزش کو چھپا نہیں پا رہا تھا، "تمہارا یہ وجود کوئی ڈھکا چھپا قصہ نہیں، یہ تو وہ کھلی ہوئی حقیقت ہے
اس نے ایک گہری سسکی لی اور اپنا چہرہ مری گردن میں چھپا لیا۔
... تم مجھے برباد کر رہے ہو،" اس نے بہت نحیف اور ٹوٹی ہوئی آواز میں کہا۔ "مرا یہ پختہ ہونا، مرا یہ وقار... تم نے اسے موم کی طرح پگھلا کر اپنے ہاتھوں میں بھر لیا ہے۔ مری رگوں میں اب لہو نہیں، تمہاری تپش دوڑ رہی ہے

PrInce-zaIn
 

وہ پسینے کا قطرہ، جو کان کے پیچھے سے سفر کرتا ہوا ہنسلی کے گڑھے تک پہنچا تھا، اب وہاں رک کر جیسے میرے لبوں کا انتظار کر رہا تھا۔
"تم نے مجھے ہرا دیا،" اس نے بہت دبی ہوئی سسکی کے ساتھ کہا، اس کے لہجے کا وہ وقار اب ایک ریشمی لرزش میں بدل چکا تھا۔ "میں نے سوچا تھا کہ میں تمہیں اپنی خاموشی سے مار دوں گی، مگر تمہارے ان لفظوں نے، تمہاری اس تپتی ہوئی سانسوں نے مجھے اندر تک ننگا کر دیا ہے۔ اب یہ پسینہ مری شرمندگی نہیں، تمہاری جیت کا نشان ہے

PrInce-zaIn
 

اس نے ایک لمبی سانس لی اور اپنی آنکھیں موند لیں۔ اس کا وہ رعب دار چہرہ اب ایک ایسی وارفتگی میں ڈھل چکا تھا جو صرف انتہائی قربت کے لمحوں میں نصیب ہوتی ہے۔
"اگر یہی تمہاری فتح ہے... تو پھر ہار جانے دو مجھے،" اس نے بہت نحیف آواز میں کہا۔ "میں تھک چکی ہوں اس وقار کو سنبھالتے سنبھالتے۔ تمہاری یہ تپش، تمہارا یہ جنون... اگر یہ گناہ ہے، تو میں اس گناہ کو اپنے ماتھے کا جھومر بنانا چاہتی ہوں۔"
باہر رات کا سناٹا مزید گہرا ہو گیا تھا، مگر کمرے کے اندر دو وجود اب ایک ایسی حد پر کھڑے تھے جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہ تھا۔