ہر عورت مرد کا پیسہ دیکھ کر نہیں بِکتی۔ کُچھ شہزادیوں کو جیتنے کے لیے مرد کو ترازو کے پلڑے میں دولت نہیں عزت کی مقدار بڑھانا پڑتی ہے۔ کیوں کہ وہ مرد کی دی ہوئی عزت میں ہی محبت پا لیتی ہے۔ مرد جتنی اسکی عزت کرتا ہے،
عورت کے دل میں اسکے لئے اتنی ہی زیادہ عزت بڑھ جاتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کے عزت کا دوسرا نام ہی محبت ہے۔
کچھ دل خزاں کے پتوں کی مانند ہوتے ہیں..!!
آپ اپنی گہرائیوں سے ان کو لاکھ نرماہٹ، حدت دیں
آبیاری کرتے رہیں
مگر۔۔۔۔۔۔۔انکی پیلاہٹ نہیں جاتی.
آپکو ان کی تاثیر سمجھ آجانی چاہیے.
ایسے میں انہیں انکے سوکھے پن کے ساتھ
ہواؤں کے سپرد ہونے دیں.
آگے بڑھیں۔۔۔۔۔۔۔!
اوراپنی زرخیزی سے ہمیشہ سبزہ پھیلاتے رہیں!
🌿♥️✨
من 💥🕊️
جس کھڑکی سے دکھ ملا ہو اسے بند کرنا سیکھو 🌻
چاہے اس کا منظر کتنا ہی حسین کیوں نہ ہو ٫٫٫✨
“نہیں۔
بس آج سمجھ آیا
کہ انتظار بھی ایک دن
ہمت ہار جاتا ہے۔”
اس کے بعد وہ کبھی نہیں ملی۔
نہ فون، نہ پیغام۔
بس ایک آخری اسٹیٹس لگا:
“کچھ محبتیں ملنے کے لیے نہیں ہوتیں،
صرف انسان کو بہتر بنانے کے لیے ہوتی ہیں۔”
بے نور آنکھیں 😓
“ناراض تو نہیں ہو؟”
وہ مسکرا دی اور بولی:
“نہیں۔
بس آج سمجھ آیا
کہ انتظار بھی ایک دن
ہمت ہار جاتا ہے۔”
اس کے بعد وہ کبھی نہیں ملی۔
نہ فون، نہ پیغام۔
بس ایک آخری اسٹیٹس لگا:
“کچھ محبتیں ملنے کے
آیا۔
سادہ سا جملہ لکھا تھا:
“آپ کی دعا کی ضرورت ہے۔”
وہ شادی میں گی۔
سوچا نہیں تھا، مگر گی۔
وہاں اس نے دیکھا—
لڑکا ہنس رہا تھا، خوش تھا،
اور وہ خوشی…
اس کے لیے نہیں تھی۔
واپسی پر
لڑکے نے پوچھا:
“ناراض تو نہیں ہو؟”
وہ مسکرا دی اور بولی:
“نہیں۔
وہ دونوں ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے،
مسئلہ بس یہ تھا
کہ دونوں غلط وقت پر صحیح انسان تھے۔
وہ لڑکا ہمیشہ کہتا تھا:
“ابھی نہیں… ذرا حالات ٹھیک ہو جائیں۔”
اور لڑکی ہر بار مسکرا کر کہتی:
“میں انتظار کر لوں گی۔”
وہ انتظار کرتی رہی—
لڑکےکی
نوکری بدل گئی،
ملک بدل گیا،
لڑکی کی عمر بڑھتی رہی
بالوں میں سفیدی اترنے لگی،
مگر اس کی آواز نہیں بدلی۔
ایک دن لڑکےکی شادی کا کارڈ آیا۔
سادہ سا جملہ لکھا تھا:
تمہیں یہ غرور ہے کہ تمہارے چاہنے والے بہت ہے مگر
ہماری انا کا تقاضہ ہے کہ کوئی ہمیں دیکھے بھی ناں🙂
آئے زندگی آہستہ آہستہ سے کر برباد مجھے
قسم خدا کی بڑے نازوں سے پالا تھا میرے باپ نے مجھے 🙂
ہمیں چہروں سے کوئی مطلب نہیں حسین ہو یا بدصورت
جس میں آدب حیا نہ ہو وہ ہمارے معیار کا ......!!🖤
اک مدت گزاری دنیا داری میں، اک مدت لگی اپنی آبیاری میں۔۔۔
برسوں بعد جب دنیا کے شور سے نکل کر اپنی خاموشی سے ہم کلام ہوا، تو کچھ لفظ دعا بن کر اترے۔ یہ غزل میرے ان تمام سالوں کا نچوڑ ہے جو میں نے خود کو تلاش کرنے میں گزارے۔ جون کی یاد اور نصرت کی لَے کے در
بڑوں کی ضد اور اولاد کی عمر بھر کی قید 💔
جب والدین اپنی ضد یا خاندانی انا کی خاطر اولاد پر جیون ساتھی کا فیصلہ مسلط کرتے ہیں، تو وہ اکثر ایک ایسے بے جوڑ رشتے کی بنیاد رکھ دیتے ہیں جس کا بوجھ اولاد کو عمر بھر اٹھانا پڑتا ہے۔
تصویر کے یہ کردار ان بچوں کی عکاسی کرتے ہیں جن کے ہاتھ تو تھام دیے گئے، مگر روحیں اجنبی رہ گئیں۔ زبردستی کے بندھن کبھی گھر نہیں بساتے، بلکہ وہ انسان کو ایک ایسی خاموش اذیت میں مبتلا کر دیتے ہیں جہاں ساتھ چلنا محبت نہیں بلکہ ایک "سمجھوتہ" بن جاتا ہے۔
یاد رکھیے! کسی کے جذبات کا خون کر کے جوڑے گئے رشتے کبھی سکون نہیں دیتے۔
کسی کے زندہ دل کو قبرستان بنا کر بخشش کی راتوں میں کیسے خدا سے معافیاں مانگ لیتے ہیں لوگ__
کچھ لوگ میری زندگی میں صرف اس لیے آئے کہ اپنا وقت گزار سکیں، میرے یقین کا فائدہ اٹھایا، میری محبت کو اپنی خواہشات کے لیے استعمال کیا، میرے ذہنی سکون کو بربادی تک پہنچایا اور پھر ہمیشہ مجھے ہی نیچا دکھایا
ایسے لوگوں کو معاف کرنے کا حوصلہ مجھ میں نہیں ہے، بیشک خدا معاف کرنے کو پسند کرتا ہے، لیکن مجھ میں میری ذہنی بربادی، میری محبت کی تذلیل کے زمہ دار انسان کو معاف کرنے کا حوصلہ مجھ میں نہیں ہے__🥺❤️🩹
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain