خوشی ہے جیسے صبح کی دھوپ دل میں بکھرتی ہے محبت کی نوپ ہر مسکان لاتی ہے رنگِ زندگی خوشی ہے اس کی، رب کی عطا کی شادیچھاؤں میں کھیلتی ہیں بچوں کی ہنسی خوشی ہے یہ، جیسے پھولوں کی جھنسی دل کی گہرائی میں چھپا ہے جادو خوشی کا لمحہ، بن جاتا ہے صدقوآنکھوں میں چمکتی ہے امنگوں کی لو خوشی ہے یہ، جو دل کو چھو لے سو اے رب! یہ نعمت ہمیشہ رکھنا خوشی کے رنگوں سے دل کو بھرنا
ہم نے ماضی کا ہر ورق پلٹا۔۔۔!! ہم کو ہر بات کا مَلال ہوا۔۔۔!! کبھی خواب ادُھورے رہ جانے کا۔۔۔!! کبھی لفظوں کا زَوال ہوا۔۔۔!! کبھی وہ لمحے جو تَھم نہ سَکے۔۔۔!! کبھی وہ قِصّے جو سِمَٹ گئے۔۔۔!! کبھی اپنوں کی بے رُخی کا دُکھ۔۔۔!! کبھی اپنوں سے ہی سوال ہوا۔۔۔!! ہم نے چاہا تھا رُوشنیوں کو۔۔۔!! مگر اندھیروں میں ڈال دیے گئے۔۔۔!! جو دِل کے قریب تھا کل تلک۔۔۔!! وہی آج سب سے نِڈھال ہوا۔۔۔
پسندیدہ شخص سے دل بھر سکتا ہے لیکن🌹 جس سے مُحبت ہو ناں🥀 اُس سے دل نہیں بھر سکتا ،🥀 یہی فرق ہوتا ہے پسند اور محبت میں.🌹 پسند بدلتی رہتی ہے جبکہ🥀 مُحبت کبھی نہیں بدلتی اور🥀 محبت کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی.♥️
یہ تو توہین وفا ہے کہ تُجھے بھول کے ہم اپنے زخموں پہ کِسی اور سے مَرہم چاہیں__❤️🩹 عشق کی آگ میں کُندن نہ سہی راکھ سہی ہم کِسی طور نہ اس آنچ کو مدھم چاہیں!!!✍️🔥
دعائیں یاد تھیں جتنی وہ ساری پھونک لی خود پر وظائف جو بھی آتے تھے وہ سارے پڑھ لئے میں نے مگر پھر بھی میرے دل میں سکوں داخل نہیں ہوتا ! تمہیں ہجرت ہی کرنی تھی تو کچھ میرا بھی کر جاتے کسی کو توڑ کر ! سنتے ہیں کچھ حاصل نہیں ہوتا ! کسی کے چھوڑ جانے سے کسی کی جان جائے تو مجھے فتوی یہ لینا ہے کیا وہ قاتل نہیں ہوتا ؟
ہو اجازت اگر تو تجھے__ کچھ کہہ لوں تیرے دل❤️ کے کسی کونے میں رہ لوں تیری آنکھ _____کا آنسو بن کر بہہ لوں تیرا ہر اک دُکھ __درد کیا میں سہہ لوں تیری محبت پہ کہنا ہے ___ شعر کہہ لوں لگ نہ جائے نظر ماشاءاللہ____ کہہ لوں میں تیری یاد _____کے محل میں رہ لوں یا پھر خود کو تیری ___دعویدار کہہ لوں تم جچتے نہیں اکیلے 🥲میں ساتھ رہ لوں تو جان ہے میری __ تجھے ایک بار کہہ لو
رات بھر جاگتے رہنے کا عمل ٹھیک نہیں چاند کے عشق میں بینائی چلی جاتی ہے بات سے بات کی گہرائی چلی جاتی ہے جھوٹ آ جائے تو سچائی چلی جاتی ہے رات بھر جاگتے رہنے کا عمل ٹھیک نہیں چاند کے عشق میں بینائی چلی جاتی ہے میں نے اس شہر کو دیکھا بھی نہیں جی بھر کے اور طبیعت ہے کہ گھبرائی چلی جاتی ہے کچھ دنوں کے لیے منظر سے اگر ہٹ جاؤ زندگی بھر کی شناسائی چلی جاتی ہے پیار کے گیت ہواؤں میں سنے جاتے ہیں دف بجاتی ہوئی رسوائی چلی جاتی ہے چھپ سے گرتی ہے کوئی چیز رکے پانی میں دور تک پھٹتی ہوئی کائی چلی جاتی ہے مست کرتی ہے مجھے اپنے لہو کی خوشبو زخم سب کھول کے پروائی چلی جاتی ہے در و دیوار پہ چہرے سے ابھر آتے ہیں جسم بنتی ہوئی تنہائی چلی جاتی ہے