کبھی کبھی خاموشی اس لیے اچھی لگتی ہے کیونکہ الفاظ تھک چکے ہوتے ہیں۔ لیکن جب خاموشی کے پیچھے سوچوں کا طوفان ہو، تو وہ خاموشی زہر بن جاتی ہے۔ اپنے ذہن کو ان باتوں کا قبرستان نہ بنائیں جو کبھی ہونی ہی نہیں ہیں۔ 🌑🕯️ #سکون
"-آپ نے اگر عید کی شاپنگ نہیں کی توضرور کریں , یہ غم اور پریشانیاں تو کبھی ختم نہیں ہوتی,کسی کےجانے پر غمزدہ مت ہوں,مہندی لگائیں,چوڑیاں پہنیں ,اچھے سے تیار ہوں اور اس دن کو منائیں,لڑکے ہیں تو وہ بھی سب اہتمام کریں ,ماں باپ کا غم ان کا چلے جانا یہ سب تکلیف دیتا ہے,ایک دن سب نے چلے جانا ہے ان کی کمی کوئی زندگی بھر پوری نہیں کر سکتا,لیکن جو دن اللّٰہ کی طرف سے تحفہ ہے اس کو خوشی کے ساتھ منائیں,اور دل سے تمام غم دور ہو جانے کی دعا کریں,اس لیے کریں کہ جو نہیں وہ ہمت پکڑیں ,اور جس کی کوئی اور مجبوری ہے,تو وہ کم از کم وہ کپڑے پہنیں, جو اسے پسند ہوں , خوش رہیں,خوشیاں بانٹیں "!😌❤🤲
ہم نے کب چاہا کہ وہ شخص ہمارا ہو جائے اتنا دِکھ جائے کہ آنکھوں کا گُزارہ ہو جائے ہم جسے پاس بِٹھا لیں وہ بِچھڑ جاتا ہے تم جسے ہاتھ لگا دو وہ تمہارا ہو جائے تم کو لگتا ہے کہ تم جیت گئے ہو مجھ سے ہے یہی بات تو پھر کھیل دوبارا ہو جائے ہے محبت بھی عجب طرزِ تجارت کہ یہاں ہر دُکاں دار یہ چاہے کہ خسارہ ہو جائے....💜
انسان کی شخصیت اس کے الفاظ میں چھپی ہوتی ہے۔ اگر لہجے میں نرمی اور الفاظ میں احترام نہ ہو تو علم کی روشنی بے معنی ہے۔ اپنی گفتگو کو اپنی پہچان بنائیں۔ 🖋️ Absolutely Right
انسان پتہ ہے ٹوٹتا کب ہے؟ جب اس کے اور اللہ کے درمیان تیسرا شخص آجاتا ہے پھر انسان ٹوٹ جاتا ہے اور جب آپ ٹوٹ جائے تو بھتر ہے خود کو اللہ کے پاس لے جائے کیونکہ اسی نے اپکو بنایا ہے وہی بھترین طریقے سےاپکو ٹھیک کرسکتا ہے کسی انسان کے پاس خود کا ٹوٹا وجود لیکر کبھی نا جانا۔ جس نے اپکو بنایا اسی کے پاس جاے 🎙️
جب بچہ گُم ہوجائےتو ہر ایک منٹ قیمتی ہوتا ہے بچوں کو لازمی یہ سکھائیں ! نوّے فی صد بچے تیس منٹ کے اندر مل جاتے ہیں لیکن جو نہیں ملتے وہ ایک ایسی غلطی کرتے ہیں جو والدین انجانے میں انکو سکھادیتے ہیں۔ اکثر بچے جلد مل جاتے ہیں کیونکہ وہ پُرسکون رہتے ہیں، وہیں رُک جاتے ہیں، اور ایک سادہ منصوبے پر عمل کرتے ہیں۔ لیکن جو بچے گھبرا کر بھاگتے یا چھپ جاتے ہیں، اُنہیں ڈھونڈنے میں زیادہ وقت لگتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے انہیں حفاظتی حکمتِ عملی سکھائی ہی نہیں ہوتی۔ تحقیق بتاتی ہے کہ اگر بچوں کو یہ تین باتیں سکھا دی جائیں تو انہیں منٹوں میں تلاش کرنا ممکن ہو جاتا ہے۔ جہاں جُدا ہوئے فوری وہیں رُک جائیں نمایاں جگہ پر کھڑے ہوں تاکہ آپ پر نظر پڑ سکے۔ادھر ادھر نہ بھاگیں اگر والدین نہیں ملے تو کسی قابل اعتماد چہرے کو تلاش کریں
*ایک المیـــہ یــہ بھــی ہے کـــہ* اچــھی کتابیــں اور اچــھے دل والے لوگ ہــر کسی کی سمجـــھ میں نہیں آتے یـــہی وجہ ہے کـہ____ اچھی کتابیں اکثــر گرد آلود اور اچھے دل والے لوگ اکثــر ٹھوکروں کی زد میں رہتے ہیــں۔🫠