ﺍﺱ ﭘﺮ ﺑﺰﺭﮒ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ
ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺗﻢ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻏﻠﻄﯽ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ؟
ﻏﻼﻡ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ۔
” ﺍﺱ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﻮﮌﮮ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ “
ﺍﺱ ﭘﺮ ﺑﺰﺭﮒ ﺑﻮﻟﮯ ۔
” ﺗﺐ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﮐﮍﻧﺎ ﭼﺎ ﮨﯿﮯ ۔ “
ﻏﻼ ﻡ ﻧﮯ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮ ﮐﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎ۔
ﻭﮦ ﮐﯿﺴﮯ ؟ ﺑﺰﺭﮒ ﺑﻮﻟﮯ۔ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﺎ ﻏﻼﻡ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﻮﮐﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﮭﻼﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﻭﮦ ﻣﺠﮭﮯ ﺷﻔﺎ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ۔ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﻭﮦ ﮨﺮ ﻃﺮﺡ ﻣﯿﺮﯼ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ۔ “ ﺟﺐ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻏﻠﻄﯽ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻣﻌﺎﻓﯽ ﻣﺎﻧﮓ ﻟﻮﮞ ﺗﻮ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﺰﺍ ﺩﺋﯿﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﺣﻤﺖ ﻭ ﻣﮩﺮﺑﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺨﺶ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ۔ ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺍﺱ ﻣﻐﺮﻭﺭ ﻏﻼﻡ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺗﺐ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻏﻼﻡ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﮟ ۔ ﺑﺰﺭﮒ ﻓﻮﺭﺍً ﺑﻮﻟﮯ ۔
ﺑﺲ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﮨﻮ ﺟﺎ ۔ ﺍﯾﺴﺎ ﻣﺎﻟﮏ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﮩﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ ۔
ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﺎ ﻏﻼﻡ ﮔﮭﻮ ﮌﮮ ﭘﺮ ﺳﻮﺍﺭ ﻏﺮﻭﺭ ﮐﮯ ﻋﺎﻟﻢ ﻣﯿﮟ ﭼﻼ ﺁ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺰﺭﮒ ﺁ ﮔﺌﮯ ۔ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻣﻐﺮﻭﺭ ﻏﻼﻡ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ : ﯾﮧ ﺍﮐﮍ ﺧﺎﻧﯽ ﺗﻮ ﺍﭼﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ۔
ﻏﻼﻡ ﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﮐﮍ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ۔
” ﻣﯿﮟ ﻓﻼﮞ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﺎ ﻏﻼﻡ ﮨﻮﮞ “ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﺑﮩﺖ ﺑﮭﺮﻭﺳﮧ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺳﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ۔ ﺟﺐ ﺍﺳﮯ ﺑﮭﻮﮎ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ ۔ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻓﻮﺭﺍً ﺑﺠﺎ ﻻﺗﺎ ﮨﻮﮞ ۔ “
ﺍﺱ ﭘﺮ ﺑﺰﺭﮒ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ
ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺗﻢ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻏﻠﻄﯽ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ؟
اپنا حال دل کس کو سنائیں
میٹرک میں ایک لڑکی مجھے بےتحاشا اچھی لگی یہاں تک کہ سکول 8 بجے لگتا تھا اور میں 7 بجے سکول کے گیٹ کے باہر کھڑے ہوکر انتظار کرتا۔
ایک دن بریک میں مجھ سے کہنی لگی زرا کینٹین سے میرے لئیے 2 سموسے اور 1 کولڈرنک لے آنا،میں دھڑادھڑ بھاگ گیا کینٹین کی طرف مگر کولڈرنک کے علاوہ سموسے ختم ھوچکے تھے۔
او بھائ اب کیا کروں خود سے باتیں کررہا تھا اچانک ایک ترکیب ذہن میں آئ سیکیورٹی گارڈ سے کہا بھائ مس شہناز نے کہا پاس والے ھوٹل سے پانچ سموسے لے آئے تو میرے ساتھیوں سموسوں کا بندوبست ھوگیا جب سموسے اور کولڈرنک میں نے اس کے ھاتھ میں دے دیئے تو اس نے کیا کہا پتہ ھے آپ لوگوں کو۔۔۔۔؟😢😢😭😭
ہڈیاں شر شر کرکے چبا رہا ھو ۔
ایک بار میں نے سوچا نیچے دیکھ لوں مگر ہمت نہ ہوئی کہ کہیں وہ مجھے نہ دیکھ لے اور میرا کام تمام کردے
آواز بدستور آرہی تھی اور میری دھڑکنیں تیز سے تیز تر ہوتی جارہی تھیں ۔مگر کب تک اور پھر بلآخر میں نے بھی ڈرائونی فلموں کے ہیرو کی طرح ہمت پکڑی ۔۔۔
بستر سے نیچے اترا اور کانپتے ہاتھوں کے ساتھ سوئچ بورڈ پر لگا سوئچ آن کیا۔
کمرہ بلب کی روشنی میں نہا گیا۔
میں نے جتنی دعائیں یاد تھیں وہ پڑھیں اور خود پر پھونک دی اور پھر ایک لمبی سانس لے کر بستر کے نیچے جھا نکا اور سامنے کا منظر دیکھ کر میں شاک رہ گیا
نیچے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹک بسکٹ کا ایک پیکٹ پڑا تھا جو پنکھے کی ہوا سے شر شر کرتا کھی ادھر جارہا تھا تو کبھی ادھر۔😜😜
رات کے بارہ بجے میں اپنے کمرے میں داخل ہوا ۔۔ پنکھا آن کیا لائٹ بجھائی اور کھٹ یعنی چارپائی پر لیٹ گیا۔
سونے کی کوشش جاری تھی کہ اچانک چارپائی کے نیچے سے شر شر کی آواز سن کر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے میری زبان جیسے تلو سے چپک کر رہ گئی ۔
میری آنکھوں کے سامنے ایول ڈیڈ ممی اور دا کنجیورس جیسی فلموں کے سین آرہے تھے ۔
میری چارپائی کے نیچے سے ایسی آوازیں آرہیں تھیں جیسے آدم خور روح کسی کی ہڈیاں شر شر کرکے چبا رہا ھو ۔
اگر آپ دکھ تکلیفوں اذیتوں میں
بھی مسکرانے کا ہنر رکھتے ہیں تو😊😂
قسم سے آپ انسان نہیں
بہت بڑی فلم ہیں
معلوم سب کو ہے زندگی بے حال ہے
لوگ پھر بھی پوچھتے کہ کیا حال ہے
تیری صورت کو نگاھوں میں بسا کر رکھوں
دل یہ کہتا ھے تجھے تجھ سے چڑا کر رکھوں
تجھے دیکھوں تجھے چاھوں تجھی سے پیار کروں
تیرے رنگ روپ کو میں سب سے چھپا کر رکھوں
کر لوں قید اپنے دل میں تیرے جیون کو
تجھے میں عشق کی زنجیر پہنا کر رکھوں
کوئی بھی جان نہ پائے تیری آنکھوں کی گہرائی
میں تجھے ایسی کنول جھیل بنا کر رکھوں
دل یہ کہتا ھے تیرے بعد کوئی تجھ سا نہ ھو
میں تجھے آخری تحریر بنا کر رکھوں
اب جو بکھرے تو بکھرنے کی شکایت کیسی ؟
خشک پتوں کی ہواؤں سے رفاقت کیسی ؟
میں نے ہر دور میں بس اس سے محبت کی ہے،
جرم سنگین ہے اب اس میں رعایت کیسی ؟
اک پتا بھی اگر شاخ سے جدا ہوتا ہے،
کیا کہوں دل پے گزرتی ہے قیامت کیسی ؟
زندگی تجھ کو تو لمحوں کا سفر کہتے تھے،
راہ میں آ گئی صدیوں کی مسافت کیسی ؟
ہوا کے دوش پے رکھے ہوے چراغ تھے ہم
جو بجھ گئے تو ہوائوں سے شکایت کیسی
محبت میں ناراضگی نہیں ہوتی ـ ناراضگی کے نام پر لاڈ ہوتے ہیں ـ لاڈ پورے ہو جائیں تو مان بڑھ جاتا ہے اور محبت بھی ـ اور اگر یہ لاڈ پورے نہ ہوں تو مان ٹوٹ جاتے ہیں ـ اور ٹُوٹے ہوئے مان انسان کو کھوکھلا کر دیتے ہیں ـ!*
ایسا کیوں ہوتا ہے - جب ہم نیا نیا تعلق بناتے ہیں تو رات دن رابطے میں رہتے ہیں لمحے لمحے کی خیر دیتے ہیں - پھر
آہستہ آہستہ رابطے کم ہوتے جاتے ہیں - پھر ایک وقت آتا ہے تعلق ہی ختم ہوجاتا ھے •
کیا صرف ایک تجسس ہوتا ہے لوگوں کو جاننے کا ؟😢
کسی کو بتا بھی نہیں سکتے کوئی چپ کرانے والا بھی نہیں ہوتا کوئی تسلی دینے والا بھی نہیں ہوتا۔سیکڑوں آپ کے چاہنے والے ہوں اس ایک کی کمی کوئی پورا نہیں کر سکتا ۔۔
آپ کتنے ہی لاڈلے کیوں نہ ہوں بالآخر زندگی آپ کو کسی نہ کسی موڑ پر رولائے گی کسی کی کمی تڑپائے گی ۔۔اللہ کرے ایسی محبت کسی دشمن کو بھی نہ ہو ۔۔ 💔💔
کیوںکہ آپ اپنی فیملی اپنے دوستوں کے لاڈلے ہوتے ہیں آپ کو یقین ہوتا ہے آپ کو منائیں گے اور وہ کسی طرح منا بھی لیتے ہیں ۔۔لیکن
جب آپ کو کسی سے محبت ہو جاتی ہے آپ کی انا آپ کی مغروری ختم ہو جاتی ۔ کوئی آپ کو اگنور کرتا ہے تو آپ ناراض نہیں ہوتے دل ہی دل میں جلتے رہتے ان کا غصہ سہتے ان سے بات کرنے کی منتیں کرتے ان سے محبت کی بھیک مانگتے لیکن ان کو کوئی اثر نہیں ہوتا پھر بھی آپ اپنے دل سے ان کی محبت ختم نہیں کر سکتے اس کے لیے دعائیں مانگتے تنہائی میں روتے رہتے۔کسی کو بتا بھی نہیں سکتے کوئی چپ کرانے والا بھی نہیں ہوتا کوئی تسلی دینے والا بھی نہیں ہوتا۔سیکڑوں آپ کے چاہنے والے ہوں اس ایک کی کمی کوئی پورا نہیں کر سکتا ۔
پتا ہے جب آپ نارمل زندگی جی رہے ہوتے ہیں بہت خوش ہوتے ہیں۔اگر کوئی اگنور کرتا ہے تو آپ کو کوئی فرق نہیں پڑتا الٹا آپ بھی بھی ان کو اگنور کرتے ہو گھر میں کوئی ڈانٹ دیتا ہے تو آپ پوری فیملی سے ناراض ہو جاتے کسی کی نہیں سنتے جو دل میں آتا ہے کرتے ہیں توڑ پھوڑ یا کسی سے بات نہ کرنا یا کھانا پینا چھوڑ دینا اک چھوٹی سی بات کا آپ سب سے بدلہ لیتے۔جب کوئی دوست دل دکھاتا ہے تو آپ اس کے ساتھ مہینوں بات نہیں کرتے اس کو سوری کرنے کا موقع بھی نہیں دیتے جب کوئی رشتےدار برا بھلا کہ دے تو آپ ان سے رشتہ ختم کر دیتے ان کے گھر آنا جانا چھوڑ دیتے۔ یہاں تک کہ آپ ان کو عید کے دن بھی نہیں ملتے۔۔کیوںکہ آپ اپنی فیملی اپنے دوستوں کے لاڈلے ہوتے
یاد پر خزاؤں کے حادثے بھی رکھتا ہوں
خود کو ہے اگر بدلا وقت کے مطابق تو
وقت کو بدلنے کے حوصلے بھی رکھتا ہوں
بھر کے بھول جاتے ہیں گھاؤ فکر ہے مجھ کو
زخم کچھ پرانے سو ان سلے بھی رکھتا ہوں
گو کسی بھی منزل کی اب نہیں طلب مجھ کو
ہر گھڑی میں پیروں میں، آبلے بھی رکھتا ہوں
مانتا ہوں ابرک میں، بات یار لوگوں کی
سوچ کے مگر اپنے، زاویے بھی رکھتا ہوں
رابطے بھی رکھتا ہوں راستے بھی رکھتا ہوں
لوگوں سے بھی ملتا ہوں فاصلے بھی رکھتا ہوں
غم نہیں ہوں کرتا اب، چھوڑ جانے والوں کا
توڑ کر تعلق میں، در کھلے بھی رکھتا ہوں
موسموں کی بندش سے اب ہوں میں نکل آیا
یاد پر خزاؤں کے حادثے بھی رکھتا
تھوڑا مختلف ھے لیکن اتنا بھی
پیچیدہ نہیں مزاج ہمارااااااااا
جو سمجھ گیا تو پرخلوص ٹھہرے
جو نہ سمجھا تو مغرور۔ ٹھہرے
تیری "وفا" کو ہم نے بھلایا کب تھا،،
دن "جدائی" کا دل سے مٹایا کب تھا،،
دل لگا کر "بھول" جانے کی تیری عادت تھی،،
ہم نے تیرے سوا کسی اور کو "دوست" بنایا کب تھا.
بہت رویا تھا،جب میں پیدا ھوا تھا۔
اور ھنس رہی تھی یہ دنیا۔
مگر ایک دن بدلا لوں گا۔
ھنستا ھوا جاوں گا،اور روئے گی یہ دنیا۔💛
نا جانے کیا کہا تھا ڈوبنے والے نے سمندر سے۔
کہ لہریں آج تک ساحل سے اپنا سر پٹختی ہیں
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain