Damadam.pk
Raiyama's posts | Damadam

★ Raiyama's posts:

Raiyama
 ★ 

محبــت* اس سـے
نـہیں کـی جـاتی جو
*خـوبصـورت* ہـو
*خـوبصورت* وہ
ہـوتا ہـے جس سـے
*محبت* ہو جاتی ہـے

Raiyama
 ★ 

اور سامنے والے کو آپ کے لُٹنے کا .. ذرہ بھر افسوس تو کیا خیال بھی نہیں ھوتا یہ خسارہ سراسر آپ خُوداکیلے اپنی رضا اپنی مرضی سے قبول کرتے ہیں ..
اور آپ اُس کا گِلہ بھی سامنے والے سے نہیں کر سکتے ..کسی کی زندگی میں رہنے کے لئے
بھیک نا مانگا کریں .. کھل کر بات کریں اور اپنا دامن صاف رکھیں ..
پھر بھی نظر انداز ھوں تو .. خاموشی سے ایک طرف ھو جائیں ..
اسی کو عزت نفس کہا جاتا ھے ...!!

Raiyama
 ★ 

کُچھ مُحبتوں میں سارا خسارا صرف آپ کا ھوتا 
ھے ..
آپ کی اَنّا ..
آپ کی عزت ..
آپ کا وقار ..
شان عزت ..
نفس غرور مان نام ..
اور سب سے بڑھ کر آپ خُود ایسے لُٹتے ہیں کہ ساری عُمر خالی ہاتھ اور خالی دامن کے سوا کُچھ نہیں بچتا ..
اور سامنے والے کو آپ کے لُٹنے کا

Raiyama
 ★ 

اس کے والدین نے داماد سے ضمانت کی طور پر پانچ لاکھ ۔ یا دس لاکھ بھی نہیں لکھوایا تھا ۔ ایسی عورتیں نصیب والے مردوں کو ملتی ہیں جو صرف خاوند سے پیار کرتی ہیں ان کی نظر میں پیسوں کی کوٸی اہمیت نہیں ہوتی ۔ایسی بیویاں معاشرے کے لیے رول ماڈل ہیں ۔جن کی وجہ سے ہمارہ معاشرہ چل رہا ہے ۔۔۔۔۔۔
چاہت خلوص کی کچھ کم نہ تھی
کم شناس لوگ دولت پر مر گۓ

Raiyama
 ★ 

پھرخاوند نے بیس ہزار دیۓ بیوی نے منہ نہیں دیکھایا ۔پھر پچیس ، تیس ، چالیس حتی کہ خاوند نے پچاس ہزار دیا بیوی نے منہ نہ دیکھایا ۔ خاوند نے تنگ آ کر پورا بٹوہ بیوی کے حوالے کر دیا جس کے اندر ایک لاکھ روپے تھے پھر بھی بیوی نے منہ نہیں دیکھایا ۔۔۔۔خاوند نے بیوی سے کہا ۔۔
“ آپ کو اور کیا چاہیے ” بیوی نے کہا ۔۔۔ایک وعدہ
خاوند نے کہا ”کون سا وعدہ“
”بیوی نے کہا مجھ سے ایک وعدہ کرو مجھے کھبی چھوڑوں کے تو نہیں “
خاوند نے شادی کی پہلی رات بیوی کو نہ چھوڑنے کا وعدہ کر لیا ۔ یہ لڑکی کوٸی عام لڑکی نہیں تھی بلکہ اس نے ایم اے اردو کر رکھا تھا اور اس کے والدین نے داماد سے ضمانت کی طور پر پانچ لاکھ ۔ یا دس لاکھ بھی نہیں لکھوایا تھا ۔

Raiyama
 ★ 

شادی کی پہلی رات خاوند کمرے میں داخل ہوا اور کمرے کا دروازہ بند کر کے بیوی کے قریب آ کر بیٹھ گیا ۔ سب سے پہلے اس نے اپنی بیوی کو سلام کیا اس کے بعد پانچ ہزار حق مہر دینے لگا ۔ بیوی نے کہا ” میں نے حق مہر نہیں لینی میں آپ کو معاف کرتی ہوں ” خاوند نے دوسری بار حق مہر دینے کی کوشش کی بیوی نے یہ ہی جواب دیا ، پھر خاوند نے تیسری بار حق مہر دینے کی کوشش کی بیوی نے پھر وہ ہی جواب دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
خاوند نے وہ پیسے اپنے بٹوے میں رکھ دیۓ اور چند منٹوں کے لیے سوچوں میں گم ہو گیا کہ کتنی توکل والی اور وفا والی بیوی ہے جو پیسوں سے زیادہ مجھے ترجیح دے رہی ہے ۔۔۔۔
اس کے بعد خاوند نے منہ دیکھاٸی کے لیے بیوی کو پانچ ہزار دیۓ بیوی نے منہ نہ دیکھایا ۔ پھر خاوند نے دس ہزار دیۓ بیوی نے منہ نہ دیکھایا ، پھر خاوند نے پندرہ ہزار دیۓ

Raiyama
 ★ 

گِرانے کو کھڑے ہیں اب سہارا پوچھنے وا
یہ کھڑکی اب نہیں کُھلتی مکیں جانے کہاں گم ہیں
قمر کو چاہنے والے ، ستارہ پوچھنے والے
بتانا یہ بھی تھا اُن کو بَھنور ہے اُس کنارے پر
سنا ہے مر گئے سارے کِنارہ پوچھنے والے
محبت ہو چکی ہم کو کوئی اِدراک ممکن ہے۔ ۔؟
کھڑے ہیں سب مساجد میں کفارہ پوچھنے والے
ضبط ہے انتہا مجھ میں مگر کتنا کروں آخر
کہیں سے لوٹ آئیں وہ خدارا پوچھنے والے
✍🏻........ اشفاق احمد صائم

Raiyama
 ★ 

بہت سے لوگ ہیں مُجھ سے خسارہ پوچھنے والے
تمہارا نام نہ لے کر تمہارا پوچھنے والے
تیرے ترکِ تعلق نے بہت سے لوگ چھینے ہیں
تیری نِسبت سے آتے تھے ہمارا پوچھنے والے
بتاؤ کیا کہوں اُن کو سبب کیا ہے جدائی کا ؟
میرے در پر کھڑے ہیں وہ دوبارہ پوچھنے والے
تیرے ہونے سے دیواریں بھی مجھ کو تھام رکھتی تھیں
گِرانے کو کھڑے ہیں اب سہارا پوچھنے والے
یہ کھڑکی اب نہیں کُھلتی مکیں جانے کہاں گم ہیں

Raiyama
 ★ 

", تم نے دیکھا ہے فقط آنکھوں کو ,"
تم نے آنکھوں میں کہاں دیکھا ہے.۔!!!!!

Raiyama
 ★ 

:ھم جیسے تنہا لوگوں______کا جینا کیا اورمرنا کیا....!!!!!
"اے"دوست*
*آج تیرے دل سے______نکلے ھیں کل دنیا سے________نکل جائیں گے.....!!!!!!
💔💔💔💔🙏🙏

Raiyama
 ★ 

بات ہوتی ہے یوں تمام اکثر
لڑ جھگڑ کر کیا سلام اکثر
دکھ اگر دے کوئی تو ہنس دینا
یوں بھی لیتے ہیں انتقام اکثر
کر ہی لیتے ہیں دوستی آؤ
پڑ ہی جاتا ہے کوئی کام اکثر
چھوڑ دیتے ہیں کل پہ اکثر لوگ
آج کرتے نہیں ہیں کام اکثر
لگ ہی جاتی ہیں ٹھوکریں جاذل
خود ہی لیتے ہیں خود کو تھام اکثر

Raiyama
 ★ 

تیری صورت کو نگاھوں میں بسا کر رکھوں
دل یہ کہتا ھے تجھے تجھ سے چڑا کر رکھوں
تجھے دیکھوں تجھے چاھوں تجھی سے پیار کروں
تیرے رنگ روپ کو میں سب سے چھپا کر رکھوں
کر لوں قید اپنے دل میں تیرے جیون کو
تجھے میں عشق کی زنجیر پہنا کر رکھوں
کوئی بھی جان نہ پائے تیری آنکھوں کی گہرائی
میں تجھے ایسی کنول جھیل بنا کر رکھوں
دل یہ کہتا ھے تیرے بعد کوئی تجھ سا نہ ھو
میں تجھے آخری تحریر بنا کر رکھوں

Raiyama
 ★ 

میں اپنی تحریروں میں اپنا آپ لکھتی ہوں نہ تیرا عکس لکھتی ہوں نہ تیرا راز لکھتی ہوں میں خود کو اک سیراب لکھتی ہوں خود ہی ڈستی ہوں خود کو پھر اپنے خون جگر سے ذات کا اضطراب لکھتی ہوں

Raiyama
 ★ 

کبھی ناراض مت ہونا،گلے چاہے بہت کرنا
رلانا اور بہت لڑنا
سنو ناراض مت ہونا!!
کبھی ایسا جو ہو جائے،کہ تیری یاد سے غافل
کسی لمہے جو ہو جاؤں
بنا دیکھے تیری صورت
کسی شب میں جو سو جاؤں
تو سپنوں میں چلے آنا، مجھے احساس دلا جانا
سنو ناراض مت ہونا ۔۔۔!
کبھی ایسا جو ہو جائے، جنہیں کہنا ضروری ہو
وہ مجھ سے لفظ کھو جائیں
انا کو بیچ مت لانا،میری آواز بن جانا
کبھی ناراض مت ہونا ۔۔۔!

Raiyama
 ★ 

تقدیر کی گردش کیا کم تھی اس پر یہ قیامت کر بیٹھے
بے تابیِ دل جب حد سے بڑھی گھبرا کے محبت کر بیٹھے
آنکھوں میں چھلکتے ہیں آنسو دل چپکے چپکے روتا ہے
وہ بات ہمارے بس کی نہ تھی جس بات کی ہمت کر بیٹھے
غم ہم نے خوشی سے مول لیا اس پر بھی ہوئی یہ نادانی
جب دل کی امیدیں ٹوٹ گئیں قسمت سے شکایت کر بیٹھے

Raiyama
 ★ 

جو میں کالج آتے ہوئے اٹھا کر کتابوں کے بیگ میں رکھ لیتی ہوں اور جاتے ہوئے گھر لے جاتی ہوں میرے امی ابو کو علم ہے میں نے کئی مرتبہ دیکھا ہے لوگوں کا بچا کھچا کھانا کھاتے وقت ان کی آنکھوں میں آنسو ہوتے ہیں بہن بھائی چھوٹے ہیں انہیں کچھ علم نہیں وہ تو ایک دوسرے سے چھین کر بھی کھا جاتے ہیں.
خدارا اپنے اردگرد ایسے سفید پوش لوگوں کا خیال رکھا کریں..... یہ اپنی عزت کو غربت پر ترجیح دیتے ہیں ایسے لوگوں کی عزت کا خیال رکھیں اللہ آپکی عزت کا خیال رکھے گا۔۔۔
جزاک اللہ
*🌹🌹

Raiyama
 ★ 

بھوک اور نقاہت سے چلنا مشکل ہوگیا۔
میں ایک تکہ کباب کی د کان کے آگے سے گذری تو کچرے میں کچھ نان کے ٹکڑے اور ادھ کھانا ایک چکن پیس پڑا دیکھا بے اختیار اٹھاکرکھا لیا قریبی نل سے پانی پی کر خداکر شکر ادا کیا۔۔۔
پھر ایسا کئی مرتبہ ہوا ایک دن میں دکان کے تھڑے پر بیٹھی پیٹ کا دوزخ بھررہی تھی کہ دکان کا مالک آگیا اس نے مجھے دیکھا تو دیکھتاہی رہ گیا ندیدوں کی طرح نان اور کباب کے ٹکڑے کھاتا دیکھ کر پہلے وہ پریشان ہوا پھر ساری بات اس کی سمجھ میں آگئی وہ ایک نیک اور ہمدرد انسان ثابت ہوا میں نے اسے اپنے حالات سچ سچ بتا دئیے اسے بہت ترس آیا اب وہ کبھی کبھی میرے گھر کھانا بھی بھیج دیتا ہے اور گاہکوں کا بچا ہوا کھانا ،برگر وغیرہ روزانہ شاپر میں ڈال اپنی دکان کے باہر ایک مخصوص جگہ پررکھ دیتا ہے۔
جو میں کالج آتے ہوئے اٹھا کر

Raiyama
 ★ 

کباب اور دہی کی چٹنی میں ڈوبی چکن کی بوٹیاں۔۔۔
سارا معاملہ پرنسپل کی سمجھ میں آ گیا ۔۔
وہ کانپتے وجود کے ساتھ اٹھی روتی ہوئی کوثر کو گلے لگا کر خود بھی رونے لگ گئی۔۔۔۔
کوثر نے بتایا میرا کوئی بڑا بھائی نہیں۔۔۔
دیگر 3 بہن بھائی اس سے چھوٹے ہیں والد صاحب ریٹائرڈمنٹ سے پہلے ہی بیمار رہنے لگے تھے گھر میں کوئی اور کفیل نہیں ہے پنشن سے گذارا نہیں ہوتا بھوک سے مجبور ہو کر ایک دن رات کا فاقہ تھا ناشتے میں کچھ نہ تھا کالج آنے لگی تو بھوک اور نقاہت سے چلنا مشکل ہوگیا۔

Raiyama
 ★ 

اور پھر کچھ سوچ کر ٹیچر کو کلاس میں جانے کا کہہ دیا۔۔۔
پرنسپل نے بڑی محبت سے کوثر کو اپنے سامنے والی نشست پر بٹھا کر پھر استفسار کیا اس نے خاموشی سے اپنا بیگ ان کے حوالے کر دیا پرنسپل نے اشتیاق، تجسس اور دھڑکتے دل کے ساتھ بیگ کھولا۔۔۔
مگر یہ کیا کتابوں کاپیوں کے ساتھ ایک کالے رنگ کا پھولا پچکا ہوا شاپر بیگ بھی باہر نکل آیا۔
طالبہ کو یوں لگا جیسے اس کا دل سینے سے باہر نکل آیا ہو۔ کوثر کی ہچکیاں بندھ گئیں پرنسپل نے شاپر کھولا اس میں کھائے ادھ کھائے برگر، سموسے اور پیزے کے ٹکڑے، نان کچھ کباب اور دہی کی چٹنی میں ڈوبی چکن کی بوٹیاں۔۔۔

Raiyama
 ★ 

پرنسپل متانت سے بولیں "جب تمام طالبات اپنی اپنی تلاشی دے رہی تھیں تم نے انکار کیوں کیا؟"
کوثر خاموشی سے میڈم کو تکنے لگی ۔۔ اس کی آنکھوں سے دو موٹے موٹے آنسو نکل کر اس کے چہرے پر پھیل گئے۔۔
ٹیچر نے کچھ کہنا چاہا، جہاندیدہ پرنسپل نے ہاتھ اٹھا کر اسے روک دیا پرنسپل کا دل طالبہ کا چہرہ دیکھ کر اسے چور ماننے پر آمادہ نہ تھا پھر اس نے تلاشی دینے کے بجائے تماشا بننا گوارا کیوں کیا۔۔۔
اس میں کیا راز ہے ؟ وہ سوچنے لگی۔۔
اور پھ