ایسا کوئی گناہ بھی میں نے نہیں کیا،
اب تک ہیں آپ مجھ سے خفا،
آپ کون ہیں؟؟؟؟
میں اس کے ساتھ ساتھ رہا اور خوش رہا،
پھر اس نے مجھ سے پوچھ لیا,
آپ کون ہیں؟؟؟ 😔
تنہا تنہا رہ لوں گا
کسی اور سے دل نہیں لگاؤں گا۔۔
اپنی ادھوری محبت کے قصے
میں اپنے دوستوں کو سناؤں گا۔۔
کچھ وقت کے لیے نہیں ہے انتظار آپ کا
میں تو اس جہاں سے آپ کا انتظار کرتا جاؤں گا ۔۔
اہلِ ذوق کی نذر
سنو! سورج کو یوں دیکھا نہ کرنا
پگھل جاؤ گے تم ایسا نہ کرنا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھلے مانس اے لوگوں مشورہ ہے
خدا پتھر کا ہو سجدہ نہ کرنا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت الجھا ہوں میں پہلے ہی جاناں
نیا سر درد اب پیدا نہ کرنا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دُعا میں رحم مانگو بس خدا سے
کوئی شے دوسری مانگا نہ کرنا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر کہہ دُوں میں اپنی جان روبی
سرِ محفل مجھے جُھوٹا نہ کرنا
وہ کرتے کیا
شہر کی رسم تھی
اور رسم بھی سب کو نبھانی تھی
بہت سے لوگ تھے
جینے کی خاطر
مرتے جاتے تھے
بہت سے لوگ تھے
مرنے کی خاطر جی رہے تھے
وہ کرتے کیا
شہر کی رسم تھی
اور رسم بھی سب کو نبھانی تھی
"سالوں" کے دکھ لمحوں میں ختم نہیں ہوتے ،
بعض دفعہ
"معافی" مانگنے والا تو معافی مانگ کر
اپنی تکلیف کم کرنے کی کوشش کرتا ہے ،
یا اپنا اگلا راستہ آسان کرتا ہے ،
مگر دوسری طرف معافی دینے والا
کبھی کبھی ایسے مقام پہ ہوتا ہے،
کہ وہ "مجرم" کو تو معاف کر دیتا ہے ،
مگر اس تکلیف کو نہیں بھول پاتا ،
جو سزا اس نے برسوں کاٹی ہوئی ہوتی ہے ۔
اتنا "صبر" اور اتنا "ظرف" کہاں سے لایا جائے"۔۔۔
بے نام سا یہ درد ٹھہر کیوں نہیں جاتا
جو بیت گیا ہے وہ گزر کیوں نہیں جاتا
سب کچھ تو ہے کیا ڈھونڈھتی رہتی ہیں نگاہیں
کیا بات ہے میں وقت پے گھر کیوں نہیں جاتا
وہ ایک ہی چہرہ تو نہیں سارے جہاں میں
جو دور ہے وہ دل سے اتر کیوں نہیں جاتا
میں اپنی ہی الجھی ہوئی راہوں کا تماشہ
جاتے ہیں جدھر سب میں ادھر کیوں نہیں جاتا
وہ خواب جو برسوں سے نہ چہرہ نہ بدن ہے
وہ خواب ہواؤں میں بکھر کیوں نہیں جاتا
💢زندگی جب بھی تری بزم میں لاتی ھے ھمیں
یہ زمیں چاند سے بہتر نظر آتی ھے ھمیں 👇
💢سرخ پھولوں سے مہک اٹھتی ھیں دل کی راھیں
دن ڈھلے یوں تری آواز بلاتی ھے ھمیں 👇
💢یاد تیری کبھی دستک کبھی سرگوشی سے
رات کے پچھلے پہر روز جگاتی ھے ھمیں 👇
💢ھر ملاقات کا انجام جدائی کیوں ھے
اب تو ھر وقت یہی بات ستاتی ھے ھمیں 👇
تُو نے کوشش تو بہت کی ہے مصنف، لیکن
ہم کہانی میں بھی ہمراہ نہیں ہو سکتے،
سب کو کنگن سے محبت نہیں ہوتی پاگل !
سارے شاعر تو وصی شاہ نہیں ہو سکتے،
آیا خیال مانگ کے اُس کو شریک سے
خوداری اچھی چیز تھی شائد کہ بھیک سے.!
یہ کِس نے پِھر سے خواب جگانے کو دے دیے
دو دِن تو نیند آتی ہے ہفتے میں ٹھیک سے..!
اِک غیر نے لکھا ہے کہ تُو غیر نہيں ہے
لگتا ہے کہ اِس بار ' میری خیر نہيں ہے
تم کتنی محبت سے مجھے دیکھ رہے ہو
حالانکہ میرا تم سے کوئی بَیر نہيں ہے
آؤ میں دِکھاتا ہوں تمھیں شہرِ خموشاں
یہ گھومنا پھرنا تو کوئی سیر نہيں ہے
تم چھوڑ بھی سکتے ہو مجھے اور نہيں بھی
اِس بات کا سر تو ہے مگر پیر نہيں ہے❤️
میرے خوابوں کا ہر ایک نقش مٹا دے کوئی
سوکھے پتوں کا بچا ڈھیر جلا دے کوئی
میری پہچان کا ایک شخص اسی شہر میں ھے
میں بھی زندہ ہوں، ذرا اسکو بتا دے کوئی
کچھ تو تنہائی کا احساس مجھے کم ہو گا
میرے سائے سے اگر مجھکو ملا دے کوئی
تیری آواز زخم بھرتی ہے
اے میرے مہربان بولا کر
نام تو دوسرے بھی لیتے ہیں
تو میری جان! جان بولا کر
کاش وہ گزری شام آجائے,
تیرے ہونٹوں پر آج میرا نام آجائے...!!💞
میرا دل تڑپتا ہے تجھ سے ملنے کو
تیرے در سے کوئی پیغام آجاۓ...!!!💕
وہ نہیں میرا مگر اس سے محبت ہے تو ہے
یہ اگر رسموں رواجوں سے بغاوت ہے تو ہے
سچ کو میں نے سچ کہا جب کہہ دیا تو کہہ دیا
اب زمانے کی نظر میں یہ حماقت ہے تو ہے
کب کہا میں نے کہ وہ مل جائے مجھ کو میں اسے
غیر نا ہوجائے وہ بس اتنی حسرت ہے تو ہے
جل گیا پروانہ اگر تو کیا خطا ہے شمع کی
رات بھر جلنا جلانا اس کی قسمت ہے تو ہے
دوست بن کر دشمنوں سا وہ ستاتا ہے مجھے
پھر بھی اس ظالم پر مرنا اپنی فطرت ہے تو ہے
انگلیاں پھیر میرے بالوں میں
میرا یہ درد سر نہیں جاتا🔥
ایسے پڑا ہوں تیری یادوں میں
جیسے کوئی مر نہیں جاتا..!!😥
میرا کوئی امام تھا ہی نہیں،
میں کسی کا غلام تھا ہی نہیں،
تم کہاں سے یہ بت اٹھا لائے،
اس کہانی میں رام تھا ہی نہیں،
ہم نے اس وقت بھی محبت کی،
جب محبت کا نام تھا ہی نہیں،
اس لیے سادھ لی تھی چپ میں نے،
اس سے بہتر کلام تھا ہی نہیں،
تو کہاں راستے میں آ گئ ہے،
زندگی تجھ سے کام تھا ہی نہیں،
اس لیے خاص کر دیا گیا عشق،
عام لوگوں کا کام تھا ہی نہیں🥀
*مجھ کو تولا گیا....خطاؤں سے،*
*میری اچھائیاں....رائیگاں نکلیں..!💯*
اب اداس پھرتے ہو، سردیوں کی شاموں میں
اس طرح تو ہوتا ہے، اس طرح کے کاموں میں
اب تو اُس کی آنکھوں کے، میکدے میّسر ہیں
پھر سکون ڈھونڈو گے، ساغروں میں جاموں میں
دوستی کا دعویٰ کیا، عاشقی سے کیا مطلب
میں ترے فقیروں میں، میں ترے غلاموں میں
زندگی بکھرتی ہے، شاعری نکھرتی ہے
دلبروں کی گلیوں میں، دل لگی کے کاموں میں
جس طرح شعیب اس کا، نام چُن لیا تم نے
اس نے بھی ہے چُن رکھّا، ایک نام ناموں میں
مجھے شوق تھا تیرے ساتھ کا
جو نہ مل سکا،چلو خیر ہے،
یہ جو بےبسی ہے چار سو
اور الجھے الجھے سے طور ہیں،
تجھے سب خبر ہے مگر تو کیوں؟
نہ سمجھ سکا ، چلو خیر ہے،
کبھی تم کو ضد تھی کہ میں ملوں
کبھی میں بضد تھا کہ تو ملے،
یونہی دھیرے دھیرے ختم ہوا
یہ بھی سلسلہ ، چلو خیر ہے
اس شرط پہ کھیلوں گی پیا پیار کی بازی
جیتوں تو تجھے پاؤں ، ہاروں تو پیا تیری
ہر لحظہ خیال تیرا رکھوں گی صرف اتنا
بیٹھ جاؤں تو بھی تیری اٹھ جاؤں تو بھی تیری
کچھ کر لوں گی حال اپنا ایسا میں ہمسفر
آنکھ لگے تو بھی تیری آنکھ کھلے تو بھی تیری
تیری ہر آہٹ پہ پالوں گی تعبیر ایسی
ہنس جاؤں تو بھی تیری روٹھ جاؤں تو بھی تیری
میں ساتھ تیرا کچھ ایسے دوں گی جانء جہاں
زنرہ ہوں تو بھی تیری مر جاؤں تو بھی تیری.
❤❤
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain