کتاب کھولو , نکالو سورۃ, کہ جس میں یوسف کا تزکرہ ہے اسی سے دوں گا, میں سب دلائل, لگے عدالت, میں آگیا ہوں سنا ہے کوئ بھی پاک دامن یہاں سے بچ کر نہیں ہے جاتا ہے دیر کیسی ! ہے خوف کس کا ! لگاؤ تہمت میں آگیا ہوں
ت ُ کبهی زندگی کی کسی تاریک راه میں, آپ کی کوئی گذشته نیکی اچانک جگنو کی مانند آ کر آپ کی راه روشن کردیتی هے, اور آپ کو گمان بهی نهیں هوتا- اور کبهی, جب آپ اپنی زندگی کی لگائی هوئی کهیتی کو دیکھ کے شاداں و فرحاں هو رهے هوتے هیں ...تو اچانک آپ کے سابقه گناه کی کوئی سلگتی چنگاری... آپ کی کهیتی کو جلا کر خاکستر کر دیتی هے اور آپ ھاتھ ملتے ره جاتے هیں- صرف پہلا قدم اٹھانا مشکل ھوتا ھے اس کے بعد اس راستے په قدم خود بخود اٹھتے جاتے ھیں, گرھیں کھلتی جاتی ھیں- اب گناھوں سے توبه کریں تو بے فکر ھو کر کر یں کیونکه یه ھمارے ھی فائدے میں ھے- اسی طرح نیکی کریں, اور کر کے بهول جائیں۔ آپ اپنی نیکی کو بهول سکتے هیں, مگر آپ کی نیکی "آپ" کو همیشه یاد رکهے گی.. یقین کیجئے, آپ کے اعمال نیک هوں یا بد, هوتے بہت وفادار هیں، .. گھوم پهر کے آپ کے پاس لوٹ آتے هیں -
بس صحیح وقت کا انتظار کرو , اور دعا کرتے رہو ۔ مخلص دل سے نکلی ہوئی بس ایک دعا وقت , حالات, نصیب اور دل تک کو بدلنے کی طاقت رکھتی ہے..! اور مت بھولنا کہ صبر کبھی رائیگاں نہیں جاتا...! ﷲ رب العزت قرآن کریم میں فرماتے ہیں کہ: اِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِـرُوْنَ اَجْرَهُـمْ بِغَيْـرِ حِسَابٍ (10) " بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔" (سورۃ الزمر 📖 : 10
اُداسی کی سب بڑی وجہ "مایوسی" ہے اور مایوسی تو کفر ہے!.... اور جو کفر کرے اس کو پھر کسی بھی چیز میں سکون کیسے آ سکتا ہے...؟؟ جو یقین نہ رکھے , اس کی دعاؤں پر "کُن " کے جلوے کیسے رونما ہو سکتے ہیں...؟؟ تو جب دل بےچین ہو جائے تو فوراً ﷲ رب العزت کی طرف بھاگ جانا , اور اس بات کا یقین رکھنا کہ جو نہیں ملا اس میں بڑی مصلحت ہے اور جو تمہارا ہے وہ تمہیں ہر حال میں مل کر رہے گا...!! اور جانتے ہو کائنات کی ہر چیز کو زندہ رہنے کے لیے کوئی نا کوئی ذریعہ درکار ہوتا ہے , جیسے جسم کو غذا (روٹی) زندہ رکھتی ہے۔ بلکل ویسے ہی روح کی بھوک تب تک ختم نہیں ہوتی ہے جب تک اس میں ﷲ نہ سما جائے...!! تو جب روح اُداس ہو تو سمجھ جانا اُسے انسان کی نہیں بلکہ ﷲ رب العزت کی ضرورت ہے...اور جس دل میں ﷲ رب العزت کی محبت سما جائے وہ پھر کبھی بے سکون نہیں ہوتا...!!
s دعائیں بھی صبر مانگتی ہیں۔ مگر انسان بہت جلد باز ہے وہ کہتا ہے کہ وہ جو مانگ رہا ہے وہ اُسے فوراً مل جائے , ذرا سا بھی انتظار نہ کرنا پڑے...! مگر یہ دنیا ہے جنت نہیں کہ جو مانگا وہ پلک جھپکتے ہی مل گیا...بیشک آپ کا رب ہر شے پر قادر ہے...!! لیکن یہاں کچھ بھی صبر اور یقین کے بغیر نہیں ملتا...! ہاں ایسا ہوتا ہے کہ کبھی کبھار ہمت ٹوٹنے لگتی ہے اور دل بےحد اُداس ہو جاتا ہے ۔ اور یہ اس لئے ہوتا ہے کیونکہ ہم انسان ہیں ہم میں جذبات و احساسات پائے جاتے ہیں..اس لئے ہم ہر وقت خوش نہیں رہ سکتے اور نہ ہی حالات کو اپنے مطابق ڈھال سکتے ہیں اور ﷲ رب العزت ایسی بے بسی پیدا ہی تب کرتا ہے , جب وہ چاہتا ہے کہ ہم اس کی طرف لوٹ آئیں...! اُداسی کبھی بھی بے سبب نہیں ہوتی
کسے سنائیں ؟ سفر ہے کیسا کسے بتائیں ؟ تھکن کی جھولی میں کیا پڑا ہے کسے بتائیں؟ ہماری آنکھوں میں کیا رکا ہے جو دل کے اندر ٹپک رہا ہے بدن کے گنبد میں گونجتا ہے ہمیں تو یہ بھی خبر نہیں ہے ہماری گٹھری میں کیا بندھا ہے جسے اٹھائے ہماری عمریں گزر گئی ہیں دعا ہے کوئی کہ بد دعا ہے .....؟