نیا سفر ہے نئے کارواں خدا حافظ دعائیں کرنا مرے سارباں خدا حافظ میں آ سکا تو کسی روز لوٹ آؤں گا مری زمین ، مرے آسماں خدا حافظ اب اس سے آگے کا رستہ اکیلے پن کا ہے دُعاۓ خیر مرے جسم و جاں خدا حافظ کہا نہیں تھا مسافر ہوں آخری شب کا سو ہو رہی ہے سحر کی اذاں خدا حافظ یہ کس مقام پہ ٹھہری ہوئی ہے کوزه گری صداۓ کُن ہے فقط الاماں خدا حافظ یہاں جدائی ضروری ہے جا رہا ہوں میں مِری سسکتی ہوئی داستاں خدا حافظ بچھڑنے والے بتاتے نہیں بچھڑتے ہوۓ جہاں بچھڑنے لگو تم وہاں خدا حافظ
لوگ کہتے ہیں کہ دعاؤں میں کیسے روتے ہیں، کیسے رونا آتا ہے۔ اس کا بس ایک ہی راز ہے، جتنی گہری تکلیف، اتنا دردِ دل اور اتنا ہی دعاؤں کا خشوع و خضوع۔ زندگی مجھے اس موڑ پر لائی کہ میرے پاس اللہ کے سامنے رونے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ تب ہی جانا میں نے کہ ہر ٹوٹنا برا نہیں ہوتا۔ ٹوٹنے کے بعد رب سے جڑنا ہو تو پھر وہ غم بھی مزہ دیتا ہے۔ آنسو بھی تکلیف نہیں دیتے۔ اور دل بھی سکون سے بھر جاتا ہے۔ اپنے زخموں کو کریدنا اور اپنی قسمت کو کوسنا چھوڑ دیں۔ یہی درد آپ کو اللہ تک لے جائیں گے
بس کچھ لمحوں کو روک لینے کا جی چاہتا ہے۔ تو ایسے میں فورا جنت کا سوچنا اس حقیقت کو خود کو بتاتے ہوۓ کہ یہ تو دنیا ہے یہاں حالات اوپر نیچے ہوتے ہیں ۔ مگر جنت تو رب نے ایسی بنا دی کہ وہ ملے گا اہل جنت کو کہ جو بھی وہ چاہیں گے۔ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ جو تمنا کریں گے وہ ملے اور جو مانگیں گے وہ ملے گا۔ سورہ الفصلت آیت 31 اللھم اجعلنا منھم ♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️
ہم صاحبِ انا ہیں، ہمیں تنگ نہ کیجئے مغرور، بے وفا ہیں، ہمیں تنگ نہ کیجئے ہم کون ہیں؟ کہاں ہیں؟ اسے بھول جائیے جیسے ہیں، جہاں ہیں، ہمیں تنگ نہ کیجئے ہم آپ کے ہیں کون؟ ہمیں معاف کیجئے ہم آپ سے جُدا ہیں، ہمیں تنگ نہ کیجئے ہم آپ سے خفا نہیں ہیں ، آپ جائیے! خود ہی سے ہم خفا ہیں، ہمیں تنگ نہ کیجئے کچھ بھی نہیں بچا ہے اب ہمارے پاس کچھ لفظ ہم نوا ہیں، "ہمیں تنگ نہ کیجئے!"