کوشش کرو جس چیز کے لیے خود ترسے ہو کوئی دوسرا آپ کی وجہ سے نہ ترسے پھر چاہے وہ خوشیاں ہوں ,رشتے ہوں یا سکون
ﺗﯿﺮﺍ ﺍﻧﺪﺍﺯ ِ ﺗﺨﺎﻃﺐ، ﺗﺮﺍ ﻟﮩﺠﮧ، ﺗﺮﮮ اﻟﻔاﻆ!!!
ﻭﮦ ﺟﺴﮯ ﺧﻮﻑ ِﺧﺪﺍ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﯾﻮﮞ ﺑﻮﻟﺘﺎ ﮨﮯ؟
اللہ جانتا ہے میں نے وہاں پر بھی صبر کیا ہے
جہاں لوگوں کے لہجے ان کے منہ پہ مارنے تھے
جب عشق مارتا ہے
تب ہی بندہ ہارتا ہے
پھر اک خدا ہی بندے کو
سنوارتا ہے نکھارتا ہے
کبھی کبھی ہم کتنے بے بس ہو جاتے ہیں کے کچھ نہیں کر سکتے🤐ذہن میں آنے والی سوچوں کو نہیں ختم کر پاتے ہیں اور اس حد تک اکتا جاتے ہیں ہر چیز سے کے اپنا آپ بھی فضول لگتا ہے۔خاموشی سے کوفت ہونے لگتی اپنے اندر کی خاموشی سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دل کرتا ہے چیخا جاۓ 💔شور مچایا جاۓ اور رویاجاۓ اپنے ادھورے خوابوں پر ۔۔
جتنا کسی کا ساتھ پرانا ہو اتناہی اسکی بے وفائ کے لیے تیار رہنا چاہیے کیونکہ تبدیلی کائنات کا خمیر ہے
بڑی عجیب یہ مجبوریاں سماج کی ہیں منافقوں سے تعلق نبھانا پڑتا ہے
وہ جسے سمجھا تھا زندگی ، میری دھڑکنوں کا فریب تھا مجھے مسکرانا سکھا کے وہ
میری روح تک کو رلا گیا
میں نے لکھنا ترک نہیں کیا تھا ہاں مگر لکھنے کے اوقات اور انداز بدل گئے تھے ۔۔رات کے گھپ اندھیرے میں میری لکھاری آنکھیں میرے چہرے کو اک کورا ورق جان کر اک بے رنگ روشنائی سے کئی تحریریں لکھتی رہی تھیں اور میں نئی تحریروں کے لیے جگہ بنانے کو انہیں ساتھ ساتھ ہی مٹاتی رہی تھی ۔۔۔۔
صدموں سے لوگ مر نہیں جاتے
تمہارے سامنے ہے مثال میری
جو باتیں پی گیا تھا میں
وہ باتیں کھا گئ مجھ کو
Aa daikh meri aankh ke bheegay howe mausam
Ye kis ne keh diya ke tujhay bhool gyee hum!