سڑکوں پہ راتـــــ کاٹــــ لـی گھر تو نہیں گئــے تیـــرے بغیـــــر دیکھ لـے مــــــر تو نہیں گئـے یہ کیا ! تمہارے چہــرے کی رنگتـــــ بدل گئی خوش باش ہم کو دیکھ کــے ڈر تو نہیں گئـے
ریزہ ریزہ کر دیا جس نے میرے احساس کو کس قدر حیران ہے وہ مجھ کو یکجا دیکھ کر
ﺗﺮﮮ ﺑﺎﻋﺚ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ ــــــ ﻋﯿﺎﺩﺕ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ" ﺗﺠھ ﮐﻮ ﺍﮮ ﺩﺭﺩ ، ﺷﻔﺎ ﮨﻮ ، ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻨﻈﻮﺭ ﻧﮩﯿﮟ
گونجے گی تیرے زہن کے گنبد میں رات دن ! جس کو تو نہ بُھلا سکے وہ گفتگو ہو میں #
چلو اب جنگلوں میں جا بسیں ہم درندے بستیوں تک آ گئے ہیں..
ﺭﺍﺕ ﭘﻮﮮ ﺗﮯ ﺑﮯ ﺩﺭﺩﺍﮞ ﻧُﻮﮞ ﻧﯿﻨﺪ ﭘﯿﺎﺭﯼ ﺁﻭﮮ ﺩﺭﺩ ﻣﻨﺪﺍﮞ ﻧﻮﮞ ﯾﺎﺩ ﺳﺠن ﺩﯼ ﺳُﺘﯿﺎﮞ ﺁن ﺟﮕﺎﻭﮮ
آنکھ میں لکھے ھوۓ کرب کو اب پڑھ بھی چکو برملا کون کہے ظلم ھوا ھے دل پر
یہ دنیا ایک بہت بڑا میلہ ہے ' پھر اس میں انگلی غلطی سے چھوٹ جاۓ یا پھر چھڑا لی جاۓ، بچھڑ جانے والے دوبارہ نہیں ملتے۔
زندگی بھر نہ بھول پایا تمہیں بس یہی زندگی کا حاصل ہے.
ﺍُﺳﮯ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺑﺘﺎﻧﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ۔۔۔ ﺍُﺳﮑﯽ ﺍﮎ ﺧﻮﺷﯽ ﮐﺎ ﻣﻮﻝ ﻣﯿﺮﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ٹھہرے ﺗﻮ ﺳﻮﺩﺍ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺳﺴﺘﺎ ﮨﮯ
میں یہ سوچوں کہ اسے یاد کراوں بھی تو کیا تھی محبت تو کوئی بھول کہاں سکتا ہے
یہ ضروری ھے کہ تم سامنے ھو تو ھوش اڑیں ھم تو تمہیں سوچ کر بھی پاگل ھوسکتے ہیں
وہ جو کبھی کبھی تھے رابطے گر ہو سکے بحال کر
کل کا وعدہ ہے کوئی بات کریں گے ، مگر آج آج ہم رو نہ پڑیں ؟ آج بہت زرد ہے دل ! 🙃