بعض اوقات انسان اتنا بے بس ہو جاتا ہے کہ اسے سمجھ نہیں آتا اب کرے کیا ایسی بے بسی جب مجھ پہ آتی ہے تو دل کرتا ہے اس دنیا سے بہت دور چلی جاؤں یا پھر کچھ وقت کے لیے گہری نیند سو جاؤں
عشق ہو تیری زات ہو پھر عشق حسن کی بات ہو 💐💐 کبھی میں ملوں کبھی تو ملے کبھی ہم دونوں چپ چاپ ہوں 💐💐 کبھی گفتگو کبھی تزکرے کبھی زکر ہو کوئی بات ہو 💐💐 کبھی میں تیری کبھی تو میرا کبھی ایک دوجے کے ہم رہیں 💐💐 کبھی رنجشیں کبھی دوریاں کبھی قربتیں کبھی الفتیں کبھی جیت ہو کبھی ہار ہو 💐💐 نا نشیب ہوں نا اداس ہوں صرف تیرا عشق ہو میری ذات
اب کی بار رشتے والے آۓ تو اماں تم اپنی جہیز والی پیالیاں مت نکال لینا میں نے تھوڑے پیسے جوڑ کے رکھے ہیں ایک اچھا سا ٹی سیٹ لے آنا بازار سے ۔۔ ارے میری تی اس سب سے کیا فرق پڑتا ہے پسند انہوں نے تجھے کرنا ہے پیالیوں کو تھوڑی دیکھنے آرہے وہ لوگ ۔۔ اماں تجھے نہیں پتا آج کل یہی سب زیادہ دیکھا جاتا ۔۔ سامنے والوں کی آمنہ کہتی ہے تم لوگوں کا گھر اچھا نہیں اسی لیے رشتے والے تیرا رشتہ نہیں کرتے۔۔ اماں ہم کسی جگہ ایک کراۓ کا اچھا مکان لے لیتے ہیں نا جس کے فرش پے ٹائیلیں لگی نظر آئیں ۔۔ اور ۔۔ اور دروازے بھی لکڑی کے ہو ۔۔۔ میں دو دو نوکریاں کر لوں گی نا اماں مان جا نا ۔۔ دیکھ نا اماں میرے اتنے خوبصورت ہونے کے باوجود کوئی شادی نہیں کرنا چاہتا میرے سے ۔
کبھی یوں ہوتا ہے کہ میاں بیوی دو الگ مزاج کے ہوتے ہیں۔ اس قدر کہ ایک چھت کے نیچے رہ کر بھی ایک دوسرے کے لئے اجنبی۔ قصور دونوں کا ہی نہیں ہوتا شاید۔ اپنی سی کوشش کی جاتی ہے کامپرومایز کے نام پر، لیکن نہیں نبھتی۔ جب فاصلے بڑھتے ہیں، اندر تہہ بہ تہہ غصہ بڑھتا جاتا ہے تو آئے دن پریشر کوکر کی طرح پھٹتا ہے اور چھینٹے دور دور تک جاتے ہیں۔ میاں بیوی کیساتھ بچے بھی اس گندگی کی زد میں آ جاتے ہیں۔ اب گھر نہ ٹوٹے، اس لئے ان دو لوگوں کو جنہیں ایک دوسرے سے کسی قسم کا کوئی لگاؤ نہیں، جو کچھ دیر بھی ایک دوسرے کو برداشت نہیں کرنا چاہتے، ساری عمر کے لئے ایک ساتھ رہتے ہیں۔ کیوں؟ گھر بچانے کی خاطر۔ بچوں کی خاطر۔ اور بچوں کو کیا ملتا ہے؟ ایک ٹوٹا پھوٹا گھرانا۔
نظروں کی اک دوڑ تھی لگی ہوئی ہمارے باہم اپنی آنکھوں کی رفتار سے وہ ہم کو ہرانے لگے انکی نظروں کا یہ راز مجھ پر آشکار نہ ہو سکا ابتک وہ دوڑے ایسے جیسے اس دوڑ پر ہیں خزانے لگے
مری چاہتوں کے سراب میں، ترا عہدِ ہجر مکیں سہی مجھے تیرے درد کی آس ہے ،وہ کبھی سہی وہ کہیں سہی ۔ نہ مِلا حرم تو نہیں سہی ، ترے نقشِ پا کے قریں سہی ہمیں سجدہ کرنے سے ہے غرض ، جو وہاں نہیں تو یہیں سہی ۔ مری آہ کو نہ سمجھ زبوں ،کہ بھروں جو آہ تو پھونک دوں ترا تاج تاجِ شہی سہی ،ترا تخت تختِ بریں سہی ۔ ہے اگر گُماں میں تری ثنا، شبِ ہجر سے مجھے کیا گِلا تری رائیگانی تو ساتھ ہے ، تُو نہ ہو سکا تو نہیں سہی ۔ ترا غم ہی میرا وجود ہے ،یہ وجود مثلِ درود ہے نہ سہی مکیں مرے دل میں تو، کسی اور دل میں مکیں سہی ۔ جسے جستجو ہو وہ جان لے ، جسے آرزو ہو وہ مان لے تُو خُدا خُدا میں مکیں سہی ، میں بشر بشر میں مکیں سہی ۔ نہیں میکدے کا پٙتا اگر، تو حرم کی ڈھونڈ لیں رہگزر ہمیں بادہ خواری سے کام ہے ، جو یہاں نہیں تو وہیں سہی !!
شاید صرف دو ہی قدم میرے آپ کے قدموں کے ساتھ اُٹھے تھے جب میں نے پوچھا "جانا نہیں؟" اور وہ دو قدم مجھے زندگی جیسے لگے ❤ بہت عرصے بعد یوں لگا جیسے میں جی اُٹھی ہوں یوں جیسے بس ہاتھ تھامنا باقی تھا جیسے کہہ رہے ہوں "کتنی دیر لگا دی تم نے آنے میں، آو چلیں اب!!!" ہائےےے وہ بے اختیاری میں اُٹھتے قدم، جیسے ہم ساتھ ہی تو آئے تھے۔۔۔ وہ آنکھیں تو جیسے رگوں میں دوڑ رہی ہیں ۔۔۔ اک ان چھوئے مگر آشنا لمس کی قربت کو اتنا پاس پا کر بے مراد لوٹنے کی وجہ سے کان چہرہ حتٰی کہ پورا جسم ابھی تک تپ رہا ہے ۔۔۔ وائے شومیءِ قسمت
محبت یا ہوتی ہے، یا نہیں ہوتی اور جس محبت کیلئے لفظ "تھی" کا استمعال ہو، وہ کیسی محبت ہوئی بھلا...؟؟؟ کیا محبت بھی کبھی ختم ہوتی ہے؟؟؟ محبت کوئی رشتہ نہیں جو آج ہے اور کل ختم... محبت تو اک احساس ہے، جو روح میں بستا ہے. محبت ہمیشہ رہتی ہے دل میں... کبھی سکوں بن کر تو کبھی درد بن کر... اُس سے محبت ہے اور ہمیشہ رہے گی؛ درد بن کے ہی سہی، مگر رہے گی ضرور... ساتھ رہنے نہ رہنے سے بھلا کیا فرق پڑتا ہے... اور کم بخت اس محبت میں ساتھ رہنا نہ رہنا ہم انسانوں کے اختیار میں کہاں ہوتا ہے؟؟
اسکے اندر سناٹے چیختے ہیں ویرانیاں بھائیں بھائیں کرتی ہیں اور ہم محبت کرنے والے ایک آسیب جیسے ہو جاتے ہیں جس کے پاس پھر کوئی بشر نہیں ٹہھرتا ۔۔۔ ٹہھر بھی جائے تو ہماری ویرانی اسکو نہیں چھوڑتی۔۔۔ ہم کتنے بھی سچے کیوں نہ ہوں جھوٹے ہو جاتے ہیں
میں لوگوں کو چیخ چیخ کر بتانا چاہتا ہوں کہ محبت مت کرو ہو جائے تو بھاگ جاؤ ۔۔۔ خاص کر ایسی محبت جس میں دوسرا تمھارا نہ ہو۔۔۔ محبت ایسا درد ہے کہ آپ گھنٹوں ایک جگہ ساکت کر جائے ۔۔۔ آپکو آپکی پہچان بھلا دے۔۔۔ آپکو ہنسنے سے ڈر لگتا ہے۔۔۔ آپ رات میں کئی بار نیند سے جاگتے ہیں تو درد سے سانس لینا مشکل ہوتا ہے۔۔۔ شدت بڑھ جائے تو اندر سب دفن ہونے لگتا ہے ہر چیز اور ایک دن ہم پھٹ پڑتے ہیں اس دن ہمارا اپنا آپ بکھر جاتا ہے۔۔۔ ہم لڑ لڑ کر بھی تھک جاتے ہیں ۔۔۔ خدارا محبت کے نام پہ خود کو برباد مت کریں محبت بڑی تکلیف دیتی ہے بڑا جگرا چاہیے اس درد کی انتہا سہنے کو۔۔۔ شاید پاگل کا علاج ہو جائے مگر محبت کے پاگل پن میں کوئی ایک اپنے اندر کہیں مر جاتا ہے دفن ہو جاتا ہے۔۔۔