حسرتوں کے دفن کا سامان ہونا چاہئے
دل کے اک کونے میں قبرستان ہونا چاہئے
ہم روتے رہے رات بھر فیصلہ نہ کر سکے
کہ تم یاد آ رہے ہو یا ہم یاد کر رہے ہیں
میں بھی اذنِ نوا گری چاہوں
بے دلی بھی تو لب ہلاتی ہے
کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے
روز اک چیز ٹوٹ جاتی ہے 🖤
خون جلاتا ہے میرا
🔥 اوروں سے ہمکلام ہونا تیرا
دنیا کسی نادان سے بچے کی طرح تھی
اور دل تھا ہمارا کہ کھلونے کی طرح تھا
چالاکیاں دنیا میں رہنے کیلئے کافی ہیں.
روزمحشر عقلوں اور دلیلوں پر فیصلے نہيں ہونے..
⇚ جب تم کسی مصروف شاہراہ کو پار کرنے کے لیے قدم آگے بڑھاتے ہو اور سامنے سے فراٹے مارتی ہوئی گاڑی دیکھ کر اپنا انجام سوچتے ہو اور یکدم پیچھے ہو جاتے ہو تو اس انجام کی فکر کو "ڈر" کہتے ہیں۔
•☜ پس یہی ڈر تمہیں اس وقت بھی ہونا چاہیے کہ جب تم کسی گناہ کی طرف قدم بڑھاؤ تو تمہیں آخرت میں اس کے انجام اور اللہ کی پکڑ کی فکر ہو اور تم فورا اس گناہ سے پلٹ جاؤ یقین مانو اللہ والے بن جاؤ گے۔🌷
مجھے اپنے آپ میں کھونے دے......
اے عشق ____تماشا ھونے دے.
لفظُوں کا سہارا لے کر مُحبت کا اظہار کرتے رہو گے
آخر کب تک یُوں چُھپ چُھپ کر پیار کرتے رہو گے
محبت کی جگہ نفرت آ جاٸے اور دل سے تیرا پیار جاتا رھے
مجھے اِتنے بھی فریب نہ دو کہ تجھ پر سے میرا اعتبار جاتا رھے
یہ بات کتنی اُداس اور مایوس کر دینے والی بات ہے کہ انسانی دانش اپنی تمام تر معجز نُمائی کے باوجود سب سے زیادہ مہیب اور مہلک بیماری یعنی نفرت کا علاج کرنے میں آج تک بُری طرح ناکام رہی ہے۔🖤
کب تک ترستے رہیں گے تجھے پانے کی حسرت میں؟
دے کوئی ایسا زخم کہ میری سانس ٹوٹ جائے اور تیری جان چھوٹ جائے
Assalam o alaikum
Good morning
Have a nice day!
Allah Hafiz
Good night
take care
عمر بیت گئی پر --------ایک زرا سی بات سمجھ نہیں آئی
ہو جائے جن سے محبت وہ لوگ قدر کیوں نہیں کرتے
میرے لکھنے سے آپ کو کیا مسئلہ ہے..
آپ کی خاطر کیوں ذوق سے جائیں...
شاعری پہلا عشق ہے میرا..
آپ جاتے ہیں تو شوق سے جائیں
محسن وہ میری آنکھ سے اوجھل ہوا نہ جب
سورج تھا میرے سر پہ مگر شام ہوگئی!
جس کے ہونے سے تھی سانسیں میری دگنی محسن
وہ جو بچھڑا تو میری عمر گھٹا دی اس نے
درد کی اِس شدت میں شریانوں کی خیر
یادیں۔۔۔ اور یادیں بھی اُن شاموں کی۔۔۔ خیر
کسی بہانے اُس کا فون تو آیا ہے
شہر میں اُڑنے والی افواہوں کی خیر
لوٹ آنے کی ویسے کوئی شرط نہ تھی
پھر بھی وقت پہ آجانے والوں کی خیر
خیر و شر سے ہٹ کر بھی اک دنیا ہے
اُس دنیا کے کھیتوں کھلیانوں کی خیر
میں نے اِن سے ہٹ کر راہ نکالی ہے
رستہ روکنے والی دیواروں کی خیر
ڈھیرمحبت کرنے والوں کے صدقے
مٹھی بھر نفرت کرنے والوں کی خیر
ھم اِتنے پریشاں تھے ، کہ حالِ دِلِ سوزاں
اُن کو بھی سُنایا ، کہ جو غمخوار نہیں تھے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain