ایویں کر توں
دریا وچوں
مچھلی کڈھ کے
دھپ تے سٹ گھت
ول توں اوکوں ڈیکھ
یعنی میکوں ڈیکھ
مرد تو وہ ہے جس کے سائے میں _____!
عورت خود کو محفوظ سمجھے _____!
میری آنکھوں کو دم کریں مرشد
وہ میری آنکھ سے نہیں جاتا
جو الفت میں ہر اک ستم ہے گوارہ ‛
یہ سب کچھ ہے پاسِ وفا تم سے ورنہ ‛
ستاتے ہو دن رات جس طرح مجھ کو ‛
کسی غیر کو یوں ستا کر تو دیکھو .
اگرچہ کسی بات پر وہ خفا ہیں ‛
تو اچھا یہی ہے تم اپنی سی کر لو .
وہ مانے نہ مانے یہ مرضی ہے اُن کی ‛
مگر اُن کو پرنم منا کر تو دیکھو .
تمہیں دل لگی بھول جانی پڑے گی ‛
محبت کی راہوں میں آ کر تو دیکھو
تمہیں دل لگی بھول جانی پڑے گی ‛
محبت کی راہوں میں آ کر تو دیکھو .
تڑپنے پہ میرے نہ پھر تم ہنسو گے‛
کبھی دل کسی سے لگا کر تو دیکھو .
وفاؤں کی ہم سے توقع نہیں ہے ‛
مگر ایک بار آزما کے تو دیکھو .
زمانے کو اپنا بنا کر تو دیکھا ‛
ہمیں بھی تم اپنا بنا کر تو دیکھو .
خدا کے لئے چھوڑ دو اب یہ پردہ ‛
کہ ہیں آج ہم تم نہیں غیر کوئی .
شب ِوصل بھی ہے حجاب اس قدر کیوں ‛
ذرا رُخ سے آنچل اٹھا کرتو دیکھو .
جفائیں بہت کیں بہت ظلم ڈھائے ‛
کبھی اک نگاہِ کرم اِس طرف بھی .
ہمیشہ ہوئے دیکھ کر مجھ کو برہم ‛
مری جاں کبھی مسکرا کر تو دیکھو .
بخت کے تخت سے یکلخت اتارا ہوا شخص
تُو نے دیکھا ہے کبھی جیت کے ہارا ہوا شخص