ٹھنڈی برف ہتھیلی پہ
تقدیر کی ماری
اک لڑکی چپکے سے
آہیں بھرتی ہے
وہ زلفوں کے کالے بادل میں
اک چاند
چھپائے رکھتی ہے
الفاظ تو
ساتھ نہیں دیتے
خاموشی پہرہ دیتی ہے
ہاں
سرد مزاج وہ ایسی ہے!
بچھڑتے وقت ان آنکھوں میں تھی ہماری غزل
غزل بھی وہ جو کسی کو ابھی سنائی نہ تھی
ان جذبوں کی نقل مکانی میں
آدھی ادھوری حسرتوں میں
میں،ہنستی مسکراتی سی لڑکی ہوں
ہنسنے کی کوشش میں اکثر رو پڑتی ہوں