یہ جو شخص لگتا ہے پھول سا، اِسے کچھ نہ ہو مجھے کچھ بھی ہو مگر اے خدا، اِسے کچھ نہ ہو یہ دیا جلایا ہے میں نے یار کے نام پر تجھے پہلے کہتا ہوں اے ہوا، اِسے کچھ نہ ہو
خطا معاف کے زمانے سے بدگماں ہو کر _ تیری وفا پر بھی کیا کیا ہمیں گمان گزرے ___ جنوں کے سخت مراحل بھی __تیری یاد کے ساتھ حسین حسین نظر آے ___ جواں جواں گزرے
زندگی میں اتنی منفیت بھر چکی ہے کہ اب منفی سوچ رکھنے والوں ذہنوں سے ڈر لگنے لگا ہے اسلئے کوشش کرتی ہوں ان لوگوں میں رہوں جنکے خیالات مثبت ہوں کیونکہ وہ میری شخصیت پر بھی خوشگوار اثرات مرتب کریں گے میں ایسے لوگوں کہ درمیان نہیں رہ سکتی جو مجھ سے جلتے ہوں چڑتے ہوں یا جن کو میں پسند نہ ہوں یہ جو جلنے والوں کو جلا کر جینے والی پالیسی ہے ناں میری سمجھ سے باہر ہے_____😇 میں خاموشی سے ہر اس انسان کی زندگی سے نکل جاتی ہوں جسے میرا وجود کھٹکتا ہے