میرے شوق کی یہیں لاج رکھ
وہ جو طُور ہے ، بہت دور ہے
بہت مجبور آنکھیں تھیں بہت بے ربط جملے تھے
ضرورت کو بیاں کرنے سے اک خوددار قاصر تھا 💔😢
بہت مجبور آنکھیں تھیں بہت بے ربط جملے تھے
ضرورت کو بیاں کرنے سے اک خوددار قاصر تھا 💔😢
وہی مہک تھی ہوا میں سو ہم نے پوچھے بغیر
پرائے شہر میں اُس کا مکان ڈھونڈ لیا ___!!
دے کوئی طبیب آ کے، ہمیں ایسی دوا بھی
لذت بھی رہے درد کی، مل جائے شفا بھی
اک ادا سے دل چھلنی، اک ادا تسلی کی
یارِ من ستمگر بھی، یارِ من مسیحا بھی🥀
#
حیرت ہے کہ ہم لوگ بھی ٹھکراۓ گئے ہیں
ہم جیسے تو سینوں سے لگانے کے لئے تھے
____🥀✨🔥
غم حیات کا جگھڑا مٹا رہا ہےکوئی
چلے آئو کے دنیا سے جارہا ہےکوئی😇
تمہارا آخری خط میری سمت لاتے ہوئے
کبوتر آکے گرا چھت پہ تھر تھراتے ہوئے💔😇
-" یار! اس شخص کی مجبوریاں فاتح ٹھہری__
اور میرے خواب۔۔۔" ہاں وہ خواب سولی چڑھے😢💔😇
اپنے ماضی کے تصور سے ہراساں ہوں میں
اپنے گزرے ہوئے ایام سے نفرت ہے مجھے💔🥺😇
جندڑی کیکوں ڈکھ سنڑواواں...!
کہیں کوں کہیں دا ڈکھ نئیں تھیندا...
وہ مجھے چھوڑ کر پچھتایا بھی نہیں
آپ کہ رہے ہیں محبت مکافات عمل ہے😔💔😇
کچھ اداسیاں کسی کے ساتھ بھی بانٹی نہیں جا سکتی
انہیں خود کے اندر رکھنے میں ہی سکون ہوتا ہے💔😊
🧑🎤تشنہ لب ، ____😌
آرزوئے دِل ،_______🥀
رنجشِ گُلستاں کے اِرادے ،_______💔
اِتنی خاموشی ہے ،__________😔
کوئی چاۓ ____☕ ہی پلا دے!!_____😋
تو مجھے گردِ دو عالم میں لیے پھرتا ہے
میں نے کیا ایسا کیا تجھ کو میسر آ کر
خالی پن حـــزم نہیں، کرب و بلا ھوتا ہـے۔۔۔
چاٹ جاتی ہیں ، وجودوں کو خلائیں شاہا۔۔۔۔
ہم نے سمجھا کہ ہمیں تُو ہی سمجھ سکتا ہے۔۔۔
تُوں بھی دنیا ہے مگر، خیــــــر، دعائیں شاہا۔۔۔
☆ایک بدذات کی چاہت کا اسیر آدمی تھا☆
☆ہنسی آتی ہے کہ میں کیسا فقیر آدمی تھا☆
☆جن کی میں پہلی محبت تھا وہ کہتے ہوں گے☆
☆اوّل اوّل جسے چاہا وہ اخیر آدمی تھا☆
☆کچھ بھی منوا لیا کرتا تھا وہ مجھ سے ، رو کر☆
☆دُکھتی رگ بھانپ گیا تھا بڑا پِیر آدمی تھا☆
☆خود بلندی پہ مجھے لا کے گرانے والے☆
☆مجھ سے کیا دشمنی تھی میں تو فقیر آدمی تھا☆
