ممکن ہے کہ کھا جائے یہ ہجرت اسے کہنا ہم جھیل رہے ہیں تری قلت اُسے کہنا ہاتھوں کی لکیروں میں ترا نام نہیں ھے اور بڑھتی چلی جاتی هے چاہت اسے کہنا اک بار پلٹ آئے سینے سے لگا لے اب سانسوں میں ہونے لگی دقت اسے کہنا کسی شخص کے جانے سے کوئی مر نہیں جاتا ہاں لہجوں میں آجاتی هے شدت اسے کہنا. 🍒🍒
تھک گئے کاوشِ فضول سے ہم باز آئے ترے حصول سے ہم__! جھڑ گئے ایک شام چپکے سے شاخ سے پھول اور پھول سے ہم ٹھوکر ایسی لگی کہ گھوم گئے سیدھی رہ چل پڑے تھے بھول سے ہم