نہ پوچھو دل ناداں کی مرض کی دوا
بس گرما گرم چائے اور ٹھنڈی ہوا
مجھ سے انا کچھ بھی کروا دیتی ہے
پسندیدہ انسان سے نفرت بھی.
دل اور وفاؤں کی سو فیصد ضمانت ہے
دماغ اور انائیں کب کیا کریں کوئی گارنٹی نہیں
اگر کوئی اپنا دشمنوں کی صف میں کھڑا ہو
تو اس کو دوسروں سے زیادہ اذیت دیں
تکلیف دے کر مُحبت جتلانا، ٹانگ کاٹ کر
بِیساکھی دینے کے مترادف ہے..
میرے ساتھ چلو اور دنیا کو جلنے دو، کیونکہ ہم
زیادہ دیر تک جوان نہیں رہیں گے۔
کوئی تو رابطے کی صورت ہو، ایک فون کال، ایک میسج ، سرخ دھڑکتا ہوا دل
تمہارے شہر سے میرے شہر تک آتے ہوئے بادل
کوئی شناسا جو تیرا ذکر کرے
میرے لیے لکھی کوئی پیار بھری تمہاری تحریر
تمہارا ہم نام کوئی بچہ
کوئی بات تمہارا چہرہ کچھ بھی جو اداسی کو دور کرے پتہ نہیں یہ اداسی
ہم خالی ہاتھ رہ جانے والوں سے کیا چاہتی ہے
میرا ادل کرتا ہے کبھی وہ میرے سامنے بیٹھے
میرا حال پوچھے اور دیکھ کر کہے یہ کیا کر دیا ہے تم نے
خود کو۔
ہر بار آپ ہم غلط نہیں ہوتے تو ہم خود کو سزا
کیوں دیتے ہیں ؟
اس صورتحال میں خود کو سزا دینا بھی تو غلط
ہے نا کہ کسی کو فرق ہی نا پڑے ۔
اگر کوئی آپکو نہیں سمجھ رہا وہ آپ کے ساتھ
نہیں رہنا چاہ رہا تو کیوں ہم اس کے پیچھے پڑ
جاتے ہیں ۔۔اگر ہم اس کے بغیر نہیں رہ سکتے تو یہ
ہمارا مسئلہ ہے ۔
لہذا خود کو اہمیت دیں جو آپ کے ساتھ نہیں
رہنا چاہتا اس کو اچھے سے الوداع کر کہ آگے بڑھنا
سیکھیے ۔
آ تُو بھی حِصہ ڈال دے اس کارِ خیر میں
آ تُو بھی پاؤں رکھ دے دلِ پائمال پر
وقت، حالات اور رشتے بھی مگر تم اپنے اندر اتنی
طاقت پیدا کرو کہ کسی کے بدلنے سے تم کمزور
نہ ہو۔ خود کو اس مقام پر لے جاؤ جہاں کسی کے
لفظ تمہیں توڑ نہ سکیں، کسی کی غیر حاضری
تمہیں اکیلا نہ کرے، اور کسی کی بے رخی
تمہارے سکون کو نہ چُھو سکے۔
میرے دل میں ایک خانہ تمہارے لیے خالی تھا جسے تم
نے اپنے ہاتھوں سے تباہ کر دیا ۔
ہر انسان مختلف ہوتا ہے،ہر انسان کی حدود ہوتی ہیں
تم نے انہیں ہی عزت نہیں دی،
مجھے کیسے دیتے؟
وہ آہستہ آہستہ یہ کہتے ہوئے پیچھے ہٹ رہی تھی ۔
"وہ پرفیکٹ زندگی جینے کی حسرت اس کے پیروں تلے
دب گئی "
وہ اسے خالی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی ۔
آدھی عمر suffer کرنے کے بعد اسے جو انعام ملا تھا
وہ "بے حسی" تھی،
سفاک پن" تھا ۔"
وہ ایک ایک کر کے اس انسان کے دکھائے ہوئے خواب
گن رہی تھی ،
وہ بے شمار تھے۔
اس نے ہاتھ نیچے گرا لیے جیسے ان میں جان ہی نہ ہو۔
دو سال پہلے وہ اس انسان سے ملی تھی،
باتیں کرتے کرتے اس نے اپنا دل اس انسان کے حوالے کر
دیا جس کے پاس دل ہی نہیں تھا۔
اس نے کہا تھا کہ وہ اُس کے لیے ہمیشہ موجود رہے گا،
وہ اسی لمحے میں ٹھہر گئی
اور وہ چلا گیا ۔
کہانی صرف یہیں ختم نہیں ہوئی،
وہ پھر ملے ۔۔
ہم ہر کسی کو پسند نہیں آ سکتے، اور نا ہی ہم ہر کسی
کو پسند آنے کے لیے پیدا ہوئے ہیں.
جیسا تجھے پسند ہے ویسا نہیں ہوں میں
زندگی میں ساتھ دینے والے اگر بے بس اور لاچار ہو
جائیں تو انہیں سنھبالا جاتا ہے تبدیل نہیں کیا جاتا!
مُحبت ایسے ہی ہے جیسے کوئی گُونگا گُڑ کھائے اور
ذائقہ نہ بتا سکے ۔
وہ ڈاکیہ جس نے اپنی زندگی کے تیس سال لوگوں تک
ان کی چٹھیاں پہنچاتے گزارے ہوں لیکن
وہ خود ساری زندگی خود سے بچھڑے لوگوں کے خطوط
کا انتظار کرتے ہوئے ریٹائرڈ ہوا ہو
میں اس ڈاکیے کا دکھ ہوں
اپنے دُکھ کی حفاظت کریں
آپکا دُکھ بہت سے
لوگوں کی تفریح ہو سکتا ہے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain