دن کو مسمار ہوئے،رات کو تعمیر ہوئے
خواب ہی خواب فقط روح کی جاگیر ہوئے
دیدہ و دل میں تیرے عکس کی تشکیل سے
ہم
دھول سے پھول ہوئے،رنگ سے تصویر ہوئے
ایک ھی شہر میں رھنا ھے ، مگر مِلنا نہیں
دیکھتے ھیں ٫ یہ اذیّت بھی گوارہ کر کے۔
انہیں یہ غم ہے کے میں سب سے مختلف
ہوں ،اور مجھے یہ افسوس ہے کے یہ سب
ایک جیسے ہیں ۔
میری غلطیوں کو اتنا مت کریدو، ایسا نا ہو
آپ پر انکشاف ہو کہ آپ بھی اُنہیں میں سے
ایک غلطی ہو..
باہر تو خیر مسئلہ بس ٹھیک ٹھاک رہا مگر
اندر کی ٹوٹ پھوٹ نے خاموش کر دیا مجھے
بھولتے ہیں رفتہ رفتہ اُنہیں مُدّتوں میں ہم
قسطوں میں خود کشی کا مزا ہم سے
پوچھے
اگر پڑ جائے عادت آپ اپنے ساتھ رہنے کی
یہ ساتھ ایسا ہے کہ انسان کو تنہا نہیں
کرتا
وہ گفتگو تھی اُس کی، اُسی کے لیے ہی تھی!
کہنے کو، یوں تو میں بھی شریکِ سُخن سا تھا
حاصل مجھے تو پہلے بھی نہیں تھا
کھویا میں نے تجھے اج بھی نہیں ہے
کوئی دھوکا نہ کھا جائے میری طرح
ایسے کھُل کے نہ سب سے ملا کیجیے
عقل و دل اپنی اپنی کہیں جب خمار
عقل کی سُنیے، دل کا کہا کیجیے
سمیٹ لو خود کو ، کہیں دیر نہ ہو جائے
چاہتوں کا مان رکھا کریں پچھتاوے کام نہیں آتے
انبکس میں جھاڑو پوچا لگا لینا آج میرا
میسج آئے گا
وہ پوچھنا تھا کہ
خیالی پلاؤ بنانے کے لیے
کونسے چاول استعمال ہوتے ہیں
بہت اچھا ہے کہ ہم باتیں بھول جاتے ہیں اگر
سب باتیں ہمیشہ یاد رہتیں تو ہم کبھی
خوش نہ ہو پاتے
لوگوں کو اگنور اور بلاک کرنا کافی نہیں مجھے اب بندوق چاہئے
الوداع کی کوئی شکل نہیں ہوتی ، یہ کبھی ،
کہیں ، کسی وقت بھی واقع ہو سکتا ہے
جھوٹ ہم بولیں مناسب تو نہیں لگتا مگر
سچ اگر صاف کہیں لوگ برا مانتے
ہیں
اس سےمحتاط رہو
جو اچانک تم پر مہربان ہونے لگے