:کچھ ہی لوگ ہوتے ہیں جو آپ کے لیے آپکے
حصے کی جگہ بچا کر رکھتے ہیں
محبت کی خوبصورتی کا تقاضا یہ ہے کہ بات اگر عورت کی عزت پر آجائے تو الزام اپنے سر لے لو۔۔۔
محبّت نَہ مِلے تو ہَم میچیور ہوجاتے ہیں اور اگر مِل جاۓ تو بچے بن جاتے ہیں یہ طے ہے کہ محبّت ہوجانے کے بَعد ہَم پہلے جیسے نَہیں رہتے
انسان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ جانے والی چیز کے ملال میں مبتلا رہتا ہے کہ آنے والی چیز کی خوشی اسے مسرور نہیں کرتی۔
الحياةُ اسمُها نفسُها أن تفقدَ كلَّ شيءٍ
. زندگی کا نام ہی سب کچھ کھو دینا ہے"
ہم جیسے لوگوں کو ایک ہی شخص ،میں رہ جانے کی بیماری ہوتی ہے
آپ بولتے نہیں ہو تو خوفزدہ ہو جاتے ہیں ہم
آپ کے خفا ہونے بہت ڈر جاتے ہیں ہم ـــــــ !!
مانا آسان نہیں ہے یہ دور کی دوستی کا سفر !!
آپ سے ملنے کی امید میں ہی جئیے جاتے ہیں ہم
*غالبؔ برا نہ مان جو واعظ برا کہے*
*ایسا بھی کوئی ہے کہ سب اچھا کہیں جسے
پختگی کوئی تُحفہ نہیں ہے یہ تو اُن چوٹوں کی قِیمت ہے جو انسان نے خاموشی سے برداشت کی ہوتی ہیں
بعض اوقات ہمارے اندر ہماری ہر چیز رو رہی ہوتی ہے
سوائے آنکھوں کے ۔
ﺁﺝ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﻮ .....ﻧﯿﺎ ﻣﻮﮌ ﺩﯾﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ
ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﮭﻼ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ😜
ﭘﮩﻠﮯ ﮨﻨﺴﺘﺎ ﺗﮭﺎ ......ﻣﯿﮟ ﻣﻨﮧ ﮐﮭﻮﻝ ﮐﮯ😜
ﺍﺏ ﺗﻮ ﺁﮔﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﯽ ﺩﺍﻧﺖ ﺗﻮﮌﺩﯾﺎ ﺍﺳﮯ ﻧﮯ
ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﺮﮔﻮﺷﯽ ﮐﺎ ﮐﮩﺎ ﻣﯿﮟ ﺑﮯ ﺗﺎﺏ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ
ﮐﺎﻥ ﭘﺎﺱ ﮐﯿﺎ ................ﺗﻮ ﻣﺮﻭﮌ ﺩﯾﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ
ﺳﺮﺩﯾﺎ ﮞ ﺁﺋﯿﮟ .......ﺗﻮ ﻻﯾﺎ ﻣﺎﻟﭩﮯ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ
ﻣﺎﻟﭩﺎ ﮐﮭﺎ ﮐﮯ ﭼﮭﻠﮑﺎ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﭽﻮﮌ ﺩﯾﺎ ﺍﺱ نے
ﺑﮯ ﻭﻓﺎﺋﯽ ﮐﯽ ﺣﺪ ﺩﮐﮭﺎ ﺩﯼ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﺱ ﻇﺎﻟﻢ ﻧﮯ
ﻣﻠﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﭘﯿﭽﮭﮯ ....ﮐﺘﺎ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ ﺍﺳﮯ ﻧﮯ
پھول (گلاب)
عورت سے اپنی خوبیاں لیتا ہے!
نزاکت ، نرمی اور خوشبو۔۔🌹
مقام حیرت ہے کہ تمام عمر
گزاریں گے اپنی اپنی.....
مگر سوچیں گے ایک دوجے کو
کچھ لوگوں کی ہر دور میں پڑتی ہے ضرورت
کچھ لوگ کبھی دل سے نکالے نہیں جاتے
تجھے دکھ ہے، تیرے اپنے کوستے ہیں تجھے
مجھے دیکھ، میں اپنوں میں گنا نہیں جاتا
پچھلا برس تو کھو گیا بیتے سمے کی دُھند میں
حدِ نگاہ صفر ہے ، اگلے برس کی خیر ہو
چھوڑ کر مجھ کو جا بھی سکتا ہے
یار ہے! یارِ غار تھوڑی ہے
میرا ہمدرد اک میں ہی ہوں
کوئی لمبی قطار تھوڑی ہے
جب عورت اپنی من پسند کی ہو
تو شرارت بھی عبادت سی لگتی ہے
ہنسی میں جو آنکھوں سے بات ہو جائے
تو خاموشی بھی شکایت سی لگتی ہے
اس کی ایک شوخ نظر کے اشارے پر
دل کا سنبھلنا بھی حماقت سی لگتی ہے
چھو لے جو وہ باتوں سے دل کے کونے
ہر چھوٹی سی حرکت، چاہت سی لگتی ہے
تم کبھی یوں مسکرا کر دیکھو تو سہی
پھر ہر شرارت، محبت سی لگتی ہے
پھر نئے سال کی سرحد پہ کھڑے ہیں ہم لوگ
راکھ ہو جائے گا یہ سال بھی حیرت کیسی
پھر وہی خواب وہی وقت کے دھوکے ہوں گے
زندگی تجھ سے بدلتی ہے یہ عادت کیسی
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain