سرد موسم سے کون ڈرتا ہے
سرد لہجوں سے جان جاتی ہے
کبھی ایسا بھی ہو، رُوبرو تم بیٹھو
ہماری آنکھوں سے، ذرا خود کو دیکھو
اچھا بنو گے تو کیا حاصل، برا بنو تو کیا کھونا یہ دینا کھیل تماشا ہے یہاں ہر شخص پر تالی بجتی ہے
آئینہ پھیلا رہا ہے خود فریبی کا منظر
ہر کسی سے کہہ رہا ہے آپ سا کوئی نہیں
اے '' حَرفِ تَسَلی '' تیرے مَشکُور ہَیں لیکن
یہ "خیر ہَے" کہنے سے ، بہت آگے کا دُکھ ہے
ہم نے رکھی ہے دل کی تسلی کے لیے
کیا کوئی جرم ہے تصویر تمہاری رکھنا
جو روتے ہو سسکتے ہو
بڑے بے چین پھرتے ہو
یہی تو ہونا بنتا ہے
محبّت لفظ تھوڑی ہے
جو لکھو، پورا ہو جاۓ
یہ تو دیمک کے جیسی ہے
جو دل کو خاک کر دے گی
تمہیں برباد کر دے گی۔۔
کبیرا ! ہم تم ایک ہیں، کَہن سُنن میں دو,
من کو من سے تولیئے، کبھی نہ ہوں گے دو
بھگت کبیر
سُن ، اے جمالِ یار ____ذرا سی پناہ دے
آیا ھُوں تیرے پاس ، مسائل سے بھاگ کر
مرنے والے تو خیر ہیں بے بس
جینے والے کمال کرتے ہیں
رہو خفــا بھی مگــر ، میرے سـاتھ سـاتھ رہو
تمہــارے ساتھ سـے ، کتنـے ہی درد ٹلتـے ہیں
کبھی کبھــــار ، وہ کرتا ہــے اعترافـــــ میــرا
کبھی کبھـار ، شب و روز سُکھ میں ڈھلتـے ہیں
تمہیں شاید پتا نہیں پر "یاد " ایک ایسی بےبسی ہے کہ
اس سے چھپنے کی کوئی راہ نہیں۔
عرش تک ہو نہیں سکتی جو رسائی نہ سہی
یہی انسان کی ہے معراج کہ انسان ہو جائے
خوبصورت روحیں بدصورت تجربات سے تراشی جاتی ہی۔
اپنی پوری زندگی کو ایک ہی وقت میں سوچ کر خود کو پریشان مت کرو۔
اس نے پوچھا کونسا تحفہ ہے من پسند
میں نے کہا وہ رات جو اب تک ادھار ہے
میں نے خدا کی طرف بھیجا ہے ایک خالی خط ...
کچھ بھی نہیں بتایا اُس کو کیونکہ سب جانتا ہے وہ
آج مجھے ہوا سے آپ کی خوشبو آئی، مَیں نے شکرانے میں دل ہی ہوا کو پیش کر دیا
غضب کی دھوپ تھی اپنائیت کے جنگل میں
شجر بہت تھے مگر کوئی سایہ دار نہ تھا
یہ حقیقت ہے کہ ضرورت پوری ہونے کے بعد پھول بھی ٹھکرا دئیے جاتے ہیں۔۔۔
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain