میں تیرے ہجر کو اب خود پہ بھی دہراٶنگا خود کو معدوم کرونگا تجھے اپناٶنگا یاد کرنے پہ بہی تو یاد نہیں آتا ہے میں سمجھتا تھا تجھے بھول نہیں پاٶنگا اچھے لگتے ہو مگر سچی محبت؟ اونہہ ہونہہ میں محبت کی قسم جہوٹی نہیں کھاٶنگا یہ جو مل جاتے ہیں رستے میں اچانک ہم روز اس کا مطلب میں تمہیں بیٹھ کے سمجھاؤں گا