مجھے ان-باکس لے چلو🙈🙊
یہاں مجھے ڈر لگتا ہے🥺🥺
دل کے ارمان آنسو میں بہہ گئے🙂💫🥀
ہم تو CUte ہو کر بھی SingLe رہے گئے😂💥✨
🙈🙈
سنو تم مجھے پسند آگٸ ہو😜
اغواہ کرو یا پروپوز ؟🙈
pari pari ha ik pari Aaaman sy aa giri samny mery khari mjhy us sy pyaar ho gya... Hayeee dil da Qaraar kho gaya...
یوں ہی نہیں بدنام ہو تم اہل جہاں میں خنجر جو چھپا رکھا ہے اپنی زباں میں
لکھ کر دیتا ہوں تمہیں ردِ انا کا تعویز
پھر کبھی وہ ضد پہ اڑ جائے تو پیسے واپس
میں نے کاٹا ہے میاں بیس برس کا چِلہّ
وه تیرے پاؤں نہ پڑ جائے تو پیسے واپس
اِس سے پہلے کہ کوئی اِن کو چُرا لے، گِن لو
تُم نے جو درد کیے میرے حوالے، گِن لو
چل کے آیا ھُوں، اُٹھا کر نہیں لایا گیا مَیں
کوئی شک ھے تو مرے پاؤں کے چھالے گِن لو
جب مَیں آیا تو اکیلا تھا، گِنا تھا تُم نے
آج ھر سمت مرے چاھنے والے گِن لو
مکڑیو ! گھر کی صفائی کا سمَے آ پہنچا
آخری بار در و بام کے جالے گِن لو
زخم گننے ھیں اگر میرے بدن کے، یاراں !
تُم نے جو سنگ مِری سَمت اُچھالے، گِن لو
خُود ھی پھر فیصلہ کرنا کہ ابھی دن ھے کہ رات
شوق سے گِن لو اندھیرے، پھر اُجالے گِن لو
اب نہیں کرتا کسی پر بھی بھروسہ کوئی
گر نہیں مُجھ پہ یقیں، شہر میں تالے گِن لو
مَے کدے میں کئی مشکوک سے لوگ آئے ھیں
ان کو پِلوا دو مگر اپنے پیالے گِن لو
تُمہیں کرنی ھے گر احباب کی گنتی فارس !
آستینوں میں چُھپے دُودھ کے پالے گِن لو
جب دُعائیں بھی کچھ اثر نہ کریں
کیا کریں، صبر ہم اگر نہ کریں
اُن کو احساسِ دردِ دل کیسا
مر بھی جاؤں تو آنکھ تر نہ کریں
ﮨﻢ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮨﯿﮟ، ﺗﻮ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ؟
ﮨﺎﮞ ﺍﮔﺮ ﺣﺮﻑِ ﻏﻠﻂ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ، ﻣﭩﺎ ﺩﻭ ﮨﻢ کو
دل میں اک شاخ بہرطور ہری رہتی ہے
تیری تصویر نگاہوں میں بھری رہتی ہے
آپ کے شہر کراچی میں سمندر ہے مگر
شہر لاہور میں سنتے ہیں پری رہتی ہے
ایسے رہتی ہے بھرے گھر میں وہ آسیب زدہ
جیسے راوی میں کوئی بارہ دری رہتی ہے
کیوں نہیں آگ بجھاتی یہ کسی دامن کی
چشمِ عشاق جو پانی سے بھری رہتی ہے
عشق کا رنگ کبھی زرد نہیں ہوسکتا
چڑھ کے سوُلی پہ بھی یہ آگ ہری رہتی ہے
تیری آنکھیں بھی ہیں مقروض کئی خوابوں کی
میرے زخموں کی بھی کچھ چارہ گری رہتی ہے
خواب بنتے ہیں بگڑتے ہیں بکھر جاتے ہیں
اور تا عمر یہی جلوہ گری رہتی ہے
میں جو حیراں ہوں تمہیں دیکھ کے کامی صاحب
طاقِ نسیاں پہ مری عقل دھری رہتی ہے
مجھ کو جادو نہیں آتا تھا پری سے سیکھا
بن گیا آپ بھی ... پتھر کی بنا دی وہ بھی
میں نے اِک راہ نِکالی تھی زمانے سے الگ
تو نے آتے ہی زمانے سے مِلا دی وہ بھی
خبر نہیں ہے کہاں کب کسی کو لگ جائے
تمہارے ہجر کی دیمک ہنسی کو لگ جائے
یہ بددعا کی طرح عشق بھی مصیبت ہے
جو اس سے جان چھڑائے اُسی کو لگ جائے
آہ وہ ياديں کہ اس ياد کو ہو کر مجبور
دل مايوس نے مدت سے بہلا رکھا ہے
حسرت موہانی
شاید کوئی نہ مانے لیکن ذہنی بیماری کے سب سے بڑے ذمہ دار اپنے گھر والے ہوتے ہیں 💔🙂
بُزرگ ، مُتقّی ، تاجّر ، مُحلے دار سے تُو
ہمارا پُوچھ کبھی آ کے تین چار سے تُو
تُجھے خبر نہیں کتنی طویل ہوتی ہے
جو بات آنکھ سے کرتا ہے اختصار سے تُو
میں پہلی بات پہ ماتّم کروں یا دُوجی پر
یقین سے میں گیا اور اعتبار سے تُو
اے دل سلام تُجھے تیری دھڑکنوں کو سلام
جو اپنا کام چلاتا ہے انتظار سے تُو
اسی لیے تُجھے ہر بار مات ہوتی ہے
کوئی سبق نہیں لیتا ہے پچھلی ہار سے تُو
خود اپنے آپ کو آواز دیتا رہتا ہوں
پُکارتا تھا مُجھے جس طرح سے پیار سے تُو
تینو ساڈے ورگی نئی چڑھنی
اسی یار دی اکھ چوں پیتی اے ❤️🖤
Hum kre'n baat toh daleelo'n se radd hoti hai'n...
ہم کرے بات دلیلوں سے رد ہوتی ہیں
Uske honto'n ki khamoshi bhi sanad hoti hai'n...
اس کے ہونٹوں کی خاموشی بھی سند ہوتی ہیں
💔💔💔💔💘🖤🖤
یہ میں نے کب کہا کہ میرے حق میں فیصلہ وہ کرے ۔۔
Ye Maine kab kaha ke mere haq me faisla kre...
اگر وہ مجھ سے خوش نہیں تو خود سے جدا کرے.۔۔
Agr wah mujhse khush nhi toh khud se judaa Kre...
میں اس کے ساتھ جس طرح گزارتا ہوں زندگی۔۔
Main uske sath jiss trah guzaarta hun zindgi...
اسے تو چاہیئے کے میرا شکریہ ادا کرے ۔۔
Use toh chahiye ke mera shukriya adaa kre...🤝
𝐅𝐨𝐥𝐥𝐨𝐰 azlan_writes_04 |||𝐒𝐚𝐯𝐞 𝐏𝐨𝐬𝐭 |||| 𝐒𝐡𝐚𝐫𝐞
•اسی لٸے تو سب سے ذیادہ بھاتی ہو ✨🖇️
کتنے سچے دل سے جھوٹی قسمین کھاتی ہو.
#تہزیب حافی
تیرا چپ رہنا مرے ذہن میں کیا بیٹھ گیا
اتنی آوازیں تجھے دیں کہ گلا بیٹھ گیا
یوں نہیں ہے کہ فقط میں ہی اسے چاہتا ہوں
جو بھی اس پیڑ کی چھاؤں میں گیا بیٹھ گیا
اتنا میٹھا تھا وہ غصے بھرا لہجہ مت پوچھ
اس نے جس کو بھی جانے کا کہا بیٹھ گیا
اپنا لڑنا بھی محبت ہے تمہیں علم نہیں
چیختی تم رہی اور میرا گلا بیٹھ گیا
اس کی مرضی وہ جسے پاس بٹھا لے اپنے
اس پہ کیا لڑنا فلاں میری جگہ بیٹھ گیا
بات دریاؤں کی سورج کی نہ تیری ہے یہاں
دو قدم جو بھی مرے ساتھ چلا بیٹھ گیا
بزم جاناں میں نشستیں نہیں ہوتیں مخصوص
جو بھی اک بار جہاں بیٹھ گیا بیٹھ گیا
ایک تازہ غزل ۔۔۔
ہمارے آنے والے دن تو خواب میں بدل گئے
مگر جناب آپ کس حساب میں بدل گئے
وہ با حیا حیا کے اس مقام پر پہنچ گیا
کہ اس کے نین نقش تک نقاب میں بدل گئے
وہ جنگ رک گئ تو ٹینک رنگ پھینکنے لگے
کمان میں جو تیر تھے گلاب میں بدل گئے
نجانے کس کے ہاتھ آ گیا نظام ِ ابر و باد
ہمارے گاؤں کے کنوئیں شراب میں بدل گئے
وہ میرے پاس سے اٹھا تو میرا رزق اٹھ گیا
دہن میں جو نوالے تھے لعاب میں بدل گئے
جو شعر میں نے کاٹ کے رکھے ہوئے تھے اک طرف
تری نظر پڑی تو انتخاب میں بدل گئے
تہذیب حافی
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain