محبت روح میں اُترا ہوا موسم ہے جاناں تعلق ختم کرنے سے محبت کم نہیں ہوتی بہت کچھ تجھ سے بڑھ کر بھی میسّر تھا،میسّر ہے نہ جانے پھر بھی کیوں تیری ضرورت کم نہیں ہوتی صنم
پھر یوں ہوا کے ساتھ تیرا چھوڑنا پڑا ثابت ہوا کے لازم و ملزوم کچھ نہیں پھر یوں ہوا کہ راستے یکجا نہیں رہے وہ بھی انا پرست تھا میں بھی انا پرست پھر یوں ہوا کہ ہاتھ سے کشکول گر گیا خیرات لے کے مجھ سے چلا تک نہیں گیا ﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺩﺭﺩ ﮐﯽ ﻟﺬّﺕ ﺑﮭﯽ ﭼﮭﻦ ﮔﺌﯽ ﺍﮎ ﺷﺨﺺ ﻣﻮﻡ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﺘﮭﺮ ﺑﻨﺎ ﮔﯿﺎ پھر یوں ہوا کہ لب سے ہنسی چھین لی گئی پھر یوں ہوا کہ ہنسنے کی عادت نہیں رہی پهر یوں ہوا کہ، زخم نے جاگیر بنا لی پهر یوں ہوا کہ، درد مجھے راس آ گیا پھر یوں ہوا کہ، وقت کے تیور بدل گئے پھر یوں ہوا کہ راستے یکسر بدل گئے پھر یوں ہوا کہ حشر کے سامان ہوگئے پھر یوں ہوا کہ شہر بیابان ہوگئے پھر یوں ہوا کہ صبر کی انگلی پکڑ کے ہم اتنا چلے کہ راستے حیران ہوگئے..........sanm
آنکھوں کو یہ کیا آزار ہوا ہر جذب نہاں پر رو دینا آہنگ طرب پر جھک جانا آواز فغاں پر رو دینا بربط کی صدا پر رو دینا مطرب کے بیاں پر رو دینا احساس کو غم بنیاد نہ کر اے عشق۔۔۔۔۔۔۔ جی چاہتا ہے اک دوسرے کو یوں آٹھ پہر ہم یاد کریں آنکھوں میں بساٸیں خوابوں کو اور دل میں خیال آباد کریں خلوت میں بھی ہو جلوت کا سماں وحدت کو دوٸی سے شاد کریں یہ آرزوٸیں ایجاد نہ کر اے عشق۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دنیا کا تماشا دیکھ لیا غمگین سی ہے بیتاب سی ہے امید یہاں اک وہم سی ہے تسکین یہاں اک خواب سی ہے دنیا میں خوشی کا نام نہیں دنیا میں خوشی نایاب سی ہے دنیا میں خوشی کو یاد نہ کر اے عشق ہمیں برباد نہ کر
#اے_عشق_ہمیں_برباد_نہ_کر دو دن میں ہی عہدِ طفلی کے معصوم زمانے بھول گٸے آنکھوں سے وہ خوشیاں مٹ سی گٸیں لب کو وہ ترانے بھول گٸے ان پاک بہشتی خوابوں کے دلچسپ فسانے بھول گٸے ان خوابوں سے یوں آزاد نہ کر اے عشق ہمیں برباد نہ کر اس جان حیا کا بس کچھ نہیں کچھ بے بس ہے پراٸے بس میں ہے بے درد دلوں کو کیا ہے خبر جو پیار یہاں آپس میں ہے ہے بے بسی زہر اور پیار ہے رس یہ زہر چھپا اس رس میں ہے کہتی ہے حیا فریاد نہ کر اے عشق۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چلو تم ساتھ مت دینا مجھے بےشک بھلا دینا نئے سپنے سجا لینا -- نئے رشتے بنا لینا 🥀 بھلا دینا سبھی وعدے سبھی قسمیں سبھی ناتے تمہیں جاناں اجازت ہے جو دل چاہے وہ تم کرنا ،، مگر اب تم کسی سے بھی ادھورا پیار مت کرنا 💔 __________________