لوگ خوش نہیں ہوتے میں نے ان کو پرکھا ہے چاہتیں لٹا کر کے وقت کو تباہ کر کے سارے حق ادا کر کے ان کی ھر تمنا کو زندگی بنا کر کے درد میں مصیبت میں حوصلے عطا کر کے میں نے ان کو پرکھا ہے لوگ خوش نہیں ہوتے-
میرا دل کرتا ہے کہ میں آسمان کی طرف ہتھیلیاں اٹھا کر چیخ چیخ کے التجا کروں کہ یا اللہ جسے توں تقدیر میں نہیں لکھتا اسے دل کی سلیٹ پر بھی نا لکھا کر ہم بے موت مارے جاتے ہیں دنیا ہم پر رحم نہیں کھاتی توں تو گواہ ہے ہمارے اندر کی ٹوٹ پھوٹ کا.
جو آپکا نہیں تھا ، اسے کھو دینے کی تکلیف تو سمجھ میں آتی ہے لیکن جب کوٸی آپکا ہونے کے بعد اچانک آپ سے چھین لیا گیا ہو، اسے کھونے کی تکلیف ، سوچ سمجھ کے سارے داٸروں سے بالا تر ہوجاتی ہے پا کر کھوۓ ہوۓ انسانوں کے خسارے قبروں تک ساتھ جاتے ہیں.