دنیا کی حد و حال سے آگے کی چیز ہوں
یعنی میں کمال سے آگے کی چیز ہوں
میرا خیال تجھ کو بھلا آئے بھی تو کیوں؟
میں تو ترے خیال سے آگے کی چیز ہوں
اے اہل ہنر
ذوق نظر
خوب ہے
لیکن
جو شے کی حقیقت کو
نہ دیکھے
وہ نظر کیا
برس کچھ اور
اے آوارہ بادل
کہ دل کا شہر
پیاسا رہ گیا
🥀
*"امجد وہ آنکھیں جھیل سی گہری تو ہیں مگر"*
*"اُن میں کوئی بھی عکس مِرے نام کا نہیں"*
وہ ایک پل ہی سہی
جس میں تم میسّر ہو
اُس ایک پل سے زیادہ
تو
زندگی بھی نہیں
شہرِ وفا میں
دھُوپ کا
ساتھی کوئی نہیں...
سُورج سروں پہ آیا
تو
سائے بھی گھٹ گئے
کیا ہے گر زندگی کا بس نہ چلا
زندگی کب کسی کے بس میں ہے
دل لے کے مفت کہتے ہیں
کچھ کام کا نہیں
الٹی شکایتیں ہوئیں
احسان تو گیا
*ہجر دونوں کو مار ڈالے گا*
*دوست فرصت نکال، ملتے ہیں🥀🌚*
فرض کرو ہم اہلِ وفا ہوں، فرض کرو دیوانے ہوں
فرض کرو یہ دونوں باتیں جھوٹی ہوں افسانے ہوں
فرض کرو یہ جی کی بپتا جی سے جوڑ سنائی ہو
فرض کرو ابھی اور ہو اتنی،آدھی ہم نے چھپائی ہو
فرض کرو تمہیں خوش کرنے کے ڈھونڈے ہم نے بہانے ہوں
فرض کرو یہ نین تمہارے سچ مچ کے میخانے ہوں
فرض کرو یہ روگ ہو جھوٹا، جھوٹی پیت ہماری ہو
فرض کرو اس پیت کے روگ میں سانس بھی ہم پہ بھاری ہو
فرض کرو یہ جوگ بجوگ کا ہم نے ڈھونگ رچایا ہو
فرض کرو بس یہی حقیقت، باقی سب کچھ مایا ہو۔
*وہ جو اک شحص پرانا تھا ، مرے کام کا تھا🖤*
*یہ نئے لوگ بھی اچھے ہیں ، مگر جانے دو🥀*
نظر اٹھتی ہی نہیں ہے ترے میخانے سے
ورنہ دنیا کی ہر اِک چیز حسیں ہے ساقی
زُلف پر مُبتلا ھـــــــــے کوئی شَخص
مُوردِ صَد بَلا ھــــــــــے کوئی شَخص
رو رھا ھـــــــے کــوئی پَسِ دِیوار
بام پر ھَنس رھا ھــــے کوئی شَخص
شَـوق ســـــــے دِل میں آئِیـــے میرے
یاں نَہیں دُوسرا ھــــے کوئی شَخص
لو نـہ بوسـہ طلب کریں گـــــــے اب
ھَم سے کِیوں اب خَفا ھـے کوئی شَخص
دِل میں بَیٹھا ھُــــــوا ھَمارے آج
چُٹکیاں لے رھا ھــــــے کوئی شَخص
کہہ دے کـوئی کِسی ســـــــے یـے جا کر
آج دَم توڑتا ھـــــــــــے کوئی شَخص
تُمھِیں مِرزٓا بتاؤ غَـــــــم میں شَریک
کـہ کِسی کا ھُوا ھـــــے کوئی شَخص
پہلے تلوار آزمائیں گے
تھک کے گفتار آزمائیں گے
بعد میں دشمنوں کی باری ہے
پہلے کچھ یار آزمائیں گے
تیری چوکھٹ نہیں ملی سر کو
کوئی دیوار آزمائیں گے
آنکھ اکتا گئی ہے رونے سے
دل لگا تار آزمائیں گے
دیکھ! وحدت خدا کو جچتی ہے
عشق دو چار آزمائیں گے
جانتے ہیں اُسے مگر پھر بھی
ایک دو بار آزمائیں گے
پھول وقتی پڑاؤ ہوتے ہیں
دیر پا خار آزمائیں گے
شادمانی بھی ہو تو ہم ایسے
حالتِ زار آزمائیں گے
جو گِرا کر نکل گئے آگے
خاک رفتار آزمائیں گے
تمہارے بعد یہاں کون جینے والا ہے ؟
تمہارے بعد یہاں زندگی نہیں ہوگی !
لبوں پہ حرف ِ رجز ہے زرہ اتار کے بھی
میں جشن ِ فتح مناتا ہوں جنگ ہار کے بھی
اسے لبھا نہ سکا میرے بعد کا موسم
بہت اداس لگا خال و خد سنوار کے بھی
اب ایک پل کا تغافل بھی سہہ نہیں سکتے
ہم اہل ِ دل کبھی عادی تھے انتظار کے بھی
وہ لمحہ بھر کی کہانی کہ عمر بھر میں کہی
ابھی تو خود سے تقاضے تھے اختصار کے بھی
زمین اوڑھ لی ہم نے پہنچ کے منزل پر
کہ ہم پہ قرض تھے کچھ گرد ِ رہ گزار کے بھی
مجھے نہ سن میرے بے شکل، اب دکھائی تو دے
میں تھک گیا ہوں فضا میں تجھے پکار کے بھی
میری دعا کو پلٹنا تھا پھر ِادھر محسنؔ
بہت اجاڑ تھے منظر ُافق سے پار کے بھی
رنگ سے رنگ ملاتا ہوا جاتا ہوا تو
کہکشاں ایک بناتا ہوا جاتا ہوا تو
دور سے تیری طرف بھاگ کے آتا ہوا میں
دور سے ہاتھ ہلاتا ہوا جاتا ہوا تو
آگے آگے میں خد و خال بناتا جاؤں
پیچھے پیچھے وہ مٹاتا ہوا جاتا ہوا تو
سونے والوں کو نئے خواب مہیا کر کے
سبز قندیل جلاتا ہوا جاتا ہوا تو
پاؤں پڑتا ہوا روتا ہوا گرتا ہوا میں
اور مرا ہاتھ چھڑاتا ہوا جاتا ہوا تو
میری خواہش تھی کہ برباد کروں میں خود کو
میری خواہش کا بتاتا ہوا جاتا ہوا تو
سخت مایوس پشیمان گزرتا ہوا میں
مسکراتا ہوا گاتا ہوا جاتا ہوا تو
جتنی آنکھیں ہیں وہ حیران ہوئی جاتی ہیں
اور مرے شعر سناتا ہوا جاتا ہوا تو
جیسے ناکام کوئی شخص ہو ویسے ساحرؔ
ایک سگریٹ کو جلاتا ہوا جاتا ہوا تو
کسی راہ بر کی تلاش ہے نہ ہی ہمسفر کی تلاش ہے
وہ نظر جو میری نظر ہوتی مجھے اس نظر کی تلاش ہے
مجھے منزلوں کی طلب نہیں کبهی ہوتی ہو گی یہ اب نہیں
جو تیرے خیال میں کهو گئ اسی چشم_تر کی تلاش ہے
ترا غم ہی چارہ ساز ہے تیرا عشق ہی نماز ہے
کهلا جب سے رازِ مجاز ہے کسی چارہ گر کی تلاش ہے
ہوں چراغِ داغ بنا ہوا سرِ شام جلتا ہوں شوق سے
میرے پاس آئیں گے وہ کبهی جنہیں اک سحر کی تلاش ہے
نہ فراق کی مجهے ہے خبر نہ خیال عرضِ وصال ہے
میں جبینِ شوق ضرور ہوں تیرے سنگِ در کی تلاش ہے
میں وہی ہوں واصف بے ہنر تیری یاد میں ہوا در بدر
کہ فنا بقا کی نہیں خبر ،تیری راہ گزر کی تلاش ہے
ایک ہی مژدہ صبح لاتی ہے
صحن میں دھوپ پھیل جاتی ہے
سوچتا ہوں کہ تیری یاد آخر
اب کسے رات بھر جگاتی ہے
رنگ موسم ہے اور بادِ صبا
شہر کوچوں میں خاک اُڑاتی ہے
فرش پہ کاغذ پر اُڑتے پھرتے ہیں
میز پر گرد جمتی جاتی ہے
میں بھی اِذنِ نوا گری چاہوں
بے دلی بھی تو لب ہلاتی ہے
آپ اپنے سے ہم سخن رہنا
ہمنشیں! سانس پھول جاتی ہے
آج اِک بات تو بتاؤ مجھے
زندگی خواب کیوں دکھاتی ہے
کیا ستم ہے کہ اب تیری صورت
غور کرنے پر یاد آتی ہے
کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے
روز اِک چیز ٹوٹ جاتی ہے
جیڑی ٹردیاں تئیں تصویر دتی
اوہا آج تصویر وی چائ بیٹھاں
جیڑے نقش لوائے نی پیراں دے
اوہا چم چم یار مٹائی بیٹھاں
آ ویکھ تاں سہی تیڈے ہجر دے وچ
کیویں کملا حال بنڑائی بیٹھاں
تھئ عمر اٹھارہ سال اجاں
میں ٹیک دیوار دی لائی بیٹھاں ...
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain