پہلے تنہائی کی ناگن ڈستی ہےبرسوں
پھر جا کر دل کے آنگن میں میلہ لگتا ہے
ہر طرح کے جذبات کا اعلان ہیں آنکھیں
شبنم کبھی شعلہ کبھی طوفان ہیں آنکھیں
آنکھوں سے بڑی کوئی ترازو نہیں ہوتی
تلتا ہے بشر جس میں وہ میزان ہیں آنکھیں
آنکھیں ہی ملاتی ہیں زمانے میں دلوں کو
انجان ہیں ہم تم اگر انجان ہیں آنکھیں
لب کچھ بھی کہیں اس سے حقیقت نہیں کھلتی
انسان کے سچ جھوٹ کی پہچان ہیں آنکھیں
آنکھیں نہ جھکیں تیری کسی غیر کے آگے
دنیا میں بڑی چیز مری جان! ہیں آنکھیں
میں تجھ سے ساتھ بھی تو عُمر بھر کا چاہتا تھا
سو اب تجھ سے گلہ بھی عمر بھر کا ہو گیا ہے
ہم مٹ گئے تو صورت ہستی نظر پڑی
ویراں جب آپ ہوئےتو بستی نظر پڑی
دیکھا تو خاکسار ہی عالی مقام ہیں
جوں جوں بلند ہوئےپستی نظر پڑی
ﮨﮯ ﮐﻮﻥ ؟ ﺍﺗﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﻭﮨﺎﮞ ﺟﺲ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﭼﺎﻧﺪ
ﮐﮩﻨﮯ ﮐﻮ ﺗﻮ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺲ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﺑﮩﺖ ﮨﯿﮟ
ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﻠﮕﺘﮯ ﮨﻮﮰ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﭘﮧ ﻣﺖ ﺟﺎ
ﭘﻠﮑﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﺮﮮ ﺑﮭﯿﮕﺘﮯ ﺍﻗﺮﺍﺭ ﺑﮩﺖ ﮨﯿﮟ
ﯾﮧ ﺩﮬﻮﭖ ﮐﯽ ﺳﺎﺯﺵ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﻮﺳﻢ ﮐﯽ ﺷﺮﺍﺭﺕ
ﺳﺎﺋﮯ ﻭﮨﺎﮞ ﮐﻢ ﮨﯿﮟ ﺟﮩﺎﮞ ﺍﺷﺠﺎﺭ ﺑﮩﺖ ﮨﯿﮟ
ﺑﮯ ﺣﺮﻑ ﻃﻠﺐ ﺍﻥ ﮐﻮ ﻋﻄﺎ ﮐﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﺧﻮﺩ ﺳﮯ
ﻭﮦ ﯾﻮﮞ ﮐﮧ ﺳﻮﺍﻟﯽ ﺗﯿﺮﮮ ﺧﻮﺩ ﺩﺍﺭ ﺑﮩﺖ ﮨﯿﮟ
ﺗﻢ ﻣﻨﺼﻒ ﻭ ﻋﺎﺩﻝ ﮨﯽ ﺳﮩﯽ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ
ﮐﯿﻮﮞ ﺧﻮﻥ ﮐﮯ ﭼﮭﯿﻨﭩﮯ ﺳﺮ ﺩﺳﺘﺎﺭ ﺑﮩﺖ ﮨﯿﮟ
امّیدِ دیدِ دوست کی دنیا بسا کے ہم
بیٹھے ہیں مہر و ماہ کی شمعیں بجھا کے ہم
وہ راستے خبر نہیں کس سمت کھو گئے
نکلے تھے جن پہ رختِ غمِ دل اٹھا کے ہم
پلکوں سے جن کو جلتے زمانوں نے چن لیا
وہ پھول، اس روش پہ، ترے نقشِ پا کے ہم
آئے کبھی تو پھر وہی صبحِ طرب کہ جب
روٹھے ہوئےغموں سے ملیں مسکرا کے ہم
کس کو خبر کہ ڈوبتے لمحوں سے کس طرح
ابھرے ہیں یادِ یار، تری چوٹ کھا کے ہم
تیری آمد کی منتظر
آنکھیں
بجھ گئیں.
خاک ہو گئے رستے
وہ جھونکتا ہے
میری آنکھ میں تو کیا ؟؟
!!ذرا سی ہی تو دھول ہے
۔۔۔۔۔۔۔قبول ہے
💔💔
ابھی تو اور بھی مطلب تھے مجھ میں بیوقوف، تم ایک ہی نکال کر چل دیئـے
: میں نے زہر بھی_____زخموں پر لگا کر دیکھا ہے😭 اتنی آہیں نہیں نکلتی جتنی تیری بے رخی سے نکلتی ہیں😥💔💔
میں جو مہکا تو میری شاخ جلا دی اُس نے
سبز موسم میں مجھے زرد ہوا دی اُس نے
پہلے اک لمحے کی زنجیر سے باندھا مجھ کو
اور پھر وقت کی رفتار بڑھا دی اُس نے
جانتا تھا کہ مجھے موت سکوں بخشے گی
وہ ستمگر تھا سو جینے کی دُعا دی اُس نے
جس کے ہونے سے تھیں سانسیں میری دُگنی محسن
وہ جو بچھڑا تو میری عُمر گھٹا دی اُس نے ...
تو پرندوں سے لدی شاخ بنا لے مجھ کو
زندگی اپنی طرف اور جھکا لے مجھ کو
مانتا ہوں کے مجھے عشق نہیں ہے تجھ سے
لیکن اس وہم سے اب کون نکالے مجھ کو
ایک معصوم سی تتلی کو مسلنے والے
تو تو دیتا تھا حدیثوں کے حوالے مجھ کو
موت بھی موت کہاں ہے کوئی محبوبہ ہے
جانے کس وقت یہ سینے سے لگا لے مجھ کو
چاہتا میں بھی یہی ہوں کہ یہیں رہ جاوں
ہوبھی سکتا ہے کہ وہ باتوں میں لگا لے مجھ کو
کہیں اجڑی اجڑی سی منزلیں کہیں ٹوٹے پھوٹے سے بام و در
یہ وہی دیار ہے دوستو جہاں لوگ پھرتے تھے رات بھر
میں بھٹکتا پھرتا ہوں دیر سے یونہی شہر شہر نگر نگر
کہاں کھو گیا مرا قافلہ کہاں رہ گئے مرے ہم سفر
جنہیں زندگی کا شعور تھا انہیں بے زری نے بچھا دیا
جو گراں تھے سینۂ چاک پر وہی بن کے بیٹھے ہیں معتبر
مری بیکسی کا نہ غم کرو مگر اپنا فائدہ سوچ لو
تمہیں جس کی چھاؤں عزیز ہے میں اُسی درخت کا ہوں ثمر
یہ بجا ہے آج اندھیرا ہے ذرا رت بدلنے کی دیر ہے
جو خزاں کے خوف سے خشک ہے وہی شاخ لائے گی برگ وبر
ہوائے تیز ترا ایک کام آخری ہے
کہ نخل خشک پہ ماہ تمام آخری ہے
میں جس سکون سے بیٹھا ہوں اس کنارے پر
سکوں سے لگتا ہے میرا قیام آخری ہے
پھر اس کے بعد یہ بازار دل نہیں لگنا
خرید لیجئے صاحب غلام آخری ہے
گزر چلا ہوں کسی کو یقیں دلاتا ہوا
کہ لوح دل پہ رقم ہے جو نام آخری ہے
تبھی تو پیڑ کی آنکھوں میں چاند بھر آیا
کسی نے کہہ دیا ہوگا کہ شام آخری ہے
یہ لگ رہا ہے محبت کے پہلے زینے پر
کہ جس مقام پہ ہوں یہ مقام آخری ہے
کسی نے پھر سے کھڑے کر دیے در و
دیوار
خیال تھا کہ مرا انہدام آخری ہے
ہمارے جیسے وہاں کس شمار میں ہوں گے
کہ جس قطار میں مجنوں کا نام آخری ہے
شروع عشق میں ایسی اداسیاں تابشؔ
ہر ایک شام یہ لگتا ہے شام آخری ہے
ناز ہے اُن کو بے وفائی پر
ختم یہ سِلسلا نہیں کرتے
اُن سے بس اِک شکوہ ہے نصیرؔ
ہم سے وہ کیوں مِلا نہیں کرتے
چند یادیں
جو اُداسی کا
سبب بنتی ہیں
ایک قصہ ہے
جو ہر شام
رُلا دیتا ہے
تیری جانب اٹھنے والی
آنکھوں کا رخ موڑ لیا
ہم نے
اپنے عیب دکھائے
تیری پردہ داری میں
یہ اور بات
کہ چاہت کے زخم
گہرے ہیں
تجھے بھلانے کی
کوشش تو ورنہ کی ہے بہت
سمجھ رہے ہیں اور بولنے کا یارا نہیں
جو ہم سے مل کے بچھڑ جائے وہ ہمارا نہیں
ابھی سے برف اُلجھنے لگی ہے بالوں سے
ابھی تو قرضِ ماہ و سال بھی اُتارا نہیں
سمندروں کو بھی حیرت ہوئی کہ ڈوبتے وقت
کسی کو ہم نے مدد کی لئے پکارا نہیں
جو ہم نہیں تھے تو پھر کون تھا سرِبازار
جو کہہ رہا تھا کہ بکنا ہمیں گوارا نہیں
ہم اہلِ دل ہیں محبت کی نِسبتوں کے امیں
ہمارے پاس زمینوں کا گوشوارہ نہیں
اے اجل
اس کو ذرا
دور تو جا لینے دے
وہ کہاں دیکھ سکے گا
مری بجھتی آنکھیں
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain