Damadam.pk
Sadlarka11's posts | Damadam

Sadlarka11's posts:

Sadlarka11
 

پہلے تنہائی کی ناگن ڈستی ہےبرسوں
پھر جا کر دل کے آنگن میں میلہ لگتا ہے

Sadlarka11
 

ہر طرح کے جذبات کا اعلان ہیں آنکھیں
شبنم کبھی شعلہ کبھی طوفان ہیں آنکھیں
آنکھوں سے بڑی کوئی ترازو نہیں ہوتی
تلتا ہے بشر جس میں وہ میزان ہیں آنکھیں
آنکھیں ہی ملاتی ہیں زمانے میں دلوں کو
انجان ہیں ہم تم اگر انجان ہیں آنکھیں
لب کچھ بھی کہیں اس سے حقیقت نہیں کھلتی
انسان کے سچ جھوٹ کی پہچان ہیں آنکھیں
آنکھیں نہ جھکیں تیری کسی غیر کے آگے
دنیا میں بڑی چیز مری جان! ہیں آنکھیں

Sadlarka11
 

میں تجھ سے ساتھ بھی تو عُمر بھر کا چاہتا تھا
سو اب تجھ سے گلہ بھی عمر بھر کا ہو گیا ہے

Sadlarka11
 

ہم مٹ گئے تو صورت ہستی نظر پڑی
ویراں جب آپ ہوئےتو بستی نظر پڑی
دیکھا تو خاکسار ہی عالی مقام ہیں
جوں جوں بلند ہوئےپستی نظر پڑی

Sadlarka11
 

ﮨﮯ ﮐﻮﻥ ؟ ﺍﺗﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﻭﮨﺎﮞ ﺟﺲ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﭼﺎﻧﺪ
ﮐﮩﻨﮯ ﮐﻮ ﺗﻮ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺲ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﺑﮩﺖ ﮨﯿﮟ
ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﻠﮕﺘﮯ ﮨﻮﮰ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﭘﮧ ﻣﺖ ﺟﺎ
ﭘﻠﮑﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﺮﮮ ﺑﮭﯿﮕﺘﮯ ﺍﻗﺮﺍﺭ ﺑﮩﺖ ﮨﯿﮟ
ﯾﮧ ﺩﮬﻮﭖ ﮐﯽ ﺳﺎﺯﺵ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﻮﺳﻢ ﮐﯽ ﺷﺮﺍﺭﺕ
ﺳﺎﺋﮯ ﻭﮨﺎﮞ ﮐﻢ ﮨﯿﮟ ﺟﮩﺎﮞ ﺍﺷﺠﺎﺭ ﺑﮩﺖ ﮨﯿﮟ
ﺑﮯ ﺣﺮﻑ ﻃﻠﺐ ﺍﻥ ﮐﻮ ﻋﻄﺎ ﮐﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﺧﻮﺩ ﺳﮯ
ﻭﮦ ﯾﻮﮞ ﮐﮧ ﺳﻮﺍﻟﯽ ﺗﯿﺮﮮ ﺧﻮﺩ ﺩﺍﺭ ﺑﮩﺖ ﮨﯿﮟ
ﺗﻢ ﻣﻨﺼﻒ ﻭ ﻋﺎﺩﻝ ﮨﯽ ﺳﮩﯽ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ
ﮐﯿﻮﮞ ﺧﻮﻥ ﮐﮯ ﭼﮭﯿﻨﭩﮯ ﺳﺮ ﺩﺳﺘﺎﺭ ﺑﮩﺖ ﮨﯿﮟ

Sadlarka11
 

امّیدِ دیدِ دوست کی دنیا بسا کے ہم
بیٹھے ہیں مہر و ماہ کی شمعیں بجھا کے ہم
وہ راستے خبر نہیں کس سمت کھو گئے
نکلے تھے جن پہ رختِ غمِ دل اٹھا کے ہم
پلکوں سے جن کو جلتے زمانوں نے چن لیا
وہ پھول، اس روش پہ، ترے نقشِ پا کے ہم
آئے کبھی تو پھر وہی صبحِ طرب کہ جب
روٹھے ہوئےغموں سے ملیں مسکرا کے ہم
کس کو خبر کہ ڈوبتے لمحوں سے کس طرح
ابھرے ہیں یادِ یار، تری چوٹ کھا کے ہم

Sadlarka11
 

تیری آمد کی منتظر
آنکھیں
بجھ گئیں.
خاک ہو گئے رستے

Sadlarka11
 

وہ جھونکتا ہے
میری آنکھ میں تو کیا ؟؟
!!ذرا سی ہی تو دھول ہے
۔۔۔۔۔۔۔قبول ہے
💔💔

Sadlarka11
 

ابھی تو اور بھی مطلب تھے مجھ میں بیوقوف، تم ایک ہی نکال کر چل دیئـے

Sadlarka11
 

: میں نے زہر بھی_____زخموں پر لگا کر دیکھا ہے😭 اتنی آہیں نہیں نکلتی جتنی تیری بے رخی سے نکلتی ہیں😥💔💔

Sadlarka11
 

میں جو مہکا تو میری شاخ جلا دی اُس نے
سبز موسم میں مجھے زرد ہوا دی اُس نے
پہلے اک لمحے کی زنجیر سے باندھا مجھ کو
اور پھر وقت کی رفتار بڑھا دی اُس نے
جانتا تھا کہ مجھے موت سکوں بخشے گی
وہ ستمگر تھا سو جینے کی دُعا دی اُس نے
جس کے ہونے سے تھیں سانسیں میری دُگنی محسن
وہ جو بچھڑا تو میری عُمر گھٹا دی اُس نے ...

Sadlarka11
 

تو پرندوں سے لدی شاخ بنا لے مجھ کو
زندگی اپنی طرف اور جھکا لے مجھ کو
مانتا ہوں کے مجھے عشق نہیں ہے تجھ سے
لیکن اس وہم سے اب کون نکالے مجھ کو
ایک معصوم سی تتلی کو مسلنے والے
تو تو دیتا تھا حدیثوں کے حوالے مجھ کو
موت بھی موت کہاں ہے کوئی محبوبہ ہے
جانے کس وقت یہ سینے سے لگا لے مجھ کو
چاہتا میں بھی یہی ہوں کہ یہیں رہ جاوں
ہوبھی سکتا ہے کہ وہ باتوں میں لگا لے مجھ کو

Sadlarka11
 

کہیں اجڑی اجڑی سی منزلیں کہیں ٹوٹے پھوٹے سے بام و در
یہ وہی دیار ہے دوستو جہاں لوگ پھرتے تھے رات بھر
میں بھٹکتا پھرتا ہوں دیر سے یونہی شہر شہر نگر نگر
کہاں کھو گیا مرا قافلہ کہاں رہ گئے مرے ہم سفر
جنہیں زندگی کا شعور تھا انہیں بے زری نے بچھا دیا
جو گراں تھے سینۂ چاک پر وہی بن کے بیٹھے ہیں معتبر
مری بیکسی کا نہ غم کرو مگر اپنا فائدہ سوچ لو
تمہیں جس کی چھاؤں عزیز ہے میں اُسی درخت کا ہوں ثمر
یہ بجا ہے آج اندھیرا ہے ذرا رت بدلنے کی دیر ہے
جو خزاں کے خوف سے خشک ہے وہی شاخ لائے گی برگ وبر

Sadlarka11
 

ہوائے تیز ترا ایک کام آخری ہے
کہ نخل خشک پہ ماہ تمام آخری ہے
میں جس سکون سے بیٹھا ہوں اس کنارے پر
سکوں سے لگتا ہے میرا قیام آخری ہے
پھر اس کے بعد یہ بازار دل نہیں لگنا
خرید لیجئے صاحب غلام آخری ہے
گزر چلا ہوں کسی کو یقیں دلاتا ہوا
کہ لوح دل پہ رقم ہے جو نام آخری ہے
تبھی تو پیڑ کی آنکھوں میں چاند بھر آیا
کسی نے کہہ دیا ہوگا کہ شام آخری ہے
یہ لگ رہا ہے محبت کے پہلے زینے پر
کہ جس مقام پہ ہوں یہ مقام آخری ہے
کسی نے پھر سے کھڑے کر دیے در و
دیوار
خیال تھا کہ مرا انہدام آخری ہے
ہمارے جیسے وہاں کس شمار میں ہوں گے
کہ جس قطار میں مجنوں کا نام آخری ہے
شروع عشق میں ایسی اداسیاں تابشؔ
ہر ایک شام یہ لگتا ہے شام آخری ہے

Sadlarka11
 

ناز ہے اُن کو بے وفائی پر
ختم یہ سِلسلا نہیں کرتے
اُن سے بس اِک شکوہ ہے نصیرؔ
ہم سے وہ کیوں مِلا نہیں کرتے

Sadlarka11
 

چند یادیں
جو اُداسی کا
سبب بنتی ہیں
ایک قصہ ہے
جو ہر شام
رُلا دیتا ہے

Sadlarka11
 

تیری جانب اٹھنے والی
آنکھوں کا رخ موڑ لیا
ہم نے
اپنے عیب دکھائے
تیری پردہ داری میں

Sadlarka11
 

یہ اور بات
کہ چاہت کے زخم
گہرے ہیں
تجھے بھلانے کی
کوشش تو ورنہ کی ہے بہت

Sadlarka11
 

سمجھ رہے ہیں اور بولنے کا یارا نہیں
جو ہم سے مل کے بچھڑ جائے وہ ہمارا نہیں
ابھی سے برف اُلجھنے لگی ہے بالوں سے
ابھی تو قرضِ ماہ و سال بھی اُتارا نہیں
سمندروں کو بھی حیرت ہوئی کہ ڈوبتے وقت
کسی کو ہم نے مدد کی لئے پکارا نہیں
جو ہم نہیں تھے تو پھر کون تھا سرِبازار
جو کہہ رہا تھا کہ بکنا ہمیں گوارا نہیں
ہم اہلِ دل ہیں محبت کی نِسبتوں کے امیں
ہمارے پاس زمینوں کا گوشوارہ نہیں

Sadlarka11
 

اے اجل
اس کو ذرا
دور تو جا لینے دے
وہ کہاں دیکھ سکے گا
مری بجھتی آنکھیں