Damadam.pk
Sanakhan1215's posts | Damadam

Sanakhan1215's posts:

Sanakhan1215
 

نہ ادب ہے، نہ قرینہ، نہ بصیرت، نہ شعور دل لرزتا ہے محمد ﷺ کی ثناء سے پہلے...!!! ❤❤صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم❤❤ میرے آقا ﷺ میرے یقین کی مضبوطی تو یہ ہے کہ آپکے گمان کے تابع ہو جائے، میرے دل کی حرمت تو یہ ہے کہ آپکے قدموں پر نثار ہو جائے، میرے جسم کی عزت تو یہ ہے کہ آپکے الفاظ پر مر مٹے، میری روح کی رفعت تو یہ ہے کہ آپکے خیال سے جڑ جائے اور میری زندگی کی عظمت تو یہ ہے آپ پر قربان ہو جائے۔ آپﷺ پراورآپﷺ کی آل پاک پرلاكهوں درُود اور سلام

Sanakhan1215
 

🌼🌼🌼⚜۔ *قبروں میں ایسے لاتعداد نوجوان دفن ہیں جنھوں نے بڑھاپے میں توبہ کرنی تھی اور ایسے بھی بے شمار ہیں جنھوں نے کل سے نماز شروع کرنی تھی.* ⚜🌼🌼🌼⚜۔

Sanakhan1215
 

"دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں" کہنے کے بجاۓ یہ کہنا شروع کردیں کہ "فرشتوں کے ہاتھ میں بھی قلم ہے" تو ہمیں لوگوں سے زیادہ "اللہ" کی فکر ہو جاۓ ۔

Sanakhan1215
 

~گفتگو احتیاط سے کیجیۓ آپ کے باتیں آپ کے والدین کی تربیت کا عکس ہوتی ہیں°💯

Sanakhan1215
 

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا أَنْفَقَ الرَّجُلُ عَلَى أَهْلِهِ يَحْتَسِبُهَا فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ " حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جب آدمی ثواب کی نیت سے اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے تو وہ بھی اس کے لیے صدقہ بن جاتا ہے۔ صحیح بخاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

I'm sana Sana Khan
S  : I'm sana Sana Khan - 
آمین ثم آمین
S  : آمین ثم آمین - 
آمین یارب العالمین
S  : آمین یارب العالمین - 
Sanakhan1215
 

اس لیے قرآن و حدیث کی تعلیم کا خلاصہ یہ ہے کہ اسباب و ضروریات مہیا کرنے کی پوری کوشش کرو، وہ جمع ہوجائیں تب بھی ان پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ پر بھروسا کرو اور ایک بھی سبب مہیا نہ ہو سکے تب بھی صرف اللہ پر بھروسا رکھو جس کے سوا کوئی معبود نہیں اور وہ کوئی عام بادشاہ نہیں، عرش عظیم کا رب ہے، کوئی چیز اس کی سلطنت اور دسترس سے باہر نہیں۔ تمام اسباب ختم ہونے پر ایک اللہ پر اسی اعتماد اور اس کے مطابق اللہ تعالیٰ کی مدد کا مظاہرہ غار ثور میں ہوا، فرمایا : (اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَــصَرَهُ اللّٰهُ

Sanakhan1215
 

ان کے لیے مغفرت اور رحمت کی دعا کرتے، اللہ تعالیٰ نے جو ایک مقبول دعا ہر نبی کی طرح آپ کو عطا کی، سب نے کرلی، مگر آپ نے اپنی امت کی شفاعت کرنے کے لیے سنبھال کر رکھ لی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے فضل سے جنت میں اپنے اس مہربان نبی کی رفاقت عطا فرمائے۔ (آمین)

Sanakhan1215
 

كُمْ “ کے مخاطب تمام دنیا کے لوگ ہیں، مگر اول مخاطب عرب ہیں، آپ کی تیسری صفت اور اللہ کا احسان ” مِّنْ اَنْفُسِكُمْ “ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہاری جنس سے، یعنی انسانوں میں سے ہیں، انھیں تمام انسانی ضروریات لاحق ہیں، وہ آدم کی اولاد سے ہیں، ان کے ماں باپ بھی ہیں، قریش کے ہر خاندان سے کوئی نہ کوئی رشتہ داری ہے، بیویاں اور اولاد بھی ہیں، بچپن، جوانی، بڑھاپا، بھوک، پیاس اور وفات سب کچھ آپ پر گزرا، صحت و مرض، رنج و راحت ہر مرحلے سے گزرے، اس لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر چیز میں تمہ

Sanakhan1215
 

اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَــصَرَهُ اللّٰهُ ) [ التوبۃ : ٤٠ ] اسی کا مظاہرہ جنگ احد کے اختتام پر دشمن کے اجتماع کی خبر پر اہل ایمان کے قول کے وقت ہوا اور اسی کا مظاہرہ دنیا کا ہر سہارا ختم ہونے پر آگ میں پھینکے جانے کے وقت ابراہیم (علیہ السلام) کے قول (حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ ) کہنے اور بلا اسباب آگ کو گلزار بنا کر اللہ تعالیٰ کی مدد کی صورت میں ہوا۔ دیکھیے سورة آل عمران (١٧٣، ١٧٤) اور سورة بروج میں مذکور اصحاب الاخدود والے لڑکے کے پاس جب تمام اسباب ختم ہوگئے تو اس نے انھی الفاظ

Sanakhan1215
 

ترجمہ: پھر اگر وہ منہ موڑیں تو کہہ دے مجھے اللہ ہی کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں نے اسی پر بھروسا کیا اور وہی عرش عظیم کا رب ہے۔ ؏

Sanakhan1215
 

الفاظ کے ہم معنی الفاظ ( اَللّٰھُمَّ اکْفِنِیْھِمْ بِمَا شِءْتَ ) (اے اللہ ! مجھے ان سے کافی ہوجا جس چیز کے ساتھ تو چاہے) کے ساتھ دعا کی تو پہاڑ سے گرانے والے خود گر کر مرگئے اور سمندر میں ڈبونے والے خود ڈوب گئے، مگر اس کا کچھ بھی نہ بگڑا۔ [ دیکھیے مسلم، الزھد، باب قصۃ أصحاب الأخدود۔۔

Sanakhan1215
 

تفسیر: لَقَدْ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ : اس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعض صفات عالیہ کا اور لوگوں پر اللہ تعالیٰ کے احسانات کا ذکر ہے۔ ایک صفت ” لَقَدْ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلٌ“ میں لفظ ” رَسُوْلٌ“ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رسول ہیں، یعنی خود نہیں آئے بلکہ اللہ کی طرف سے بھیجے ہوئے آئے ہیں۔ ایک احسان ” جَاۗءَكُمْ “ ہے، یعنی تمام لوگوں کی طرف قیامت تک کے لیے آنے والا رسول تم عربوں میں آیا ہے، عربی رسول بھیج کر اللہ تعالیٰ نے دنیا کی امامت کے لیے تمہیں منتخب فرمایا ہے۔ 7 hours ag

Sanakhan1215
 

حرام اور حلال پر کوئی لیبل نہیں لگا ھوتا۔۔۔۔۔ ان میں جو چیز فرق کرواتی ہے وہ ھے۔۔۔۔۔"خوف خدا_" حرام کمائی اگر چہ شکلیں نہیں بگاڑتی لیکن نسلیں بگاڑ دیتی ہے۔ حرام کاموں سے نفس کو روکنا بھی صبر کی دوسری قسم ہے۔ حرام انسان کو سکون جیسی نعمت سے محروم رکھتا ہے۔۔۔۔۔!!!! اللہ ہمیں حلال رزق ہی عطا کرنا اور حرام کاموں سے دور رکھنا۔۔۔ آمین ثمہ آمین ۔۔۔۔

Sanakhan1215
 

زندگی کی کتاب میں اتنی غلطیاں نہ کرو کہ پنسل سےپہلے ربڑ ختم ہو جائے ، اور توبہ سے پہلے موت آجائے ... بھترین انسان عمل سے پہچانا جاتا ہے ورنہ اچھی باتیں تو دیواروں پر بھی لکھی ھوتی ھیں..

Sanakhan1215
 

بس یا حسین

Sanakhan1215
 

*جنَّت میں دَرَخت🌳 لگوائیے!* *ابنِ ماجہ شریف کی ایک حدیثِ پاک کے مطابِق ان چاروں کلمات میں سے جو بھی کلمہ کہیں جنّت میں ایک دَرَخت لگا دیا جائے گا۔ وہ کلمات یہ ہیں :* (¹) *سُبْحٰنَ اللہ* (²) *اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ* (³) *لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ* (⁴) *اَللہُ اَکْبَر* 📗 *(سُنَن ابن ماجہ ج۴ ص۲۵۲حدیث ۳۸۰۷

Sanakhan1215
 

لوگ کیا کہیں گے؟ ہماری خوشیاں اور غم اس فقرے کے پیچھے چھپے ہوتے ہیں.... یہ ہماری روزمرہ زندگی اللہ کی مرضی سے نہیں نہ ہی ہماری مرضی.... بلکہ لوگوں کی خواہش کے مطابق گذرتی ہے... جسکا نتیجہ یہ ہوتا ہے.... کہ ہم نہ خود سکون میں ہوتے ہیں اور نہ ہی لوگ خوش ہوتے ہیں..... جنکی خاطر اپنے اللہ کو چھوڑ دیتے ہیں.... آج سے زندگی ہم نے بدلنی ہے... ہم نے لوگوں کی پرواہ نہیں کرنی وہ کیا کہتے کیا نہیں...... بلکہ وہ زندگی گذارنی ہے... *جو اللہ کو راضی کرنے والی ہو جس سے آپکا ڈیپریشن بھی دور ہو جاے گا ان شاء اللہ