ہر ایک خواب کی تعبیر تھوڑی ہوتی ہے محبتوں کی یہ تقدير تھوڑی ہوتی ہے کبھی کبھی تو جدائی بے سبب ہوتی ہے پلک پر ٹہرے ہوئے اشک سے کہا میں نے ہر ایک درد کی تشہیر تھوڑی ہوتی ہے صفر یہ کرتے ہیں ایک سے دوسرے دل تک دکھوں کے پاٶں میں زنجير تھوڑی ہوتی ہے دعا کو ہاتھ میں ٹھاٶ تو دھیان میں رکھنا ہر ایک لفظ میں تاثیر تھوڑی ہوتی ہے۔
آنکھ سے آنسو بہہ جانا تو اچھی بات ہے۔ رو رلا کر درد سہہ جانا اچھی بات ہے۔ کہہ دیا جو آیا منہ میں یہ ضروری تو نہیں کچھ نہ کچھ دل میں ہی رہ جانا تو اچھی بات ہے۔۔۔