Asalam alaikum
تمام پیکر بد صورتی ہے مرد کی ذات
مجھے یقين ہے مرد خدا ہو نہیں سکتا
خدا ایسے احساس کا نام ہے
رہے سامنے اور دکھائی نہ دے
ہوتی کہاں ہے دل سے جدا دل کی آرزو
جاتا کہاں ہے شمع کو پروانہ چھوڑ کر۔۔۔۔۔
تعریف اس خدا کی کہ جس نے یہ جہاں بنایا
کیسی یہ زمین بنائی کیا آسماں بنایا
سن کے ساری بات رنج و غم کی
کہہ دیا اس نے کہ پھر ہم کیا کریں
بات وہ کہئے کہ جس بات کے سو پہلو ہوں
کوئی پہلو تو رہے بات بدلنے کے لئے۔۔۔۔۔۔۔۔
سر محشر یہی پوچھوں گی خدا سے پہلے
تونے روکا بھی تھا بندے کو خطا سے پہلے
گل غنچے آفتاب شفق چاند کہکشاں
ایسی کوئی بھی چیز نہیں جس میں خدا نہ ہو
کچھ اس ادا سے پوچھا آپ نے میرا مزاج
کہنا پڑا کہ شکر ہے پروردگار کا۔۔۔۔
آتے آتے آئے گا ان کو خیال
جاتے جاتے بے خیالی جائے گی
تم وہ بہار جو اپنے چمن میں آواره
میں وہ چمن جو بہاراں کے انتظار میں ہے۔۔
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain