ہر شخص کو دعویٰ ہے پارسائی کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی بندہ بھی ہے یارو یا سب فرشتے ہیں ؟
میں نے کسی اور کی محفل میں بھی اسے دیکھا ہے
یہ جو تیرے ہیں وہ تیرے نہیں ہیں
ہر راہ پہنچتی ہے تیری چاہ کے در تک
ہر حرف تمنا تیرے قدموں کی صدا ہے
ضدی تھا وہ تو میں ابھی انا پرست تھی
آیا تھا جیتنے مگر ہار کر چلا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔