روز خود کو ترے قدموں میں پڑے دیکھتا ہوں
آدمی چھوٹا سہی خواب بڑے دیکھتا ہوں
لوگ ساحل پہ کھڑے کہتے ہیں سب جھوٹ تھا جھوٹ
اور میں آج بھی دریا میں گھڑے دیکھتا ہوں
گریہ کرتا ہوں عزاداری بھی ان کی خاطر
جن درختوں کے بھی میں پتے جھڑے دیکھتا ہوں
اس سلیقے سے نکلتا ہے سنور کر وہ شخص
شہر بھر کو میں قطاروں میں کھڑے دیکھتا ہوں
آج سوکھی ہوئیں ہیں آنکھیں خلاف ِ معمول
ورنہ ہر روز یہ دریا میں چڑھے دیکھتا ہوں
پھول کھلتے ہیں ترو تازہ مرے اندر روز
زخم ہر وقت نئے دل میں جڑے دیکھتا ہوں
میرا نعرہ ہے فقط نعرہ ء ترویج ِ ادب
لابیاں حلقے ہیں میرے نہ دھڑے دیکھتا ہوں
روئے تو آنکھوں تلے رکھتا ہوں میں دونوں ہاتھ
اور ہنسے جب وہ تو گالوں کے گڑھے دیکھتا ہوں
فقیہ حیدر
فرینڈ لِسٹ سے زیادہ دلچسپ ہے
ســـــــــــــــرچ لِســـــٹ میں ہونا
کبھی کبھار آپ کے چاہنے والے آپ کو
اپنی نسبت میں رکھنے کے لیۓ دور سے ہی
دیکھنے کا ایک خاص رشتہ رکھتے ہیں!!
کبھی کبھار جُڑے رہنے سے زیادہ اہم تعلق ہوتا ہے
ڈھونڈ کر نظر میں رکھا جانے والا رشتہ۔!!
"جب آپ کو معلوم ہو جائے آپ پہلی ترجیح نہیں ہو،
لڑنا بند کر دو."
ہِجر کا بوجھ ہے الفاظ سے اُٹھنے کا نہیں
رونے والوں کو تسّلی نہیں شانے دیجے ♡
ڈاکٹر اشفاق ناصرؔ
مل جائے جو کم ظرف کو تحسین زیادہ
ہے اُس کے لیے خدشہ ءِ توہین زیادہ
بکھرا تھا مرا علم سو ناکام ہوا میں
اک سال میں پڑھنے تھےمضامین زیادہ
کیونکر وہ سنے غیر سے اوصاف ہمارے
لہجہ میرے اپنوں کا ہے نمکین زیادہ
یہ اب جو حوالات میں چپ سیکھ رہے ہیں
یہ لوگ تھے حق بات کے شوقین زیادہ
مسجد میں سبھی لوگ جو باتوں میں لگے تھے
کہتے تھے دعاؤں میں وہ آمین زیادہ
کچھ لوگ وراثت کے طلبگار تھے *ساحل*
پڑھتے تھے جو بیمار پہ یٰسین زیادہ
از قلم: عصمت اللہ ساحل
سنو کہ اب ہم گلاب دیں گے گلاب لیں گے
محبتوں میں کوئی خسارہ نہیں چلے گا
✍️ : انور شعور
I'M NOT GETTING OLD
I'M GETTING BETTER
میرا لکھاں دا وکدا تکیہ ،،،
جے ہنجواں دا مل لگدا ..!
انور مسعود
روحوں کے متبادل نہیں ہوتے، روحوں کے چاہنے والے بچھڑیں تو فنا ہو جاتے ہیں
اسکی آنکھوں میں رعونت، مری آنکھوں میں خمار
دونوں دریاؤں کا انکار نہیں ہونے دیا
میں نے پھر چوم کے بتلایا کہ وہ زندہ ہے
میں نے اس شخص کو دیوار نہیں ہونے دیا
ریشمی کان مصائب بھی نہیں سن سکتے
اس لئے کرب کا اظہار نہیں ہونے دیا ♡
حسیب الحسن
میں تمھیں روتا رہوں گا!
زندگی کی عمر کسی دوسرے سیارے کو لگا دی جائے گی
دیکھنے والی ہر آنکھ بجھا دی جائے گی
اور میں تمھیں روتا رہوں گا
تمھارے حضور..تمھاری جناب میں
تم سے دور ..تمھارے غیاب میں
میں تمھیں روتا رہوں گا
شاعری کے بہانے .سرخوشی کے لئیے
موسیقی کے بہانے ..خاموشی کے لئیے
اپنے تمام رتجگوں کے
خواب میں
نیند میں، اونگھتے دنوں کے ..سراب میں
میں تمھیں روتا رہوں گا
حتی کہ فنا کی آندھی چلے
جسم آنسوؤں میں ڈھلے
پور پور پگھلے
میری ہڈیوں کا گودا
میری آنکھوں سے بہہ نکلے
میں تمھیں روتا رہوں گا ♡
عمار اقبال
میں ایسی ہوا میں سانس لینا چاہتا ہوں جہاں لوگ دھیمی آواز میں بات کریں".
میرےاعصاب پر بہت بوجھ ہے
ان باتوں کا جو کہی نہ گئیں ۔۔
ان حکایتوں کا جو سنی نہیں گئیں ۔۔
ان خواہشوں کا جو پوری نہ ہوئیں ۔۔
اور ان تکلیفوں کا بھی جو سمجھی نہیں گئیں ۔۔۔
اتنا بوجھ ہے میرے دل پر جس کے بار تلے اعصاب شل ، جسم بے جان اور دل کھنڈر ہوا جاتا ہے ۔۔۔
کبھی کبھی دل چاہتا ہے ساری سمجھداری، مصلحت، مروت اور احساس کسی آہنی صندوق میں رکھ چھوڑوں ۔۔
اور پھر دنیا جیسی بن جاؤں ۔
خود غرض
بے پرواہ
اور بے حس ۔۔
سمجھے نہیں ہیں ہم، یہ صبر ہے یا صدمہ
اک شور کے عالم میں ، چپ کا ماحول ہے
آج وعدہ تھا اس کے آنے کا
آج دستک پہ جان اٹکی ہے
"وَاسْتَعْمِلْنِي بِما تَسْأَلُنِي غَداً عَنْهُ،
وَاسْتَفْرِغْ أيّامِي فِي ما خَلَقْتَنِي لَهُ___♡
"اور مجھے اس کام میں مشغول فرما جس کے بارے میں تو کل مجھ سے سوال کرے گا،
اور میری تمام زندگی اس کام میں لگا دے جس کے لیے تو نے مجھے پیدا فرمایا ہے۔🌻
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain