بی رَوشَنیِ فُروغِ رُویَت
اَضْحَتْ غَدَوَاتُنَا عَشَایا
(عبدالرّحمٰن جامی)
تُمہارے چِہرے کی تابانی کی رَوشنی کے بَغَیر ہماری صُبحیں تارِیک شاموں میں تبدِیل ہو گئِیں۔۔۔
(مُتَرجِم: حسّان خان اباسِینی)
سنا ہے! ہر شخص خوش ہے تم سے
کیا واقعی ، تم اتنے منافق ہو ؟۔..
عَورَتوں کی ایک خَصلَت یہ بھی ہے کہ وَہ سَمجھانے سے نہیں سَمجھتِی، سَمجھانا چھوڑ دینے سے سَمجھتِی ہے۔
قُربت یہ ہے کہ
کوئی آپ کے مزاج کو مِحسُوس کر کے پُوچھے۔
کُچھ ہوا ہے نا؟۔🤍
عمر رفتہ
بس __
اسی اختلافات میں گزر گئی عمر __!
زندگی نے کہا بسر کر __ !
میں نے کہا __
یوں نہیں _!
یہ کب کہتی ہوں تم میرے گلے کا ہار ہوجاؤ
وہیں سے لوٹ جانا تم جہاں بےزار ہوجاؤ
ملاقاتوں میں وقفہ اس لئے ہونا ضروری ہے
کہ تم اک دن جدائی کے لئے تیار ہوجاؤ
بہت جلدی سمجھ میں آنے لگتے ہو زمانے کو
بہت آسان ہو تھوڑے بہت دشوار ہوجاؤ
بلا کی دھوپ سے آئی ہوں میرا حال تو دیکھو
بس اب ایسا کرو تم سایۂ دیوار ہوجاؤ
ابھی پڑھنے کے دن ہیں لکھ بھی لینا حالِ دل اپنا
مگر لکھنا تبھی جب لائقِ اظہار ہوجاؤ
پروین شاکر
اُسے کہنا ...!!
کہ ہم نے چھوڑ دی ضِد ...!!
اُن سے مِلنے کی ...!!
تَقاضے تِشنَگی کے ...!!
ساحلوں پہ چھوڑ آئے ہیں ...!!
ہمیں معلوم ہے ...!!
بے درد موسم کی رضا کیا ہے ...!!
ہم اپنے خواب سارے ...!!
پانیوں پہ چھوڑ آئے ہیں ..!!
aj buht dino bad dd ky rules torny ko dil kr rha hy..
konsa asani se tot jaiy ga?
تم شاید وقت کے سالوں میں تو بُوڑھی ھو جاؤ ، مگر میرے لِکھے گئے صفحات پر کبھی نہیں ھو گی ♡
نزار قبانی
عرضِ غم کبھی اس کے روبرو بھی ہو جائے
شاعری تو ہوتی ہے، گفتگو بھی ہو جائے
زخمِ ہجر بھرنے سے یاد تو نہیں جاتی
کچھ نشاں تو رہتے ہیں، دِل رفو بھی ہو جائے
رند ہیں بھرے بیٹھے اور مے کدہ خالی
کیا بنے جو ایسے میں ایک "ہُو" بھی ہو جائے
میں اِدھر تنِ تنہا اور اُدھر زمانہ ہے
وائے گر زمانے کے ساتھ تو بھی ہو جائے
پہلی نامرادی کا دکھ کہیں بسرتا ہے
بعد میں اگر کوئی سرخرو بھی ہو جائے
دین و دل تو کھو بیٹھے اب فرازؔ کیا غم ہے
کوئے یار میں غارت آبرو بھی ہو جائے
احمد فراز
کبھی ملیں بھی تو موسم کی بات کرتے ہیں
ہمارا اس کا تعلق بھی لا معاملہ ہے
ہمیں تو اس سے محبت ہے، یہ تو مانتے ہیں
اسے نہیں ہے تو یہ اک جدا معاملہ ہے♡
ظفر اقبال
کوئی دوزخ کوئی ٹھکانہ تو ہو
کوئی غم حاصلِ زمانہ تو ہو
لالہ و گل کی رت نہیں، نہ سہی
کچھ نہ ہو، شاخِ آشیانہ تو ہو
کبھی لچکے بھی آسمان کی ڈھال
یہ حقیقت کبھی فسانہ تو ہو
ان اندھیروں میں روشنی کے لیے
طاقِ چوبیں پہ شمعِ خانہ تو ہو
کسی بدلی کی ڈولتی چھایا
کوئی رختِ مسافرانہ تو ہو
گونجتے گھومتے جہانوں میں
کوئی آوازِ محرمانہ تو ہو
اس گلی سے پلٹ کے کون آئے
ہاں مگر اس گلی میں جانا تو ہو
میں سمجھتا ہوں ان سہاروں کو
پھر بھی جینے کا اک بہانہ تو ہو
مجید امجد
طویل ہجر کی یکبارگی تلافی ہیں
تمہارے صبر گزاروں کو خواب کافی ہیں
بس ایک بار انہیں دیکھنے کی خواہش ہے
پھر اس کے بعد یہ آنکھیں مجھے اضافی ہیں♡
ہمیں جو عشق ہوا ہے بہت ہے نسلوں تک
ہمیں جو زخم ملے ہیں حضور کافی ہیں
آزاد حسین آزاد
دلچسپ تو بہت تھا اُمیدوں کا ہر طلسم
لیکن ہر اِک فریب سے جی اپنا بھر گیا♡
عبدالحمید عدمؔ
میرے ہونے کا ہو چکا ماتم
آپ اپنی حیات کھا گیا میں
انہیں جو. ناز ہے خود پر
نہیں وہ بے وجہ محسن
کہ جس کو ہم نے چاہا ہو
وہ خود کو عام کیوں سمجھے
محسن نقوی..
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain