جو اَزل تا ابد نہ ٹوُٹ سکی
آج اُس خامشی سے بات کریں
"فراق گورکھپوری"
کیا بات بتائیں گے وہ حالات کے مارے
بادل سے بھی ڈر جاتے ہیں برسات کے مارے
مل جاتی ہے عزت سے کہیں ان کو جو روٹی
خُوش ہو کے بھی مر جاتے خیرات کے مارے
کچھ زعمِ تکلم میں بھی کرتے ہیں بڑی بات
احساس سے محروم یہ جذبات کے مارے
مٹی کے گھڑوں میں نہیں اب پانی میسّر
سمجھیں گے کہاں پیاس یہ اب دھات کے مارے
آتا ہے بہت یاد وہ گھر جیتے تھے جس میں
ہو جاتے ہیں خاموش بس اولاد کے مارے
جس گھر سے نہ دِکھتے ہو کبھی چاند ستارے
مر جاتے ہیں شب میں وہاں سب رات کے مارے
باتوں میں روانی نہ وہ اب چال پُرانی
اور دل بھی دھڑکتا ہے تو خدشات کے مارے
کچھ ایسا لکھو تم بھی رضا بُھول کے ہر غم
پڑھ لیں تو ذرا ہنس دیں یوں صدمات کے مارے
سید محتشم رضا
کَیا اِرادے ہیں وَحشَتِ دِل کے
کِس سے مِلنا ہے خاک میں مِل کے۔۔۔!
ناطقؔ گلاوٹھی
یُوں تو تنہائی میں گھبرائے بَہُت
مِل کے لوگوں سے بھی پچھتائے بَہُت
(وکیل اختر)
انجم میں بد دعا بھی نہیں دے سکا اسے
جی چاہتا تو تھا وہاں کہرام کر کے آؤں
انجم سلیمی
اَشْهَدُأَنّا فَاطِمَةَالزّهْرَا الصِّدِّيقَةُالْكُبْرَى
میں گواہی دیتا ہوں کہ جنابِ سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کائنات کی سچی خاتون ہے!
🌺
اگر ہم پرواز کر سکتے تو آسمان فرار ہونے والوں سے بھرا رہتا۔۔۔ 🌸
فرضِ منصبی کے تقاضے الگ ہوا کرتے ہیں،
اور محبت کے تقاضے الگ۔
تم نے محبت سمجھا… اور نہ ہی فرض جانا ہم کو،
مگر سنو صاحب… جدائی کے یہی جواز ہوا کرتے ہیں۔
تم سے ادا نہ ہوئی مکمل رسمِ جفا بھی،
چلو… یہ رسم بھی ہم ہی ادا کیے دیتے ہیں۔
🥀
Wishing you a beautiful day with good health and happiness forever. Happy Birthday!
خود سے روٹھوں تو کئی روز نہ خود سے بولوں
پھر کسی درد کی دیوار سے لگ کر رو لوں
تو سمندر ہے تو پھر اپنی سخاوت بھی دکھا
کیا ضروری ہے کہ میں پیاس کا دامن کھولوں
احمد فراز
اللَّهُمَّ هَوِّنْ، ثُمَّ هَوِّنْ، ثُمَّ هَوِّنْ
ثُمَّ أَرِحْ نَفْسًا لَا يَعْلَمُ بحَالِهَا إِلَّا أَنْتَ.
اے اللّٰہ! آسانی فرما، پھر آسانی فرما، پھر آسانی فرما، پھر اس جان کو راحت عطا فرما جس کے حال کو تیرے سوا کوئی نہیں جانتا۔
دن تو خیر گزر جاتا ہے
راتیں پاگل کر دیتی ہیں
(ن م دانش)
دن بَہَل جاتا ہے لیکن تِرے دیوانوں کی
شام ہوتی ہے تو وَحشت نہیں دیکھی جاتی
(پروین شاکر)
عورت رو سکتی ہے، دلیلیں پیش نہیں کرسکتی۔ اس کی سب سے بڑی دلیل اس کی آنکھ سے ڈھلکا ہوا آنسو ہے۔
سعادت حسن منٹو
"مضبوط ہونے کا خسارہ یہ ہے، کہ کوئی نہیں جانتا کہ آپ تکلیف میں ہیں."
سکھ میں لگے ہمیشہ کہ دکھ ہے یہیں کہیں
ہنستے سمے میں رو نہ دوں، دھڑکا لگا رہے
سونیا کانجو ♡
یُوں ہر ایک ظُلم پہ دَم سادھے کَھڑے ہیں
جیسے دِیوار میں چُنوائے ہُوئے لَوگ ہیں ہَم۔۔۔!
قتیلؔ شفائ
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain