انہیں جو. ناز ہے خود پر
نہیں وہ بے وجہ محسن
کہ جس کو ہم نے چاہا ہو
وہ خود کو عام کیوں سمجھے
محسن نقوی..
جہانِ فکر و نظر کا ثبات لے کے گیا
وہ صرف دل ہی نہیں کائنات لے کے گیا
وہ عہدِ رفتہ وہ الفت وہ احترامِ وفا
گیا تو ساتھ میں ساری صفات لے کے گیا
بھٹک رہے تھے سرابِ نظر لیے ہر سُو
شعورِ عشقِ جہاں دل کو ساتھ لے کے گیا
میں صرف اس کو تغافل کہوں تو کیسے کہوں
گیا تو ساتھ میں ہر التفات لے کے گیا
غرور لے کے مرا اختیارِ ہستی کا
تو اپنی فکرِ حیات و ممات لے کے گیا
لحد وہی ہے مگر آ چکے نئے مردے
تو وقت لاش کی سب باقیات لے کے گیا
ضمیر بیچنے والے وہ تیرا سودا گر
ضمیر ہی نہیں ذات و صفات لے کے گیا
وہ اور کچھ بھی نہ رکھتا تھا جسم و جاں کے سوا
سنا شہیدؔ متاعِ حیات لے کے گیا
(عزیز الرحمٰن شہید فتح پوری)
یہ ترے بعد ستاتا ہے تسلسل سے مجھے
میں نے اک روز گلا 'دل' کا دبا دینا ہے
پتہ ہے سب سے ظالمانہ حقیقت کیا ہے؟
ہم ٹوٹ جاتے ہیں… اور دنیا جوں کی توں رہتی ہے۔
نہ زمین پھٹتی ہے
نہ آسمان گرتا ہے
نہ کوئی شور ہوتا ہے
تباہی صرف ایک جگہ ہوتی ہے
اندر… اور وہ بھی اکیلے
اے دردِ عشق اُٹھ کہ مداوائے دل کریں
پرہیز کرتے کرتے تو بیمار ہو گئے
حسنؔ بریلوی
شام آئے اور گھر کے لیے دل مچل اٹھے
شام آئے اور دل کے لیے کوئی گھر نہ ہو
غریب کیلئے سب سے بڑا دکھ یہ ہے کہ انہیں غربت بھی وراثت میں ملتی ہے...
تیرے تھوڑے ہاسے وَنڈاں
آپنڑے آسے پاسے وَنڈاں
تُوں جے ہَس کے ویکھیں سَجنڑا
عالَم وِچ پَتاسے وَنڈاں
کیسا وصال؟ کس کی تسلی؟ کہاں کا لطف؟
کچھ ہو نہ ہو، بلا سے، مرے دل کی خیر ہو!
خورشید رضوی
میں تو خود پر بھی کفایت سے اسے خرچ کروں
وہ ہے مہنگائی میں مشکل سے کمایا ہوا شخص
جب ضرورت تھی اسی وقت مجھے کیوں نہ ملا
بس اسی ضد میں گنوا بیٹھا ہوں پایا ہوا شخص
good bye DmD
خالص کرے مجھ سے
بھلے نفرت کرے کوئی
سب کو ہم بھول گئے جوش جنوں میں لیکن
اک تری یاد تھی ایسی جو بھلائی نہ گئی
جگر مراد آبادی
لاحِقاً، يَطمَئِنُّ القَلبــــــ
بعد میں دل سنبھل جاتا ہــے !
ماہیا وے۔۔۔۔۔۔
اساں چولا پایا عشقے دا
اساں بنھ لئے گھنگرو یار دے
دس کی کرئیے ایہناں اکھیاں دا
وچ سفنے چھمکاں مار دے
ماہیا وے
اساں چیتر گروی رکھیا سی
اج ہاڑ کنارے بیہہ گئے آں
سبھ بوٹے آس دے سڑ گئے نیں
اساں دھپاں سہن نوں رہ گئے
ماہیا وے
ساڈے اندر تاپ وچھوڑے دا
سانوں اندرو اندری مار گیا
کجھ سفنے سانبھ کے رکھے سی
کوئی ککھاں وانگ کھلار گیا
کبھی کبھی دل چاہتا ہے کوئی بس پوچھ لے
تھک گئے ہو ناں ؟
اور ہم بغیر کچھ کہے رو پڑیں۔"
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain