بہت تلاشا تھا ہم نے تم کو ہر ایک رستہ، ہر ایک وادی ہر ایک پربت، ہر ایک گھاٹی کہیں سے کوئی خبر نہ آئی ہوا پہ لکھ کر پیام بھیجا تو وہ بھی پھر لوٹ کر نہ آئی تو ہم نے یہ کہہ کے دل کو ٹالا ہوا تھمے گی تو دیکھ لیں گے ہم اس کے راستوں کو ڈھونڈ لیں گے مگر ہماری یہ خوش خیالی جو ہم کو برباد کر گئی تھی کہ ہم سے تاخیر ہو گئی تھی ہوا تھمی تھی ضرور لیکن بڑی ہی مدت گزر چکی تھی ___ امجد اسلام امجد
تمہیں خبر ہے ہوا رخ بدل بھی سکتی ہے پرندے اپنے بسیروں پہ شام ڈھلنے پر ہوا ہے یوں کہ پلٹنا بھی بھول جاتے ہیں بہار رت میں درختوں کی ٹہنیوں سے کبھی خزاں سے پہلے ہی پتے بچھڑنے لگتے ہیں اور ایک عمر گزاری ہو جن کے رستوں پر وہی تمام ریاضت کو دھول کرتے ہیں تمھارے لب پہ ابھرتی ہوئی خفیف ہنسی یہ کہہ رہی ہے بھلا اس میں کیا نیا پن ہے مگر تمام کہانی میں اب نئے تم ہو تمہیں خبر ہے مگر یہ تمھیں خبر کب ہے تمھارے زعم محبت کے اور وفاؤں کے اسی بہار میں خیمے اکھڑ بھی سکتے ہیں تمہیں خبر ہے ہوا رخ بدل بھی سکتی ہے نوشی گیلانی