سو خوش دِلی سے گھڑی بھر گلے لگاؤ ہمیں
ہمارے سارے مسائل کا حل محبت ہے!
عطا الحسن
میں ہمیشہ تمھارے ساتھ ہوں, 20 اور 30 کی خوبصورتی میں 40 کی ہنسی اور 50 کی بیماری میں 60 کی تنہائی اور 70 کی مایوسی میں - ! ❤️

عمر کی شاخ پر کھلنے والی اس اک اولیں شام کو
بےسبب جو لگا ہےاس ا لزام کو
پھر ترے نام کو
بھولتا کون ہے♡
نوشی گیلانی
وہ ساون جس میں زلفوں کی گھٹا چھائی نہیں ہوتی
جو برسے بھی تو سیراب اپنی تنہائی نہیں ہوتی
جنابِ عشق کرتے ہیں کرم کُچھ خاص لوگوں پر
ہر انسان کے مقدر میں تو رُسوائی نہیں ہوتی
سمندر پر سکوں ہے اس لیے گہرا بھی ہے ورنہ
مچلتی ندیوں میں کوئی گہرائی نہیں ہوتی
یہ واعظ ہے ، نہیں تقریر میں رکھتا جواب اپنا
مگر اس شخص کی باتوں میں سچائی نہیں ہوتی
جہاں ساقی کی ایما پر کوئی کم ظرف آ بیٹھے
وہاں خوش ذوق رندوں کی پزیرائی نہیں ہوتی
کبھی چہرے بدل کر بھی یہاں کچھ لوگ آتے ہیں
کبھی کُچھ دیکھتی آنکھوں میں بینائی نہیں ہوتی
قتیلؔ اکثر یہ دیکھا ہے کسی مفلس کے آنگن میں
برات آئے تو اس کے ساتھ شہنائی نہیں ہوتی
قتیلؔ اُس شخص کا کیا واسطہ میرے قبیلے سے
وفا کے جُرم میں جس نے سزا پائی نہیں ہوتی




رائگانی سے کہیں بڑھ کے ہے زنجِ بے بسی
ڈھل رہے ہیں ہم ہمارے سامنے رکھے ہوئے
ظہیر مشتاق رانا
ﺟﯿﺴﺎ ﻣﻮﮈ ﮨﻮ ﻭﯾﺴﺎ ﻣﻨﻈﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ
ﻣﻮﺳﻢ ﺗﻮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ
ﺩﺭﺩ ﮐﮯ ﻣﺎﺭﻭ ! ﺍﺗﻨﺎ ﺿﺒﻂ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ
ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﺎ ﺭﻭ ﻟﯿﻨﺎ ﺑﮩﺘﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ
ﻋﺰﯾﺰ ﺍﻋﺠﺎﺯؔ
اک روز اس نے بھیجا مجھے دل بنا کے اور
اس دن کے بعد میرا کہیں دل نہیں لگا ♡
مہوش مشعل
جو ابر گھیر کے لایا تو میں اکیلا تھا
تمہارا ہجر منایا تو میں اکیلا تھا
ابھی تو دوست دِیوں کی مثال تھے خالد
ہوا نے شور مچایا تو میں اکیلا تھا
خالد ندیم شانی
وہ باتیں تیری وہ فسانے ترے
شگفتہ شگفتہ بہانے ترے
بس اک داغ ِ سجدہ میری کائنات
جبینیں تیری ، آستانے ترے
بس اک زخمِ نظارہ حصہ میرا
بہاریں تری آشیانے ترے
فقیروں کا جھمگھٹ گھڑی دو گھڑی
شرابیں تری بادہ خانے ترے
ضمیر صدف میں کرن کا مقام
انوکھے انوکھے ٹھکانے ترے
بہار و خزاں کم نگاہوں کے وہم
برے یا بھلے سب زمانے ترے
فقیروں کی جھولی نہ ہوگی تہی
ہیں بھر پور جب تک خزانے ترے
عدم بھی ہے تیرا حکایت کدہ
کہاں تک گئے ہیں فسانے تیرے
عبدالحمید عدم
اب کون کہے تم سے
میں یاد اگر آؤں
کچھ دیپ جلا لینا
اب کون کہے تم سے
سوکھے ہوئے پیڑوں کو
ہر بات سنا لینا
اب کون کہے تم سے
اجڑے ہوئے لوگوں سے
خاموش دعا لینا
اب کون کہے تم سے
بے کار اذیت میں
مت خود کو گنوا لینا
اب کون کہے تم سے
کوئی رو کے منائے تو
سینے سے لگا لینا
اب کون کہے تم سے
بے عیب نہیں کوئی
تم عیب چھپا لینا
زین شکیل۔
کسی کی خاطر قرار کھونا
کوئی سُنے گا تو کیا کہے گا
تمھارا راتوں کو اُٹھ کر رونا
کوئی سُنے گا تو کیا کہے گا
زمانہ عہدِ شباب کا ہے
نئے خواب و خیال کا ہے
شبِ بیداری اور دن کا سونا
کوئی سُنے گا تو کیا کہے گا
بھنور میں تُم ہم کو چھوڑ آتے
یونہی محبت کا راز رہتا
لا کے ساحل پہ یوں ڈبونا
کوئی سُنے گا تو کیا کہے گا
کہا یہ میں نے
تم زندگی ہو میری
وه ہنس کے بولے چُپ رہو نہ
کوئی سُنے گا تو کیا کہے گا
تو تسلی سے چلا تیشہ رعایت مت کر
یوں سمجھ، دل نہیں دیوار مرے سینے میں ہے
کیا کروں اسکا مجھے اتنا بتاتے جائیں
آپ کی چیز جو سرکار مرے سینے میں ہے
لوگ کہتے ہیں کہ آسیب ہے دیواروں پر
میں یہ کہتا ہوں نہیں یار مرے سینے میں ہے ♡
نعمان شفیق
آو ﭘﮭﺮ ﺳﮯ
ﺩﻫﺮﺍﺋﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ
ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ
ﺑﮯ ﭘﻨﺎﮦ ﭼﺎﮨﻮﮞ
ﺗﻢ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮯ ﻭﺟﮧ
ﭼﮭﻮﮌ ﺟﺎﻧﺎ ...!!!
کوئی دھواں اٹھا نہ کوئی روشنی ہوئی
جلتی رہی حیات بڑی خاموشی کے ساتھ
ﻧﮩﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ، ﻣﯿﮟ ﺍﮐﯿﻼ ﺗﻮ ﺩﻝ ﮔﺮﻓﺘﮧ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ
ﺷﺠﺮ ﺑﮭﯽ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﻤﺮ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ
ﺍﺩﺭﯾﺲ ﺍٓﺯﺍﺩ
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain