شام ہوتے ہی کسی بھولے ہوئے غم کی مہک صحن میں یوں اتر آئی ہے کہ سبحان اللہ پا بہ گل ہوں مگر اڑتا ہوں میں خوشبو بن کر قید میں ایسی رہائی ہے کہ سبحان اللہ رحمان فارس
جب یاروں سے عہد نبھانے پڑتے ہیں دل میں قبرستان بنانے پڑتے ہیں یوں تو آمنے سامنے بیٹھے ہیں لیکن تیرے میرے بیچ زمانے پڑتے ہیں مجھ جیسوں میں آکر زرد ہی رہتے ہیں تجھ ایسوں میں رنگ سہانے پڑتے ہیں تنہائ جب حد سے زیادہ ہو جائے دیواروں کو درد سنانے پڑتے ہیں گھر والوں میں بیٹھ کے ہنسنا پڑتا ہے رونے کے اسباب چھپانے پڑتے ہیں تم جیسوں کو سکھ ملتے ہیں تھالی میں ہم جیسوں کو یار کمانے پڑتے ہیں ہم جیسے پھل دار مقدس پیڑوں کو قسمت کے سب پتھر کھانے پڑتے ہیں مقدس ملک
بس بگڑ جائے مری سانسوں کی ترتیب ذرا کیا تو اتنا بھی مرے پاس نہیں ہو سکتا ؟ کیا اذیت ہے ترے گال پہ پڑتا ڈمپل تجھ کو اس درد کا احساس نہیں ہو سکتا کیسے مانوں کہ تجھے یار طلب ہے میری ایک دریا کو لگے پیاس ؟ نہیں ہو سکتا جاویدجدون
جہانِ رنگ ترا انتظار کرتے ہوئے میں تھک گیا ہوں ستارے شمار کرتے ہوئے نہیں ہے دوسرا آنسو بھی میری پلکوں پر یہاں تک آ گیا میں اختصار کرتے ہوئے♡ میں سوچتا ہوں مجھے سوچنا تو چاہیے تھا بے اعتبار پہ پھر اعتبار کرتے ہوئے منیر انور
مسیحا آپ ہیں زیرِ علاج, حیرت ہے یہ کوئے عشق کے الٹے رواج, حیرت ہے مرے دماغ کی بابت بزرگ کہتے ہیں ذرا سے کھیت میں اتنا اناج, حیرت ہے میں سخت سہل پسند تھی لیکن اب برائے عشق مرے کام کاج, حیرت ہے ہمارے ہاں تو "جو روٹھے اسے مناتے ہیں" تمہارے ہاں نہیں ایسا رواج؟ حیرت ہے فراز دل بھی دکھاتے ہو اور چاہتے ہو ضمیر بھی نہ کرے احتجاج؟ حیرت ہے
آج کـے بعد عشـرتِ مجلسِ شامِ غم کہاں دل نہ لگے گا تیرے بعد پر تیرے بعد ہم کہاں یہ جبین و چشم و لب تم کو نظر نہ آئیں گے غور سے دیکھ لو آپ ہمیں آج کے بعد ہم کہاں
اگر تم پسند کرتے ہو.! دھواں اڑاتی چاۓ ، لمبا سفر، کھڑکی والی سیٹ پر بیٹھنا، شاعری، سردی کی راتیں، دھکتی لکڑیاں، برف پوش پہاڑ٫ سر سبز میدان، آبشاریں ، جھیلیں ، پرانی تصویریں، بوڑھے درخت، پانی میں چاند کا عکس، خاموشی اور آوارگی. ♡تو سمجھو ہم '' دوست'' ہیں...!
کبھی والیل کی آیت پھونکونا میری زلف کے گنجل سلجھیں کبھی کرو تلاوت یوسف کی میرے بیچ زلیخہ روتی ہے کبھی ضحیٰ کا پاٹ پڑھاؤ میرا مکھڑا روشن ہوجائے والعصر کو گھولو سینے میں مجھے گھاٹے اب نامنظور سائیں!! اخلاص بسا دو روح اندر مجھے اب ہرجائی ہونا ہے مجھے وصل دیو سرکار سائیں!! مجھے ایک اکائی ہونا ہے🖤