Damadam.pk
Sania_786_me's posts | Damadam

Sania_786_me's posts:

Sania_786_me
 

آپکی ہزار مخلصانہ کوششوں کے باوجود بھی
اگر جانے والا جانا چاہے
تو اسے سب سے قیمتی تحفہ جو آپ دے سکتے ہیں وہ ہے
"راستہ"

Sania_786_me
 

ہم الگ نہیں ہوئے، لیکن ہم کبھی نہیں ملیں گے۔
محمود درویش

Sania_786_me
 

"تمہاری آواز کی کمی میرے دل کی دیواروں پہ رنج کے جالے بُن رہی ہے"
"اے میرے دِل! تم سلامت رہو"
نصف شب ایک خواب میری نیندیں چُرا لیتا ہے، محض تھکن باقی رہتی ہے میں کئی آوازیں لگاتی ہوں، حسرتیں پر مارتی ہیں اور پھڑپھڑاتے ہوئے مر جاتی ہیں۔تم میری پکار کیوں نہیں سنتے؟ ہر خواب کے آخر میں تم میرا ہاتھ کیوں چھوڑ دیتے ہو؟
اب کی بار تم سے ملے زخم اتنے گہرے ہیں کہ میرے پاس کوئی بھرم باقی نہیں رہا، دُکھ کی چادر پہ سکھ کے موتی کاڑھنا کٹھن ہو گیا ہے، تمہاری آواز کی بوند بوند کو ترستی میری سماعتیں، میں اور گہری خامشی تمہارے کبھی نہ ختم ہونے والے انتظار میں ہیں۔
"تم نہیں آؤ گے، ہمیشہ کا انتظار ختم نہیں ہوتا "♡
سمعیہ ملک

Sania_786_me
 

انورٓ فنا پذیر یہ عالَم نہ پُوچھیے
وھ بھی مَریں گے جو ابھی پیدا نہیں ھُوئے
(انورؔ مسعود)

Sania_786_me
 

اُس نے بے ساختہ کہہ جانا ہے سب کچھ
میں نے لفظوں کہ چناؤ میں اڑے رہنا ہے
ایک دستک پہ وہ دروازہ نہیں کھولے گا
اُسے معلوم جو ہے میں نے کھڑے رہنا ہے

Sania_786_me
 

میں نے دل سے کہا ڈھونڈ لانا خوشی
نا سمجھ لایا غم تو یہ غم ہی سہی
کبھی ہے عشق کااُجالا کبھی ہے موت کا اندھیرا
بتاؤ کون بھیس ھو گا میں جوگی بنو ں یا لُٹیرا
کئی چہرے ہیں اس دل کے نا جانے کون سا میرا
میں نے دل سے کہا ڈھونڈ لانا خوشی
نا سمجھ لایا غم تو یہ غم ہی سہی
بیچارا کہاں جانتاہے خلش ہے یہ کیا خلا ہے
شہر بھر کی خوشی سےیہ دردمیرا بھلا ہے
جشن یہ راس نہ آئے مزا تو بس غم میں آیا ہے
میں نے دل سے کہا ڈھونڈ لانا خوشی
نا سمجھ لایا غم تو یہ غم ہی سہی

Sania_786_me
 

جانے یہ ہم کن گلیوں میں خاک اڑا کر آ جاتے ہیں
عشق تو وہ ھے جس میں ناموجود میسر آ جاتے ہیں
میم محبت پڑھتے پڑھتے - لکھتے لکھتے کاف کہانی
بیٹھے بیٹھے اس مکتب میں خاک برابر آ جاتے ہیں
نام کسی کا رٹتے رٹتے ایک گرہ سی پڑ جاتی ھے
جن کا کوئی نام نہیں وہ لوگ زباں پر آ جاتے ہیں
ذوالفقار عادل

Sania_786_me
 

کسی مکتب کی طرح عشق کے ہیں ضابطے سارے
یہاں جو دیر سے آئے اسے جرمانہ پڑتا ہے
اداسی کے یہ دن بالکل خزاں کے خوف جیسے ہیں
ہم ایسے خوشنما پھولوں کو بھی مرجھانا پڑتا ہے
کومل جوئیہ

Sania_786_me
 

روحیں اپنے جیسی روحوں کو ڈھونڈ لیتی ہیں یہ طاقت انہیں ازل سے ،ودیعت کر دی گئی ہے
منصور حلاج

Sania_786_me
 

دو چار باتیں وہ لوگ بھی سنا کر گئے ہم کو
جن کی قمیضوں پر اپنا گریبان تھا ہی نہیں
اتنے پارساؤں میں پھر دم نہ گھٹتا تو کیا ہوتا؟
جو بھی ملا فرشتہ ہی ملا انسان تھا ہی نہیں

Sania_786_me
 

جو میرا یار نہیں ہے، میں اس کا یار نہیں
یہ خاکسار اب اتنا بھی خاکسار نہیں
مِرے چراغ کو پوچھے بِنا بجھا ڈالیں
اب اس قدر بھی ہواؤں کو اختیار نہیں
راکب مختار

Sania_786_me
 

آ پ نہیں تھے !
مگر یہ دلاسہ ضروری تھا میرے لیے
آ پ یہیں ہیں !
میں خود کو بتاتا رہا !
مسکراتا رہا !

Sania_786_me
 

جیسے ایک بات مشہور کی ہوئی ہے نا کہ دولت والوں کو سکون نہیں ہوتا ( جیسے غریبوں کو تو سکون ہی سکون ہوتا ھے)
اسی طرح یہ مقولہ بھی غلط ہے کہ " روپ رون ، قسمت کھان " ( روپ والی لڑکیاں روتی ہیں اور قسمت والی راج کرتی ہیں) ۔۔۔
نا ساری روپ والی لڑکیاں روتی ہیں نا ساری کم شکل قسمت سے راج کرتی ہیں۔ نوے فیصد راج وھی کرتی ہیں جو خوبصورت ہیں۔ بد شکلوں کی تو یہ دنیا نا کبھی تھی نا ھوگی
باقی آپ کمنٹس میں جتنا مرضی فلسفہ لکھ دیں۔ رھے گا وہ فلسفہ ھی۔ حقیقت وھی جو میں نے بیان کی ھے۔ معاشرہ ابھی وہ آنکھیں نہیں رکھتا جو اندر کی خوبصورتی دیکھ سکے ۔۔۔

Sad Poetry image
S  🔥 : اکتوبر کے دن , مدھم مدھم روشنی جیسے اور راتیں ,کچھ سرد ,اس کے رویہ جیسی !! - 
Sania_786_me
 

شور میں صداؤں کـے
اجنبی ھواؤں کـے
کون سننـے والا ھـے؟
کس سـے اب کہا جائـے؟
گفتگو پہ پہرے ھیں
ہر طرف کٹہرے ھیں ،
راستـے معین ھیں ،
ھر قدم پہ لکھا ھـے
کس جگہ پہ رکنا ھـے؟
کس طرف چلا جائـے ؟
دل کی بات کہنـے کا
اک یہی طریقہ ھـے
چھپ کـے ساری دنیا سـے،
اب گھروں کـے کونوں میں
آپ ھی سنا جائـے،
آپ ھی کہا جائـے ۔۔
"امجد اسلام امجد"

نصیر احمد ناصر 
ہم اکتوبر میں ملے
جب پتے درختوں سے
الگ ہونے کی تیاری کر رہے تھے
ہم اکتوبر میں ملے
جب دھوپ نرم پڑ چکی تھی
اور آسمان
سفید بادلوں کے مرغولوں سے
چمک رہا تھا
ہم اکتوبر میں ملے
جب پہاڑ
دُور سے بھی صاف دکھائی دے رہے تھے
ہم اکتوبر میں ملے
جب پرندے
پانیوں سے ہم آغوش تھے
اور جھیلیں
ان کی پھڑپھڑاہٹ سے لبالب تھیں
ہم اکتوبر میں ملے
لیکن ہم اکتوبر میں جدا نہیں ہوں گے
کیوں کہ ہماری جڑیں
اپریل میں پیوست ہیں
S  : نصیر احمد ناصر ہم اکتوبر میں ملے جب پتے درختوں سے الگ ہونے کی تیاری کر - 
Beautiful Nature image
S  : اے دل ان آنکھوں پر نہ جا جن میں وفور رنج سے کچھ دیر کو تیرے لیے آنسو اگر - 
Memes & Satire image
S  🔥 : No caption - 
Sania_786_me
 

آدمی ایک دفعہ دل سے اُتر جائے تو پھر
ساتھ رہ سکتا ہے, درکار نہیں رہ سکتا
مشکلیں ہیں, کوئی تہوار نہیں ہے مرے دوست
آدمی پہلے سے تیار, نہیں رہ سکتا !
اسامہ عندلیب

Sania_786_me
 

"وہم"
.
وہ نہیں ہے
تو اُ س کی چاہت میں
کس لیے
رات دن سنورتے ہو
خود سے بے ربط باتیں کرتے ہو
اپنا ہی عکس نوچنے کے لیے
خود اُلجھتے ہو، خود سے ڈرتے ہو
ہم نہ کہتے تھے
ہجر والوں سے ، آئینہ گفتگو نہیں کرتا
.
محسن نقوی