آپکی ہزار مخلصانہ کوششوں کے باوجود بھی
اگر جانے والا جانا چاہے
تو اسے سب سے قیمتی تحفہ جو آپ دے سکتے ہیں وہ ہے
"راستہ"
ہم الگ نہیں ہوئے، لیکن ہم کبھی نہیں ملیں گے۔
محمود درویش
"تمہاری آواز کی کمی میرے دل کی دیواروں پہ رنج کے جالے بُن رہی ہے"
"اے میرے دِل! تم سلامت رہو"
نصف شب ایک خواب میری نیندیں چُرا لیتا ہے، محض تھکن باقی رہتی ہے میں کئی آوازیں لگاتی ہوں، حسرتیں پر مارتی ہیں اور پھڑپھڑاتے ہوئے مر جاتی ہیں۔تم میری پکار کیوں نہیں سنتے؟ ہر خواب کے آخر میں تم میرا ہاتھ کیوں چھوڑ دیتے ہو؟
اب کی بار تم سے ملے زخم اتنے گہرے ہیں کہ میرے پاس کوئی بھرم باقی نہیں رہا، دُکھ کی چادر پہ سکھ کے موتی کاڑھنا کٹھن ہو گیا ہے، تمہاری آواز کی بوند بوند کو ترستی میری سماعتیں، میں اور گہری خامشی تمہارے کبھی نہ ختم ہونے والے انتظار میں ہیں۔
"تم نہیں آؤ گے، ہمیشہ کا انتظار ختم نہیں ہوتا "♡
سمعیہ ملک
انورٓ فنا پذیر یہ عالَم نہ پُوچھیے
وھ بھی مَریں گے جو ابھی پیدا نہیں ھُوئے
(انورؔ مسعود)
اُس نے بے ساختہ کہہ جانا ہے سب کچھ
میں نے لفظوں کہ چناؤ میں اڑے رہنا ہے
ایک دستک پہ وہ دروازہ نہیں کھولے گا
اُسے معلوم جو ہے میں نے کھڑے رہنا ہے
میں نے دل سے کہا ڈھونڈ لانا خوشی
نا سمجھ لایا غم تو یہ غم ہی سہی
کبھی ہے عشق کااُجالا کبھی ہے موت کا اندھیرا
بتاؤ کون بھیس ھو گا میں جوگی بنو ں یا لُٹیرا
کئی چہرے ہیں اس دل کے نا جانے کون سا میرا
میں نے دل سے کہا ڈھونڈ لانا خوشی
نا سمجھ لایا غم تو یہ غم ہی سہی
بیچارا کہاں جانتاہے خلش ہے یہ کیا خلا ہے
شہر بھر کی خوشی سےیہ دردمیرا بھلا ہے
جشن یہ راس نہ آئے مزا تو بس غم میں آیا ہے
میں نے دل سے کہا ڈھونڈ لانا خوشی
نا سمجھ لایا غم تو یہ غم ہی سہی
جانے یہ ہم کن گلیوں میں خاک اڑا کر آ جاتے ہیں
عشق تو وہ ھے جس میں ناموجود میسر آ جاتے ہیں
میم محبت پڑھتے پڑھتے - لکھتے لکھتے کاف کہانی
بیٹھے بیٹھے اس مکتب میں خاک برابر آ جاتے ہیں
نام کسی کا رٹتے رٹتے ایک گرہ سی پڑ جاتی ھے
جن کا کوئی نام نہیں وہ لوگ زباں پر آ جاتے ہیں
ذوالفقار عادل
کسی مکتب کی طرح عشق کے ہیں ضابطے سارے
یہاں جو دیر سے آئے اسے جرمانہ پڑتا ہے
اداسی کے یہ دن بالکل خزاں کے خوف جیسے ہیں
ہم ایسے خوشنما پھولوں کو بھی مرجھانا پڑتا ہے
کومل جوئیہ
روحیں اپنے جیسی روحوں کو ڈھونڈ لیتی ہیں یہ طاقت انہیں ازل سے ،ودیعت کر دی گئی ہے
منصور حلاج
دو چار باتیں وہ لوگ بھی سنا کر گئے ہم کو
جن کی قمیضوں پر اپنا گریبان تھا ہی نہیں
اتنے پارساؤں میں پھر دم نہ گھٹتا تو کیا ہوتا؟
جو بھی ملا فرشتہ ہی ملا انسان تھا ہی نہیں
جو میرا یار نہیں ہے، میں اس کا یار نہیں
یہ خاکسار اب اتنا بھی خاکسار نہیں
مِرے چراغ کو پوچھے بِنا بجھا ڈالیں
اب اس قدر بھی ہواؤں کو اختیار نہیں
راکب مختار
آ پ نہیں تھے !
مگر یہ دلاسہ ضروری تھا میرے لیے
آ پ یہیں ہیں !
میں خود کو بتاتا رہا !
مسکراتا رہا !
جیسے ایک بات مشہور کی ہوئی ہے نا کہ دولت والوں کو سکون نہیں ہوتا ( جیسے غریبوں کو تو سکون ہی سکون ہوتا ھے)
اسی طرح یہ مقولہ بھی غلط ہے کہ " روپ رون ، قسمت کھان " ( روپ والی لڑکیاں روتی ہیں اور قسمت والی راج کرتی ہیں) ۔۔۔
نا ساری روپ والی لڑکیاں روتی ہیں نا ساری کم شکل قسمت سے راج کرتی ہیں۔ نوے فیصد راج وھی کرتی ہیں جو خوبصورت ہیں۔ بد شکلوں کی تو یہ دنیا نا کبھی تھی نا ھوگی
باقی آپ کمنٹس میں جتنا مرضی فلسفہ لکھ دیں۔ رھے گا وہ فلسفہ ھی۔ حقیقت وھی جو میں نے بیان کی ھے۔ معاشرہ ابھی وہ آنکھیں نہیں رکھتا جو اندر کی خوبصورتی دیکھ سکے ۔۔۔

شور میں صداؤں کـے
اجنبی ھواؤں کـے
کون سننـے والا ھـے؟
کس سـے اب کہا جائـے؟
گفتگو پہ پہرے ھیں
ہر طرف کٹہرے ھیں ،
راستـے معین ھیں ،
ھر قدم پہ لکھا ھـے
کس جگہ پہ رکنا ھـے؟
کس طرف چلا جائـے ؟
دل کی بات کہنـے کا
اک یہی طریقہ ھـے
چھپ کـے ساری دنیا سـے،
اب گھروں کـے کونوں میں
آپ ھی سنا جائـے،
آپ ھی کہا جائـے ۔۔
"امجد اسلام امجد"



آدمی ایک دفعہ دل سے اُتر جائے تو پھر
ساتھ رہ سکتا ہے, درکار نہیں رہ سکتا
مشکلیں ہیں, کوئی تہوار نہیں ہے مرے دوست
آدمی پہلے سے تیار, نہیں رہ سکتا !
اسامہ عندلیب
"وہم"
.
وہ نہیں ہے
تو اُ س کی چاہت میں
کس لیے
رات دن سنورتے ہو
خود سے بے ربط باتیں کرتے ہو
اپنا ہی عکس نوچنے کے لیے
خود اُلجھتے ہو، خود سے ڈرتے ہو
ہم نہ کہتے تھے
ہجر والوں سے ، آئینہ گفتگو نہیں کرتا
.
محسن نقوی
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain