میں ہواؤں کی دھن پہ رکھی ہوئی ،
ایک گھائل سی شام کا قصہ۔۔۔!
فتنہ پرداز ، دغا باز ، فسوں گر ، عیار
ہائے افسوس دل آیا بھی تو آیا کس پر
داغ دہلوی
کیجئے بھی تو کیا کیجئے اب انجمن آرائی
وہ لوگ نہیں لوٹے، وہ شام نہیں آئی
: رضی اختر شوق
اللَّهُمَّ هَوِّنْ، ثُمَّ هَوِّنْ، ثُمَّ هَوِّنْ
ثُمَّ أَرِحْ نَفْسًا لَا يَعْلَمُ بحَالِهَا إِلَّا أَنْتَ.
اے اللّٰہ! آسانی فرما، پھر آسانی فرما، پھر آسانی فرما، پھر اس جان کو راحت عطا فرما جس کے حال کو تیرے سوا کوئی نہیں جانتا
آمین🤲
اُس نے پوچھا
محبت کے بعد کیا ہوتا ہے؟
میں نے کہا
عشق
پھر وہ بولی
عشق سے بھی بڑا کیا ہے؟
میں نے اُس کے ہاتھ تھامےآنکھوں میں دیکھااور نرمی سے کہا
"امان"
یہی کہ ہم کبھی خفا ہوں کبھی بحث کریں
کبھی کچھ لمحوں کو دور ہو جائیں
مگر دل کے کسی گوشے میں
یقین زندہ رہے۔کہ یہ سب بیت جائے گا
کہ ہم اپنے وعدے پر قائم رہیں گے
کہ جو ہمارے درمیان ہے وہ فاصلوں، حالات اور خفا ہونے کی گھڑیوں سے
کہیں زیادہ مضبوط ہے۔
یہی تو امان ہے۔
جو معذرت زخم کی شدت کے مطابق نہ ہو تو وہ معذرت خود ایک زخم ہے
حدود وقت سے باہر عجب حصار میں ہوں
میں ایک لمحہ ہوں صدیوں کے انتظار میں ہوں
: عادلؔ منصوری
(یوم وفات 6 نومبر 2008)
سُوکھتی ہی جاتی ہیں سب ہری بھری شاخیں
آپ تو یہ کہتے تھے ، پُھول کھلنے والے ہیں
شوقِ دشت پیماٸی ! ہم نے گھر جلا ڈالا
اب کہیں بھی لے چل تُو ، ہم ترے حوالے ہیں
راشد نواز
DD pe bi profile Lock ka option hona chaye
na koi dekhy na koi dikhy
بَڑا زِیرَک بہت دانا تُجھے ہَم جانتے تھے
دِلِ ناداں تِری اِس حَشر سامانی سے پہلے۔۔۔!
مبین مرزا
میں منقش ہوں تری روح کی دیواروں پر
تو مٹا سکتا نہیں بھولنے والے مجھ کو
محسنؔ احسان
❞آج بھی شام اُداس رہی❝
آج بھی تَپتی دُھوپ کا صَحرا
تیرے نرم لبوں کی شَبنم
کے سائے سے مَحروم رہا
آج بھی پتھر ھہجر کا لمحہ
صَدیوں سے بیخُواب رُتوں کی
آنکھوں کا مَفہوم رہا
آج بھی اپنے وَصل کا تارا
راکھ اُڑاتی شوخ شَفق کی
منزل سے مَعدُوم رہا
آج بھی شہر میں پاگل دِل کو
تیری دید کی آس رھی
مدّت سے گُم صُم تنہائی
آج بھی میرے پاس رہی
آج بھی شام اُداس رہی۔
(مُحسن نَقوی)
بس اتنی سچائی سے جیئیں کہ جب کوئی آپ سے یہ کہے کہ تمھیں تمھارے کئیے کا پھل ضرور ملے گا،
تو وہ ”دعا لگے بد دعا نہیں“.
دل تو ہے دل، دل کا اعتبار کیا کیجیے
آ گیا جو کسی پہ پیار کیا کیجیے
میں جو ہوں.....! وہ ہونے کی
اداکاری بھی نہیں کر سکتے آپ!
مُسکرانے کے ارادے اے خُمارؔ
بارہا اشکوں میں ڈھل کر رہ گئے
✍️ : خمار بارہ بنکویؔ
ہوش اڑ جائیں گے اے زلف پریشاں تیرے
گر میں احوال لکھا اپنی پریشانی کا
: مصحفی غلام ہمدانی
ہُوا سُکوں بھی مُیسّر تو اضطراب رہا
دلِ خراب ہمیشہ دلِ خراب رہا __ 🖤
سلیم احمد
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain