Damadam.pk
Sania_786_me's posts | Damadam

Sania_786_me's posts:

Sania_786_me
 

خالی سینے میں دھڑکتے ہوئے آوازے سے
بھر گئی عمر مری سانس کے خمیازے سے
منتظر ہی نہ رہا بامِ تمنا پہ کوئی
اور ہوا آ کے گزرتی رہی دروازے سے
شامِ صد رنگ مرے آئینہ خانے میں ٹہھر
میں نے تصویر بنانی ہے ترے غازے سے
اور کچھ ہاتھ نہ آیا تو مری آنکھوں نے
چُن لیے خواب ہی بکھرے ہوئے شیرازے سے
مقصود وفا

Sania_786_me
 

اچھا ہوا کہ ترکِ تعلق ہی کر لیا
آنکھوں کو انتظار کی زحمت نہیں رہی
✍️ : رخسارؔ ناظم آبادی

Sania_786_me
 

ہجر و وصال کی سردی گرمی سہتا ہے
دل درویش ہے پھر بھی راضی رہتا ہے
: ظہیرؔ کاشمیری

Sania_786_me
 

زندگانی نوحہ ہے
ان تمام لمحوں کا
جن میں تم ضروری تھے
اور کہیں نہیں تھے تم
پھر تمہاری چوکھٹ پر
پھول رکھ گیا کوئی؟
پھر تمہاری آنکھوں میں
خواب دَھر گیا کوئی؟
پھر کسی کی چاہت پر
اعتبار آیا ہے؟
پھر سے میرےحصے میں
انتظار آیا ہے؟
فریحہ نقوی

Sania_786_me
 

بہادری کا فسانہ بھی رائیگاں ہی گیا
ترا تو اگلا نشانہ بھی رائیگاں ہی گیا
نہ کوئی زوق رفاقت نہ کوئی رسم ستم
وہ دلبری کا زمانہ بھی رائیگاں ہی گیا
ذرا سا آنکھ اٹھی اور نمی دکھائی دی
ہمارا ہنسنا ہنسانا بھی رائیگاں ہی گیا
بجھا دئیے ہیں مرے یک بہ یک تمام چراغ
ہوا سے ہاتھ ملانا بھی رائیگاں ہی گیا
سماعتوں پہ لگے قفل کھل نہیں پائے
ہمارا شور مچانا بھی رائیگاں ہی گیا
کومل جوئیہ

Sania_786_me
 

رنگ سے خالی ہر جگہ پہ یار
تیری تصویر اک بنانی ہے
آپ دیکھے ہی جا رہے ہیں ہمیں
آپ نے کیا نظر لگانی ہے ؟
رفعت جبیں 🤍

Sania_786_me
 

بوجھ آنکھوں کا اب ہٹائے کوئی
خواب کو چاہئے کہ آئے کوئی
تیرا آسیب ھو گیا ھے مجھے
مجھ میں رہتے ہوں جیسے سائے کوئی
اسکی سانسوں کی خیر ھو مولا
اسکی دھڑکن مجھے سنائے کوئی
ٹیس اٹھے ہمارے سینے میں
اور کرلائے ہائے ہائے کوئی ♡
ردا زینب شاہ

Sania_786_me
 

ایک ہندو شاعر کہتا ہے
رسم دیوالی کی ہے میرے گھر میں لیکن
آنگن میں رکھتا ہوں اِک دیا علیؐ ع کے نام کا 🪔
روشنیوں کا کوئی دین دھرم نہیں ہوتا۔
دیوالی مبارک
🌺

Sania_786_me
 

وہ درد ہی نہ رہا ورنہ اے متاعِ حیات!
مجھے گماں بھی نہ تھا میں تجھے بھلادوں گا
ناصر کاظمی

Sania_786_me
 

دل سے کیا پوچھتا ہے زُلفِ گرہ گیر سے پوچھ
اپنے دیوانے کا احوال تو زنجیر سے پوچھ
✍️ : امداد امام اثرؔ

Sania_786_me
 

دنیا کا سب سے آسان کام اپنی ذات کے ساتھ زیادتی کرنا ہے۔ بعض دفعہ ہم خود کے خود مجرم ہوتے ہیں ۔۔۔!!!

Sania_786_me
 

کسی کے ہجر میں احساس مر گئے میرے
میں اک ولی تھا جسے دکھ دکھائی دیتے تھے

Sania_786_me
 

وہ بے حسی ہے مسلسل شکستِ دل سے اب
کوئی بچھڑ کے چلا جائے، غم نہیں ہوتا

Sania_786_me
 

دل اپنا کہیں ٹھہرے تو ہم بھی کہیں ٹھہریں
اس کوچے میں آ رہنا اس کوچے میں جا رہنا
: نوحؔ ناروی

Sania_786_me
 

یہ کیسی رات ہے جس کا ستارہ کوئی نہیں
تمہارے ہوتے ہوئے بھی __ ہمارا کوئی نہیں
درِ وجود پہ دستک ہوئی تو پوچھا کون
پھر ایک شخص دروں سے پکارا کوئی نہیں
وہ چند لمحے جو تم سونپ کر چلے گئے تھے
وہیں پہ رکھے ہوئے ہیں گزارا کوئی نہیں
تیری نگاہ نئے راستے بتاتی ہے
ہمارے واسطے لیکن اشارہ کوئی نہیں
احمد وقاص

Sania_786_me
 

نگاہ _ دل سے بتا جسم کی زباں سے نہیں
کہاں کہاں سے ہمارا ہے تو کہاں سے نہیں
بڑا عجیب مرے ہمسفر کا فلسفہ ہے
شروع ہوگا ہمارا سفر یہاں سے نہیں
میں اپنی تیزی ء رفتار کا نشانہ بنا
یہ تیر ہاتھ سے مجھ کو لگا کماں سے نہیں
تو کیا بس اتنا تمہیں اعتبار ہے ہم پر
فلاں فلاں سے رکھو رابطہ فلاں سے نہیں
ہم اپنے صحن سے نکلے ہوئے شجر تھے فراغ
گلی سے یاد کئے جائیں گے مکاں سے نہیں
اظہر فراغ

Sania_786_me
 

زرا سا سانس لیتی ہوں چبھن محسوس ہوتی ہے
میرے اندر کسی دکھ کی گھٹن محسوس ہوتی ہے
مجھے سودا نہیں کرنا مگر کیا پوچھ سکتی ہوں
تجھے بھی کیا میری خاطر لگن محسوس ہوتی ہے ؟

Sania_786_me
 

ایسا نہیں کہ ہار نہیں جانا چاہئیے
بس آپ کا وقار نہیں جانا چاہئیے
اس خوش بدن نے پیار سے دو پل چھوئے تھے ہاتھ
کچھ سال یہ خمار نہیں جانا چاہئیے
میں خود ہدف بنی ہوں کہ اس بدگمان کا
خالی کوئی بھی وار نہیں جانا چاہئیے
شائد وہ شخص حال کسی روز پوچھ لے
مالک ! ابھی بخار نہیں جانا چاہئیے
اک بار کوئی آپ کو جب مسترد کرے
اس سمت بار بار نہیں جانا چاہئیے
خواہش وصال کی ہو طلب ہو جنون ہو
سب جائے ، اعتبار نہیں جانا چاہئیے
کومل جوئیہ

Sania_786_me
 

کے اب اس عمر میں ہیں
کسی سے سوچ نہیں مل رہی
کسی سے خواب نہیں مل رہے
کوئی آپ سے ملنا نہیں چاہتا
تو کسی سے آپ نہیں مل رہے۔

Sania_786_me
 

حدِ امکان پہ بنیاد نہیں رکھنی ہے
مجھے وہ شکل بھی اب یاد نہیں رکھنی ہے
عشق کرنا ہے اسی شاہِ خدوخال کے ساتھ
اور جسموں کی کشش یاد نہیں رکھنی ہے
اپنی مرضی کے مناظر سے نہ ہٹنے پائے
آنکھ اس درجہ بھی آزاد نہیں رکھنی ہے
آخری شخص تجھے پہلی طلب کہتا ہوں
کوئی خواہش بھی ترے بعد نہیں رکھنی ہے
ہم کسی روز اٹھا پھینکیں گے باہر دل کو
ہم نے سینے میں یہ افتاد نہیں رکھنی ہے
آزاد حسین آزاد