خالی سینے میں دھڑکتے ہوئے آوازے سے
بھر گئی عمر مری سانس کے خمیازے سے
منتظر ہی نہ رہا بامِ تمنا پہ کوئی
اور ہوا آ کے گزرتی رہی دروازے سے
شامِ صد رنگ مرے آئینہ خانے میں ٹہھر
میں نے تصویر بنانی ہے ترے غازے سے
اور کچھ ہاتھ نہ آیا تو مری آنکھوں نے
چُن لیے خواب ہی بکھرے ہوئے شیرازے سے
مقصود وفا
اچھا ہوا کہ ترکِ تعلق ہی کر لیا
آنکھوں کو انتظار کی زحمت نہیں رہی
✍️ : رخسارؔ ناظم آبادی
ہجر و وصال کی سردی گرمی سہتا ہے
دل درویش ہے پھر بھی راضی رہتا ہے
: ظہیرؔ کاشمیری
زندگانی نوحہ ہے
ان تمام لمحوں کا
جن میں تم ضروری تھے
اور کہیں نہیں تھے تم
پھر تمہاری چوکھٹ پر
پھول رکھ گیا کوئی؟
پھر تمہاری آنکھوں میں
خواب دَھر گیا کوئی؟
پھر کسی کی چاہت پر
اعتبار آیا ہے؟
پھر سے میرےحصے میں
انتظار آیا ہے؟
فریحہ نقوی
بہادری کا فسانہ بھی رائیگاں ہی گیا
ترا تو اگلا نشانہ بھی رائیگاں ہی گیا
نہ کوئی زوق رفاقت نہ کوئی رسم ستم
وہ دلبری کا زمانہ بھی رائیگاں ہی گیا
ذرا سا آنکھ اٹھی اور نمی دکھائی دی
ہمارا ہنسنا ہنسانا بھی رائیگاں ہی گیا
بجھا دئیے ہیں مرے یک بہ یک تمام چراغ
ہوا سے ہاتھ ملانا بھی رائیگاں ہی گیا
سماعتوں پہ لگے قفل کھل نہیں پائے
ہمارا شور مچانا بھی رائیگاں ہی گیا
کومل جوئیہ
رنگ سے خالی ہر جگہ پہ یار
تیری تصویر اک بنانی ہے
آپ دیکھے ہی جا رہے ہیں ہمیں
آپ نے کیا نظر لگانی ہے ؟
رفعت جبیں 🤍
بوجھ آنکھوں کا اب ہٹائے کوئی
خواب کو چاہئے کہ آئے کوئی
تیرا آسیب ھو گیا ھے مجھے
مجھ میں رہتے ہوں جیسے سائے کوئی
اسکی سانسوں کی خیر ھو مولا
اسکی دھڑکن مجھے سنائے کوئی
ٹیس اٹھے ہمارے سینے میں
اور کرلائے ہائے ہائے کوئی ♡
ردا زینب شاہ
ایک ہندو شاعر کہتا ہے
رسم دیوالی کی ہے میرے گھر میں لیکن
آنگن میں رکھتا ہوں اِک دیا علیؐ ع کے نام کا 🪔
روشنیوں کا کوئی دین دھرم نہیں ہوتا۔
دیوالی مبارک
🌺
وہ درد ہی نہ رہا ورنہ اے متاعِ حیات!
مجھے گماں بھی نہ تھا میں تجھے بھلادوں گا
ناصر کاظمی
دل سے کیا پوچھتا ہے زُلفِ گرہ گیر سے پوچھ
اپنے دیوانے کا احوال تو زنجیر سے پوچھ
✍️ : امداد امام اثرؔ
دنیا کا سب سے آسان کام اپنی ذات کے ساتھ زیادتی کرنا ہے۔ بعض دفعہ ہم خود کے خود مجرم ہوتے ہیں ۔۔۔!!!
کسی کے ہجر میں احساس مر گئے میرے
میں اک ولی تھا جسے دکھ دکھائی دیتے تھے
وہ بے حسی ہے مسلسل شکستِ دل سے اب
کوئی بچھڑ کے چلا جائے، غم نہیں ہوتا
دل اپنا کہیں ٹھہرے تو ہم بھی کہیں ٹھہریں
اس کوچے میں آ رہنا اس کوچے میں جا رہنا
: نوحؔ ناروی
یہ کیسی رات ہے جس کا ستارہ کوئی نہیں
تمہارے ہوتے ہوئے بھی __ ہمارا کوئی نہیں
درِ وجود پہ دستک ہوئی تو پوچھا کون
پھر ایک شخص دروں سے پکارا کوئی نہیں
وہ چند لمحے جو تم سونپ کر چلے گئے تھے
وہیں پہ رکھے ہوئے ہیں گزارا کوئی نہیں
تیری نگاہ نئے راستے بتاتی ہے
ہمارے واسطے لیکن اشارہ کوئی نہیں
احمد وقاص
نگاہ _ دل سے بتا جسم کی زباں سے نہیں
کہاں کہاں سے ہمارا ہے تو کہاں سے نہیں
بڑا عجیب مرے ہمسفر کا فلسفہ ہے
شروع ہوگا ہمارا سفر یہاں سے نہیں
میں اپنی تیزی ء رفتار کا نشانہ بنا
یہ تیر ہاتھ سے مجھ کو لگا کماں سے نہیں
تو کیا بس اتنا تمہیں اعتبار ہے ہم پر
فلاں فلاں سے رکھو رابطہ فلاں سے نہیں
ہم اپنے صحن سے نکلے ہوئے شجر تھے فراغ
گلی سے یاد کئے جائیں گے مکاں سے نہیں
اظہر فراغ
زرا سا سانس لیتی ہوں چبھن محسوس ہوتی ہے
میرے اندر کسی دکھ کی گھٹن محسوس ہوتی ہے
مجھے سودا نہیں کرنا مگر کیا پوچھ سکتی ہوں
تجھے بھی کیا میری خاطر لگن محسوس ہوتی ہے ؟
ایسا نہیں کہ ہار نہیں جانا چاہئیے
بس آپ کا وقار نہیں جانا چاہئیے
اس خوش بدن نے پیار سے دو پل چھوئے تھے ہاتھ
کچھ سال یہ خمار نہیں جانا چاہئیے
میں خود ہدف بنی ہوں کہ اس بدگمان کا
خالی کوئی بھی وار نہیں جانا چاہئیے
شائد وہ شخص حال کسی روز پوچھ لے
مالک ! ابھی بخار نہیں جانا چاہئیے
اک بار کوئی آپ کو جب مسترد کرے
اس سمت بار بار نہیں جانا چاہئیے
خواہش وصال کی ہو طلب ہو جنون ہو
سب جائے ، اعتبار نہیں جانا چاہئیے
کومل جوئیہ
کے اب اس عمر میں ہیں
کسی سے سوچ نہیں مل رہی
کسی سے خواب نہیں مل رہے
کوئی آپ سے ملنا نہیں چاہتا
تو کسی سے آپ نہیں مل رہے۔
حدِ امکان پہ بنیاد نہیں رکھنی ہے
مجھے وہ شکل بھی اب یاد نہیں رکھنی ہے
عشق کرنا ہے اسی شاہِ خدوخال کے ساتھ
اور جسموں کی کشش یاد نہیں رکھنی ہے
اپنی مرضی کے مناظر سے نہ ہٹنے پائے
آنکھ اس درجہ بھی آزاد نہیں رکھنی ہے
آخری شخص تجھے پہلی طلب کہتا ہوں
کوئی خواہش بھی ترے بعد نہیں رکھنی ہے
ہم کسی روز اٹھا پھینکیں گے باہر دل کو
ہم نے سینے میں یہ افتاد نہیں رکھنی ہے
آزاد حسین آزاد
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain