بےگھروں کے لیے میدان بہت ہوتا ہے
دیکھ لینا بھی میری جان بہت ہوتا ہے
اول اول تو ضروری ہے محبت لیکن
عزتِ نفس کا نقصان بہت ہوتا ہے
پاس رہنے کی حقیقت سے بھی ہم واقف ہیں
چھوڑ جانے کا امكان بہت ہوتا ہے
یہ الگ بات ہے تجھ سے نہیں کرتا شکوہ
ورنہ باتوں پر تیری دھیان بہت ہوتا ہے
آنکھ کا پردہ کریں کس لیے ہم جانتے ہیں
دل پر فائز کیا دربان بہت ہوتا ہے
زخم کھانے کے لیے خوشیاں منانے کے لیے
سچ کہوں ایک انسان ہی بہت ہوتا ہے
تجدید قیصر
کوئی تدبیر کرو ، وقت کو روکو یارو
صبح دیکھی ہی نہیں ، شام ہوئی جاتی ہے
افتخار عارف
ملیں تو کیسے سمندر کے پار ہوتے ہوئے
وہ سوچتا ہی نہیں بے قرار ہوتے ہوئے
میں تابناک ہوں اور کیسے بجھ کے بیٹھی ہوں
چمک رہا ہے قمر داغدار ہوتے ہوئے
میں اعتبار کے قابل نہیں لگا خود کو
سمٹ رہا تھا کوئی آشکار ہوتے ہوئے
تری گرفت میں رہنا بھی کافی خوش کُن تھا
اداس ہیں ترے قیدی فرار ہوتے ہوئے
اداسیاں ترے پہلو میں خودکشی کر لیں
جیے خوشی ترا سایہ شمار ہوتے ہوئے
عائشہ شفق
پھر یوں ہوا کے ساتھ تیرا چھوڑنا پڑا
ثابت ہوا کے لازم و ملزوم کچھ نہیں
پھر یوں ہوا کہ راستے یکجا نہیں رہے
وہ بھی انا پرست تھا میں بھی انا پرست
پھر یوں ہوا کہ ہاتھ سے کشکول گر گیا
خیرات لے کے مجھ سے چلا تک نہیں گیا
ﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺩﺭﺩ ﮐﯽ ﻟﺬّﺕ ﺑﮭﯽ ﭼﮭﻦ ﮔﺌﯽ
ﺍﮎ ﺷﺨﺺ ﻣﻮﻡ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﺘﮭﺮ ﺑﻨﺎ ﮔﯿﺎ
پھر یوں ہوا کہ لب سے ہنسی چھین لی گئی
پھر یوں ہوا کہ ہنسنے کی عادت نہیں رہی
پهر یوں ہوا کہ، زخم نے جاگیر بنا لی
پهر یوں ہوا کہ، درد مجھے راس آ گیا
پھر یوں ہوا کہ، وقت کے تیور بدل گئے
پھر یوں ہوا کہ راستے یکسر بدل گئے
پھر یوں ہوا کہ حشر کے سامان ہوگئے
پھر یوں ہوا کہ شہر بیابان ہوگئے
پھر یوں ہوا کہ صبر کی انگلی پکڑ کے ہم
اتنا چلے کہ راستے حیران ہوگئے......!
پروین شاکر
اِک چُپ کی اختراع ہے، آواز سے نہیں
مجھ میں جو سوز ہے وہ کسی ساز سے نہیں
کیسے کسی شعور کی وسعت میں آئے گی
وہ ابتدا جو نقطہ _ آغاز سے نہیں
موسیقیت کی میم سے بھی نابلد ہے وہ
جس کا بھی رابطہ تری آواز سے نہیں♡
یعنی گریز بھی ہے پس_آرزوئے عشق
وہ لے گی میرا نام مگر ناز سے نہیں ♡
مجھ ایسے سرد مہر پہ لہجے نہ آزما
دِل،دِل سے زیر ہوتا ہے الفاظ سے نہیں ♡
نثار محمود تاثیر
کرچیاں چُنتا ہوں تو حیرانی بہت ہوتی ہے
دکھ نہیں ہوتا، پیشمانی بہت ہوتی ہے
فیصلہ سخت سہی اُس سے بچھڑ جانے کا
بعدازاں ہجر میں آسانی بہت ہوتی ہے
اکثر اوقات میں خالی ہی پڑا رہتا ہوں
بعض اوقات فراوانی بہت ہوتی ہے
میں ابھی دیکھ کے آیا ہوں ہرے جنگل کو
سبز پیڑوں میں بھی ویرانی بہت ہوتی ہے
اُن دنوں میں نظر انداز ہوا ہوتا ہوں
جن دنوں میری نگہبانی بہت ہوتی ہے
فاصلہ رکھئیے مناسب سا خرد مندی سے
عقل آ جائے تو نادانی بہت ہوتی ہے
آپ نے زخم دیا، ہم نے سہا، کافی ہے
دیکھئے اتنی مہربانی بہت ہوتی ہے ♡
مقصود وفا
گر دیر سے آئے گا ہمیں یاں نہ پائے گا
ہم تیرے انتظار کے لیے نہیں بنے
اپنی بناوٹوں سے ہمیں دور رکھ کہ ہم
جیسے بھی ہیں، غبار کے لیے نہیں بنے
یا تو نہیں بنا ہے وسیلہ ء تشنگاں
یا ہم اس آبشار کے لیے نہیں بنے
ماہ نور رانا
تھی جس میں لاگ ، تمہارا لگاؤ دیکھا ہے
وہ جس کو پیارسمجھتے ہو، جاؤ دیکھا ہے
جلا کے راکھ کرے گا یہ سرد مہری تری
مرے وجود میں جلتا الاؤ دیکھا ہے؟
ہے دیکھا روپ مرا تم نے بپھرے دریا سا ؟
ابھی تو نرم ندی سا بہاؤ دیکھا ہے
کمالِ ضبط میں یہ رکھّ رکّھاؤ دیکھا ہے؟
جو ہم نے سینچا ہے، سرسبزگھاؤ دیکھا ہے؟
تھی جس میں لاگ ، تمہارا لگاؤ دیکھا ہے
وہ جس کو پیارسمجھتے ہو، جاؤ دیکھا ہے
جلا کے راکھ کرے گا یہ سرد مہری تری
مرے وجود میں جلتا الاؤ دیکھا ہے؟
ہے دیکھا روپ مرا تم نے بپھرے دریا سا ؟
ابھی تو نرم ندی سا بہاؤ دیکھا ہے
یہ بے نیازی تری خوب ہے، مگر میں نے
جو میری سمت ہے تیرا جھکاؤ ، دیکھا ہے
نہیں ہے جان بچانے کی اب سبیل کوئی
جو ہم نے کھیلا ہے اب کے، وہ داؤ دیکھا ہے؟
دیا ہے مفت لیا ہے تو جان کے بدلے
دلوں کی بات میں کب بھاؤ تاؤ دیکھا ہے
تمہارے دھیان سے سنورے ہیں خد و خالِ سخن
سبھاؤ شعر کا دیکھا ؟ رچاؤ دیکھا ہے؟ ۔
مُحَمَّــدﷺ
اللّٰھُمّ صَلَّی عَلیٰ سَیّدِنا وَ مَولانا مُحَمَّدِ
وَّ عَلیٰ آلِهٖ وَصَحْبِه وَبَارِك وَسَّلِمْ ❤️
جیسے دامن سےکوئی خاک جھٹک دے عارف
اس نے یوں توڑ دیا ربط "شناسائی" کا 🖤
عارف فیضی
ملتے ہیں مشکلوں سے یہاں، ہم خیال لوگ
تیرے تمام چاہنے والوں کی خیر ہو
پیروں میں اس کے سر کو دھریں، التجا کریں
اک التجا کہ جس کا نہ سر ہو نہ پیر ہو
ہم مطمئن بہت ہیں اگر خوش نہیں بھی ہیں
تم خوش ہو، کیا ہوا جو ہمارے بغیر ہو
کچھ تو ہو درمیان، بچھڑنے کے بعد بھی
کچھ بھی، بھلے قلق ہو، شکایت ہو، بیر ہو
عمیر نجمی
یہ جو ہنستے ہوئے چہرے نظر آتے ہیں
یار یہ ہنستے ہوئے چہرے اگر رو دیں تو؟
یار! ہم لوگ ، جن کے پاس فقط محبت ہے
یار! ہم لوگ، محبت بھی اگر کھو دیں تو؟
ہم وہ ماضی کی تھکن زار مشینیں ہیں کہ جو
جام ہو جاتی ہیں، انجام سے ٹکراتے ہوئے
خاک ہو جائیں گے اک روز، قضا سے پہلے
ہم ترے ہجر کی اقسام سے ٹکراتے ہوئے
عرباض عرضی
ہے یک طرفہ تعلق ختم یہ بہتان کر ڈالوں
یہی بہتر ہے دل کا اپنے کچھ نقصان کر ڈالوں
تمہیں آواز دے کر روک لینے سے تو بہتر ہے
تمہیں اک الوداعی نظم کا عنوان کر ڈالوں
ہما علی
کتابِ آرزو کے گمشدہ کچھ باب رکھے ہیں
تیرے تکیے کے نیچے بھی ھمارے خواب رکھے ہیں
✍️ : غلام محمّد قاصرؔ
دُکھ وی اپنے، سُکھ وی اپنے
میں تے بَس ایہہ جانا
سب نُوں سمجھ کے کی کرنا ای
دِل نُوں ایہہ سمجھاواں
تو جھوم۔۔ جھوم
آرزو وصل کی رکھتی ہے پریشاں کیا کیا
کیا بتاؤں کہ مرے دل میں ہیں ارماں کیا کیا
✍️ : اخترؔ شیرانی
(یوم وفات 9 ستمبر 1948)
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَدْمِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ التَّرَدِّي، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْغَرَقِ، وَالْحَرَقِ، وَالْهَرَمِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ يَتَخَبَّطَنِي الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ فِي سَبِيلِكَ مُدْبِرًا،
وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ لَدِيغًا
اے اللہ! میں (دیوار کے نیچے) دب جانے سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اونچائی سے گر پڑنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں، ڈوب جانے اور جل جانے سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ شیطان موت کے وقت مجھے بہکا دے، اور اس بات سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میری موت تیرے راستہ یعنی جہاد میں پیٹھ دکھا کر بھاگتے ہوئے آئے، اور اس بات سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ کسی موذی جانور کے ڈس لینے سے میری موت ہو“۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5535]
آمین
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain