آخری ڈر تیرا بچھرنا تھا
آخری بار بھی ڈر چکے ہیں ہم
ہم تری زلف کے سائے کو بہت دن ترسے
اور پھر ہم نے درختوں پہ قناعت کر لی ♡
اسامہ عندلیب
یاد کے زخم سے تاثیر اُٹھانے لگ جاؤں
اشک پر شعر کہوں، دل کو سنانے لگ جاؤں
میں نے یہ بات کہی پاس بِٹھا کر خود سے
کیوں نہ اے شخص! ترے کام بھی آنے لگ جاؤں؟
چیخ اٹھتا ہوں میں اکثر شبِ تنہائی میں
چپ رہوں تو کوئی کہرام مچانے لگ جاؤں
اپنے اندر کی لگی آگ بُجھانے کے لیے
نارسائی! تجھے اظہار میں لانے لگ جاؤں!
پُرسہ داری کی روایت تو پرانی ہے سعید
میں ترے سینے کسی اور بہانے لگ جاوں♡
مبشر سعید
پڑا ہے ہجر تو ایسے ہی جی لبھاتے ہیں
اب اُسکے جادو بدن کے ترانے گاتے ہیں
ہمیں منا بھی لیا کر ،کہ مان رہ جائے
ہم ایسے لوگ مروت میں روٹھ جاتے ہیں
نمی تو خاک کی تہہ میں قیام کرتی ہے
ہم ایسے ہیں نہیں جیسا تمہیں دکھاتے ہیں
ہَم اُسکے ذہن پہ اک عرصہ تک سوار رہے
سو بقیہ عمر یہی اک خوشی مناتے ہیں
جوان ہوتے ہی جس نے بکھرنا ہوتا ہے
ہم ایسے خواب کو اپنا لہو پلاتے ہیں
عبداللہ ضریم
توقع
جب ہوا
دھیمے لہجوں میں کچھ گنگناتی ہوئی
خواب آسا ، سماعت کو چھو جائے ، تو
کیا تمھیں کوئی گزری ہوئی بات یاد آئے گی ؟
خموشی میری لے میں گنگانا چاہتی ہے
کسی سے بات کرنے کا بہانا چاہتی ہے
نفس کے لوچ کو خنجر بنانا چاہتی ہے
محبت اپنی تیزی آزمانا چاہتی ہے
مبادا شہر کا رستہ کوئی رہ رہ نہ پا لے
ہوا قبروں کی شمعیں بھی بجھانا چاہتی ہے
گلابوں سے لہو رستا ہے میری انگلیوں کا
فضا کیسی چمن بندی سکھانا چاہتی ہے
میں اب کے اس کی بنیادوں میں لاشیں چن رہا ہوں
امارت کوئی قصر دلبرانہ چاہتی ہے
جہاں پتھر سہی لیکن جنوں کی خود نمائی
فریب جلوۂ آئینہ خانہ چاہتی ہے
(عبدالرؤف عروج)
جو چاند بجھا نہ مجھ سے اب تک،
وہ رات تم نے گزاری کیسے 🤍
سنو سائل مانگنے کا ڈھنگ تو بتا جاؤ
ہو سکے تو اک حرف التجا سکھا جاؤ
برسوں سے پھیلائے ہوئے ہوں خالی دامن
وہ کر دے کرم اپنا ایسا اسم تو بتا جاؤ
آنکھ کی نمی بھی نہ کام آئی میرے
سنو بوند کو موتی کیسے بناتے سکھا جاؤ
میرے در و دیوار پر ہر سو ویرانی کا ڈیرا
سنو خزاں کو بہار کیسے کرتے یہ بتا جاؤ
عالیہ انور✍️
رات کو روز ڈوب جاتا ہے
چاند کو تیرنا سِکھانا ہے
بیدل حیدری
عزیز اگر نہیں رکھتا نہ رکھ ذلیل ہی رکھ
مگر نکال نہ تو اپنی انجمن سے مجھے
وحشت رضا کلکتوی
اپنی حالت کا مجھے دھیان نہیں ہوتا ہے
عشق سچا ہو تو آسان نہیں ہوتا ہے
تجھ سے مل کر مجھے پہلے سی خوشی ملتی نہیں
تو مجھے دیکھ کے حیران نہیں ہوتا ہے
خیریت پوچھتا ہے صرف دکھاوے کے لیے
وہ مرے حال سے انجان نہیں ہوتا ہے
پہلے سے بڑھ کے محبت ہے مجھے تجھ سے اب
کیوں یقیں تجھ کو مری جان نہیں ہوتا ہے
کب کہا یہ کہ محبت نہیں کرتا ہے تو
تیرے ہونے پہ مجھے مان نہیں ہوتا ہے
ہمانشی بابرا
شاموں میں بہترِین ہے تِری گُفتَگُو کی شام
صُبحوں میں مُعتَبَر تِری صُبحوں کا ذِکر ہے
تُو آخری خَیال ہے سونے سے پیشتَر
اور جاگنے کے بعد میری پہلی فِکر ہے۔۔۔!
عقیل عباس چغتائی
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain