جگہ جگہ پہ ترا نام لکھ رہا ہوں میں !
پتہ بھی ہے کہ صدائیں نہیں لکھا کرتے
اُسے بتاؤ کہ ترکِ وفا کے خط میں کبھی
خبر کے ساتھ دعائیں نہیں لکھا کرتے !
کئی لوگوں کو لگتا ہے کہ سچا پیار ایک دفعہ ہوتا ہے.۔۔!
پر اُنہیں یہ نہیں معلوم کہ ہم ایک زندگی میں کئی زندگیاں جیتے ہیں...!
خود پسندی کی نہیں بات کرامت کی ہے
ہم نے جس شخص کو چاہا وہی مشہور ہوا
نادیہ گیلانی
پھر ان کی گلی میں پہنچے گا پھر سہو کا سجدہ کرلے گا!
اس دل پہ بھروسہ کون کرے ہر روز مسلماں ہوتا ہے!
"_پوری سردی ساگ مٹر بناتے گزر گئیں 🤧
اب ساری گرمی بوتلیں بھرنے میں گزرے گی _"🥺♥️🌸
آپ جیسوں کو رسائی نہ مل سکی مجھ تک
آپ جیسے تو کہیں گے "انگور کھٹے ہیں"
نا رکھنا خاص تم ہم کو، بھلے ہی عام رکھ لینا
مگر محفل میں تم اپنی، ___ہمارا نام رکھ لینا
تمھارے نام سے پہلے______ ہمارا نام آئے تو
ہمارے نام کو بے شک____ برائے نام رکھ لینا
گوارا گر نہ ہو تم کو__ ہمیں احباب میں رکھنا
تمھیں یہ بھی اجازت ہے، ہمیں گمنام رکھ لینا
ﺗﺎﺛﻴﺮ ﮨﯽ ﺍﻟﭩﯽ ﮨﮯ ﺍﺧﻼﺹ ﮐﮯ ﺍﻣﺮﺕ ﮐﯽ
ﮨﻢ ﺟﺲ ﮐﻮ ﭘﻼﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮨﯽ ﺯﮨﺮ ﺍﮔﻠﺘﺎ ﮨﮯ
ہر لڑکی کو زندگی میں بنگلہ گاڑی دولت شہرت اور آسائشیں نہیں چاہیے ہوتیں کچھ لڑکیوں کے لیے ایک مخلص شخص کا کندھا ہی کافی ہوتا ہے...!!
ھم گداگر نہیں ، بس یونہی تمہارے آگے
ھاتھ پھیلایا ھُوا ، آنکھ جھکائی ھُوئی ھے♥️
بہت عجیب ہے یہ بندیشیں محبت کی
نہ اس نے قید میں رکھا نہ ہم فرار ہوے
کھانے کے بعد شوہر اٹھا
اپنی پلیٹ دھو کر رکھ دی بیوی غصّے سے بولی
کر دیا نا عزت کا فالودہ ہم گھر پر نہیں ہوٹل میں ہیں🤦😔😕
تیرے اُکتائے ہوئے لمس سے محسوس ہوا
اب بچھڑنے کا تیرا وقت ہوا چاہتا ہے
اجنبیت تیرے لہجے کی بتا دیتی تھی
تو خفا ہے تو نہیں ، ہونا خفا چاہتا ہے
کر دیا اظہارِ الفت ہم نے بھی پھر فون پر
بات تو انمول تھی پر دو روپے میں ہو گئی
ہم تیری زندگی سے یوں جائیں گے
جیسے حادثے میں جان جاتی ہے
🖤
اس نے چھوڑا ہے کچھ ایسے کہ کمی رہتی ہے
اس لیے روز یہ آنکھوں میں نمی رہتی ہے
ً
دھوپ کی ساری تمازت کا اثر کوئی نہیں
دل کے موسم میں فقط برف جمی رہتی ہے
منزلوں پے ہے نئی راہ نیا اذن سفر
ہر کسی سانس پے ہجرت کی ٹھنی رہتی ہے
روز کھا لیتا ہوں لوگوں سے نیا کوئی فریب
روز لوگوں سے ہی امید بنی رہتی ہے
دھوپ میں دیتی ہے سایہ مجھے ممتا کی دعا
ایک چادر سی مرے سر پے تنی رہتی ہے
شاعر
سید عقیل شاہ...
رشتے اور تعلق نبھانا ایک فن ہے
جس کے لیے دولت کی نہیں
محض احساس کی ضرورت ہوتی ہے
بھیڑ اتنی میرے اطراف رہا کرتی تھی
ہر منافق کو قدردان سمجھ لیتی تھی
انکھیاں دی رکھوالی رکھ
عینک پانویں کالی رکھ
اِکّوں یار نال یاری لا
دشمن پانویں چالی رکھ
عیباں اُتّے پردہ پا
تھالی اُتّے تھالی رکھ
چھڈ مثالاں لوکاں دیاں
اپنا آپ مثالی رکھ
آغاز میں تو تھی
دریاۓ نیل سے بھی گہری
انجام کو پہنچی تو
صحرا ہوئی محبت!🖤
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain