آغاز محبت کا انجام بس اتنا ہے
جب دل میں تمنا تھی اب دل ہی تمنا ہے
✍️جگر مراد آبادی
میری آنکھوں سے تیری یاد کا سایہ نہیں جاتا۔۔۔۔۔۔🖤🥀
میں نے مان لیا تم کو بھلایا نہیں جاتا۔!!!
اک مدت سے تیرا نام لکھا تھا دل پر۔۔
میں کیا کروں وہ مجھ سے مٹایا نہیں جاتا۔۔۔!!!!!🥀
ہونے والے تو خود ہی ہوجاتے ہیں۔!!
کسی کو کہہ کر اپنا بنایا نہیں جاتا۔۔۔🖤🥀
مجھے آج تک وہ اشارہ نہیں ملا😕
جو سمجھ دار کے لیے کافی ہوتا ہے 🙄
میرے ہم سخن کوئی بات کر❤️
کبھی یوں بھی مل میرے ہمنوا..
مجھے آپ اپنی خبر نہ ہو
یوں گرا ٖفصیلِ غرور کو...
میری چاہتوں کو پناہ دے
کبھی روح میں آ کے اتر زرا...❤️
میری دھڑکنوں سے کلام کر
میرے عشق کو لا زوال کر...
میری زات کو بے مثال کر
میری زیستِ جاں ِ میرے مہرباں...
میرے راز دان بس کبھی کبھی
میری خاموشی سے کلام کر...!!❤️
حدِ اَدراک سے آگے ھے ، تیرے قرب کی شام
ڈھونڈنے تجھ کو کہاں ، چاند ستارے جاتے
تجھ سےمنسُوب ھُوئے ، تو یہ حسرت ھی رھی
ھم کبھی ، اپنے حوالے سے پکارے جاتے۔۔۔
گزار دی , غمِ عقبٰی میں تُو نے اے واعظ
نظر کا تیر نہ کھایا،، بڑا گناہ کیا!!!
خواب ہوتے ہیں دیکھنے کہ لیے
ان میں جا کر بسا نہیں کرتے
دس وارث شاہ اسیں کی کر ئیے
ساڈا کوئی نہ پاوے مُل
اساں ماں پیو دے لاڈاں پلے
تے گئے مٹی وِچ رُل
دس وارث شاہ اسیں کی کرئیے
ساڈے سینے وچ کِل
لوکاں دے دِلاں اُتے زخم
تے ساڈا زخماں دے وچ دل
دس وارث شاہ اسیں کی کرئیے
ساڈا کوئی نہ پاوے مُل
ساڈے منہ تے ھاسے اینج سج دے
جیویں قبراں اُتے پُھل
دس وارث شاہ اسیں کی کرئیے
ساڈا کوئی نہ پاوے مُل
اے دوست! اَب سہاروں کی عادت نہیں رہی
تیری تو کیا کسی کی ضرورت نہیں رہی
اَب کے ہماری جنگ ہے خود اپنے ہی آپ سے
یعنی کہ جیت ہار کی وُقعت نہیں رہی
عادت اکیلے پَن کی جو پہلے عذاب تھی
اب لُطف بن گئی ہے اذیت نہیں رہی
برسے گا ٹوٹ ٹوٹ کر ابرِ محبتاں
ہم چیختے رہیں گے کہ حاجت نہیں رہی
اِک روز کوئی آئے گا لے کر کے فرصتیں
اِک روز ہم کہیں گے ضرورت نہیں رہی
سوچوں تو سانس بند ہو،دیکھوں تو دل کٹے
ایسے حسین لوگ جدا کر دئیے گئے
عجیب درد ہے دل کے ہر ایک کونے میں
سکون مل رہا ہے مجھ کو آج رونے میں
یہ کیا کہ پھینک دیا استعمال کر کے
ذرا سا فرق تو رکھو دل اور کھلونے میں 😥
اتنی بڑی کائنات کے، ایک چھوٹے سے سیارے پہ لاکھوں سالوں کی تاریخ میں چند سالوں کے لیے آیا ہوا انسان کیسے سمجھ لیتا ہے کہ۔۔۔
"میں" ہی سب کچھ ہوں۔۔؟_*❤🔥
سجدے کی طاقت یہ ہے کہ فرش کی
سرگوشی عرش پر سنی جاتی ہے💯
میری تحریر سے وہ ڈھونڈنے نکلے ہیں مجھ کو. 💓🥀
میں نے بھی حرف لکھے ہیں ہاتھ نہ آنے والے. 💓🥀
محبت کی رسم کچھ ,اس طرح سے پوری ہو
کہ وفا کے ساتھ ساتھ , احترام بھی ضروری ہو
دل بیشک , بندھے رہیں چاہت کی ڈور کے سنگ
بندھے نہ گر نکاح کا بندھن , جسموں میں دوری ہو ,,
از قلم
عشرت ناصر
آنے والی نسلوں کا تو بیڑا غرق ہی سمجھو 🤨
کیونکہ اُنکے سیانے بزرگ ہم ہوں گے 😕🙊🤷
😁😁😁😁😁
اے نصیر۔۔۔ ان کو اپنا بنا لیں گے ہم۔۔۔
کوئی صورت تو نکلے۔۔۔ ملاقات کی 🥀
جھکے گا سجدے میں سر یہ مرا سدا رب کے
جو ایک نیکی کا بدلہ ہزار دیتا ہے
شیزا جلالپوری
ڈر تو یہ ہے کہ تو تقسیم نہ الفت کر دے
تو کہ مشہور ہے لوگوں میں سخاوت والا
میں کہ خوش رو نہ خوش طبعی ہے عادت میری
تو کہ پیارا بھی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور نرم طبیعت والا
ایک پل میں آنکھ دریا ، دل مرا صحرا ہؤا
وقت سے پوچھا تو بولا میں سدا کس کا ہؤا
ٹوٹتے ہیں خواب جب جب یاد آتا ہے خدا
آج پھر مشکل پڑی لو آج پھر سجدہ ہؤا
جو نظر آئے تجھے لازم نہیں ویسا ہی ہو
دور سے تو آسماں بھی لگتا ہے جھکتا ہوا
جب تلک تھی روشنی تو تھا ہجومِ دلبراں
بجھ گیا تو یاد کس کو تھا دیا جلتا ہؤا
آئینے کی آنکھ میں آنسو چھلک آتے ہیں اب
اس نے دیکھا تھا ہمیشہ خود کو بس ہنستا ہؤا
اس قدر بد دل ہے اب دل روز جاتا ہے بدل
آج دعوے دار اسِ کا ، کل کہے اُس کا ہؤا
کاٹ کر انجام جس نے ہاتھ سے بدلا تھا خود
وہ بھی ہم سے پوچھتا ہے بول کیا قصہ ہؤا
خاک ابرک اب خریدے گا بھرے بازار سے
اب محبت نام کا منسوخ ہے سکہ ہؤا
۔۔۔۔۔۔ اتباف ابرک
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain