کوئی ترسے یار دی جھلک لئی....!!! کوئی کھڑکھڑ ہسے یار دے سنگ....!!! کوئی عشق دے وچ پنج وقتی اے....!!! کوئی بلھےوانگوں وکھرےرنگ....!!! کیتھےیار مناوان دا چج کوئی نا....!!!! کیتھے عشق سکھاوےسارے رنگ....!!! کیتھے عشق سولی چڑھ جاوے....!!! کیتھے ہوئے نے مست ملنگ..❤️
کُچھ لوگوں کی اذیتوں میں شِدّت صرف اِس وجہ سے ہوتی ہے کیوں کہ ؛ اُنہیں ترکِ تعلق نہیں آتا ، اُنہیں کِسی سے کُچھ چھیننا نہیں آتا ، اُنہیں جیتنا نہیں آتا ، اُنہیں مُنافقت نہیں آتی ، وہ ایک دفعہ جِس کو اپنے قریب کر لیں پھر اُن کو اُن کے بچھڑنے پر صبر نہیں آتا ، اور حقیقت بتاوں!؟ ایسے لوگوں کا استعمال بُہت کِیا جاتا ہے یار، اُنہیں بیوقوف سمجھا جاتا ہے ، اور پھر یہ بھی حقیقت ہی ہے کہ ؛ یہ دُنیا سچے جذبوں کی بڑی توہین کرتی ہے۔۔
عظیم ہیں وہ لوگ ۔۔ جو بستر پر لیٹتے ہی آنکھیں بند کر کے سو جاتے ہیں 😴 میں تو ڈیڑھ گھنٹہ ماضی ، ایک گھنٹہ حال اور آدھا گھنٹہ مستقبل کے بارے میں سوچنے کے بعد موبائل چارجنگ ختم ہونے تک جاگتی رہتی ہو 😂😂🙄☹️🤷♀️
🌴زندگی سے کیا سیکھا ؟ 1.زندگی جتنی سادہ ہو اتنا ہی اچھا ہے۔ 2.اگر آپ ابھی اپنی زندگی سے خوش نہیں رہ سکتے تو کبھی نہیں ۔ 3.چیخنا چلانا بیکار ہے۔کبھی غصے سے فائدہ نہیں ہوتا ۔ 4.آپ ہر کسی کو خوش نہیں رکھ سکتے ۔ 5.بولنے سے زیادہ خاموشی میں مزا ہے۔مختصر بات کریں ۔ 6.چھوڑ دیں امپریس ہونا ،کمپئر کرنا۔۔ 7.صرف وہی کریں جس میں آپکو مزا آئے چاہے پیشہ ہو یا پڑھائی ۔ 8.دوست کم ہوں لیکن مخلص ۔ 9.مائنڈ سیٹ تو بڑی چیز ہے اللّٰہ اکبر ۔ 10.کسی سے بحث نا کریں ۔آپ کا ذہنی سکون بہت اہم ہے۔ 11.لوگوں سے پہلے اپنی ہیلپ کرنا سیلفش نہیں ہوتا ۔ 12.لوگوں کی خوشیوں میں خوش ہوں ۔جیلس نہیں ۔ 13.دنیا میں سب سے زیادہ خوش رکھنے والی ذات پہلے آپکی ہے.
اس طرح نہیں کرتے، رابطہ تو رکھتے ہیں,,, تھوڑا ملنے جلنے کا سلسہ تو رکھتے ہیں,,, !! منزلیں بلند ہوں، تو مشکلیں بھی آتی ہیں،،،٫٫ مشکلوں سے لڑنے کا، حوصلہ تو رکھتے ہیں!! جو تمہارے اپنے ہوں تم سے پیار کرتے ہوں٫٫٫٫ ان کا حال کیسا ہے٫ کچھ پتہ تو رکھتے ہیں!!
کوئی حیرت ہے نہ اس بات کا رونا ہے ہمیں خاک سے اٹھے ہیں سو خاک ہی ہونا ہے ہمیں پھر تعلق کے بکھرنے کی شکایت کیسی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب اسے کانچ کے دھاگوں میں پرونا ہے ہمیں انگلیوں کی سبھی پوروں سے لہو رستا ہے۔۔ اپنے دامن کے یہ کس داغ کو دھونا ہے ہمیں پھر اتر آئے ہیں پلکوں پہ سسکتے آنسو۔۔۔۔۔ پھر کسی شام کے آنچل کو بھگونا ہے ہمیں یہ جو افلاک کی وسعت میں لیے پھرتی ہے اس انا نے ہی کسی روز ڈبونا ہے ہمیں۔۔۔۔۔۔۔۔ احمد خیال